ملی تشخص اور پاکستان

ملی تشخص اور پاکستان
ملی تشخص اور پاکستان

  

علامہ محمد اقبال فرماتے ہیں کہ ”دین اسلام میں ایک غیر محسوس حیاتی اور نفسیاتی عمل پوشیدہ ہے جو بغیر کسی تبلیغی کوششوں کے بھی عالمِ انسانی کے فکر و عمل کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے“۔

انگریزوں کے طویل دور غلامی کے باعث مسلمان قوم ایک مایوس اور منتشر ہجوم میں تبدیل ہو چکی تھی۔ علامہ اقبالؒ  نے اسلام کا پرچم اپنے ہاتھ میں لیا اور یہ اسلام ہی کی تجلی اور معجزہ تھا کہ مسلمانوں کا منتشر ہجوم علامہ اقبالؒ کے پیغام سے بیدار ہو کر دوبارہ ایک قوم بن گیا۔ علامہ اقبالؒ کے نزدیک مسلمان قوم کا تحفظ دینِ اسلام کے تحفظ سے مشروط تھا۔ اسلامی تعلیمات کو ہی بنیاد بنا کر علامہ اقبالؒ نے مسلمانوں کے اندر ملی تشخص کو اُجاگر کیا۔ علامہ اقبالؒ نے فرمایا کہ مسلمانوں اور دنیا کی دوسری قوموں میں اصولی فرق یہ ہے کہ قومیت کا اسلامی تصور دوسری اقوام کے تصور سے بالکل مختلف ہے۔ ہماری قومیت کا اصل اصول نہ اشتراکِ زبان ہے، نہ اشتراکِ وطن، اور نہ ہی اقتصادی اغراض کا اشتراک بلکہ ہم لوگ اس برادری میں جو جناب رسالت مآبؐ نے قائم کی تھی اس لئے شامل ہیں کہ مظاہر کائنات کے متعلق ہم سب کے معتقدات کا سرچشمہ ایک ہے۔

قومیت کا ملکی تصور جس پر زمانہ حال میں بہت حاشیئے چڑھائے گئے ہیں، اپنی آستین میں اپنی تباہی کے جراثیم کی خود پرورش کر رہا ہے۔ اسلامی تصور ہمارا وہ ابدی گھر ہے، جس میں ہم اپنی زندگی بسر کرتے ہیں،جو نسبت انگریزوں کو انگلستان سے اور جرمنوں کو جرمنی سے ہے، وہ ہم مسلمانوں کی اسلام سے ہے۔

علامہ اقبالؒ نے اپنے اس تصور کو ایک شعر کی صورت میں بھی بیان کیا ہے۔

اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ

علامہ اقبالؒ نے اسلامی قومیت کے تصور کو نظم اور نثر دونوں میں مسلسل پیش کیا اور اس احمقانہ سیاسی تصور کو پوری قوت کے ساتھ مسترد کر دیا کہ مسلمان اور کافر ایک قوم ہو سکتے ہیں۔ مصطفوی نظامِ حیات اور ابولہبی نظام میں اشتراک کیسے پیدا ہو سکتا ہے۔

بمصطفیٰؐ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست

اگر بہ او نہ رسیدی تمام بولہبی است

مسلمانوں کے ملی تشخص کے تحفظ اور بقا کے لئے علامہ اقبالؒ کی تعلیمات اور نظریات ہی آخر کار پاکستان کی بنیاد ثابت ہوئے۔ اور یہ بات بھی حقیقت ہے کہ علامہ اقبالؒ نے مسلمانوں میں ان کے ملی تشخص کی جو روح بیدار کی تھی۔ اگر علامہ اقبالؒ کے اس تصور اور خواب کو عملی جامعہ پہنانے کے لئے قائد اعظمؒ جیسا تاریخ ساز اور صدی کا بے مثل راہنما میسر نہ آتا تو پاکستان کبھی قائم نہ ہوتا۔ پاکستان کی فکری اور نظریاتی بنیاد رکھنے والے علامہ اقبالؒ ہیں اور ان بنیادوں پر پاکستان کی عمارت تعمیر کرنے والے قائد اعظمؒ ہیں، اور اس حقیقت کو بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ قرآن کی اصطلاح میں اللہ کی رسی کو اگر برصغیر کے مسلمانوں نے مضبوطی کے ساتھ اپنے ہاتھوں میں نہ پکڑا ہوتا تو مسلمان قوم کبھی اس ہلاکت انگیز طوفان سے محفوظ نہ ہوتی جو ہندو کی غلامی کی صورت میں ان کا منتظر تھا۔ علامہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں کا قافلہ متحد اور منظم ہوا، لیکن اصل قوت جس نے مسلمانوں کو جسد ِ واحد میں تبدیل کر دیا وہ اسلام کی وحدت خیز قوت تھی۔ اسلام ہی کے نام پر مسلمانوں کے سینے ان متلاطم خیز جذبوں سے معمور ہوئے جن کے سامنے انگریزوں کی حکمت عملی اور ہندو قوم دونوں کی سیاست ناکام ہو گئی اور پاکستان معرض وجود میں آ گیا۔ علامہ اقبالؒ نے ہمیں بتایا تھا کہ دین اسلام کو فرد اور ریاست دونوں کی زندگی میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔

علامہ اقبالؒ نے ہی ہماری یہ راہنمائی کی کہ اسلام کی تقدیر خود اس کے اپنے ہاتھ میں ہے، اسلام کی تقدیر کو کسی اور کے سپرد نہیں کیا جا سکتا۔ علامہ اقبالؒ کے اسی پیغام سے ملت محمدیہ کو یہ نکتہ سمجھ آیا کہ مسلمانوں کی تقدیر اور مسلمانوں کے فیصلے اسی صورت میں اپنے ہاتھ میں رہ سکتے ہیں جب برصغیر میں مسلمانوں کی اپنی آزاد اور خود مختار مملکت ہو گی۔ مسلمانوں کا اپنا نظام سیاست ا ور نظام معاشرت ہے۔ اگر اسلام اپنے معاشرتی اور سیاسی نظام سے الگ ہو جائے تو پھر ایسی صورت میں مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کا رشتہ اسلام سے ختم ہو کر رہ جاتا ہے۔ علامہ اقبالؒ نے ہمیں یہی تعلیم دی تھی کہ مسلمان قوم اسلام کے اصولِ اتحاد کو وطن کی بنیاد پر قوم کے تصور پر قربان نہیں کر سکتی۔ اسلام کی اساس پر مسلم قومیت کے اصول کو منوانے کے بعد ہی ہم حصول پاکستان میں کامیاب ہوئے تھے۔ مسلمانوں کا ملی وجود اور ملی تشخص صرف اور صرف اسلام کا مرہونِ منت ہے اور قائد اعظم نے مسلمانوں کی آزادی کے لئے جو تاریخ ساز جدوجہد کی تھی وہ مسلمانوں کے ملی تشخص کی مضبوط بنیاد پر ہی کی تھی اور ہمارے ملی تشخص کی بنیاد صرف اور صرف اسلام ہے علامہ اقبالؒ نے یونہی نہیں فرمایا تھا کہ جو یہ کہتا ہے کہ ملت وطن سے ہے وہ مقامِ محمد عربیؐ سے بے خبر ہے۔ ظاہر ہے یہاں ملت سے مراد ملتِ اسلامیہ ہے ملتِ کفر نہیں۔

مزید :

رائے -کالم -