" ذرا نم ہوتو یہ مٹی بڑی زرخیز ہےساقی "

" ذرا نم ہوتو یہ مٹی بڑی زرخیز ہےساقی "

  


 14 ستمبر 2019 پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک مایوس کن دن تھا ، یہ وہ دن تھا جب ہماری سیاست پروفیسرڈاکٹر محمدطاہرالقادری جیسی عظیم اور ہمہ جہت شخصیت کی خدمات سے یکسرمحروم ہوگئی ۔ پوری دنیا میں جبکہ آپ کی احیائے دین , اصلاح احوالِ امہ کےلیےگرانقدر خدمات , آپ کی علمی روحانی , تعلیمی اورفلاحی خدمات , سیاسی بصیرت اور اسلامی امورِمعاشیات پر گہری نظر کا اعتراف کیاجاتاہے۔ آپ ایک بہترین ماہرِقانون , اسلامی فقہ کےماہر اورایک عظیم مصنف بھی ہیں ۔ ایسے میں پاکستان کے تباہ کن سیاسی اور معاشی حالات میں ڈاکٹر صاحب کا سیاست سےریٹائرمنٹ کا اعلان کسی عظیم سانحے سے کم نہیں ہے ۔ یہ ہمارے ملک اور قوم کی سراسر بدقسمتی ہے کہ ہم ایک گوہرِنایاب سےمحروم ہوگئے  مگرہمارے ہاں غالب اکثریت اس شعور , فہم اور ادراک سے محروم ہے اور انہیں احساس تک نہیں کہ انہوں کیاکچھ کھویاہے؟۔

اگرہمارا شعور بیدار ہوتاتو ہمیں پچھتاوا ہوتا , ندامت ہوتی , احساس ہوتا  مگرافسوس ہمارےبےحس معاشرےمیں اہلِ علم و دانش کی یکسرکوئی قدر نہیں ۔ ڈاکٹر طاہرالقادری 39 سال ہمیں یہ سمجھاتے رہے کہ پاکستان کا مسئلہ اقتدار کی مسند پر براجمان ہونے والے چہرے بدلنے سے حل نہیں ہوگا بلکہ موجودہ فرسودہ نظام کو مکمل طورپر بدلنے سے حل ہوگا،وہ ہمیں باور کراتے رہےکہ یہ گونگا بہرہ اوراپاہج نظام کبھی پاکستان کوخوشحالی کےراستےپرچلنےنہیں دےگا،وہ کہاکرتے تھےکہ سب سےپہلےدھاندلی زدہ انتخابی نظام کوبدلنے کےلیے آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے مطابق امیدواروں کی سکروٹنی کی جائے تاکہ صرف صادق اور امین افراد ہی میرٹ کی بنیاد پر انتخابات میں حصہ لے کر پارلیمان میں عوامی نمائندگی کرسکیں اور بدعنوان عناصر کو انتخابی نظام سے باہر کیا جاسکے ۔ وہ چاہتے تھے کہ ایک عام شہری بھی میرٹ پر عوامی نمائندگی کےلیے پارلیمان میں پہنچ سکے اور انتخابی اخراجات کا تخمینہ کنٹرول کیاجاناچائیے ۔وہ سینیٹ کے انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کا تدارک چاہتے تھے،وہ اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل ہوتےدیکھنا چاہتےتھے، اس کےلیےانہوں نے مقامی حکومتوں کےنظام کو مئوثر بنانےکی حمایت کی ۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نئےاور چھوٹےصوبوں کے قیام کے پرزور حامی تھے،وہ ملک میں اسلامی نظامِ معیشت , اصول تجارت اور بلاسود بینکاری کا خاکہ دیناچاہتے تھے تاکہ ملکی معیشت میں سدھارآئے۔وہ عالمی مالیاتی اداروں سے سودی قرضے لینے پر یقین نہیں رکھتے تھے۔وہ ملک کو کرپشن فری بنانے کےلیے کڑے احتساب کے خواہاں تھے، وہ نظامِ عدل , قانونی ڈھانچے , پولیس ,نظام تعلیم , صحت , زراعت , صنعت و تجارت سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی میں اصلاحات کے خواہاں تھے۔اب سوال یہ پیدا ہوتاہےکہ وہ انتخابی سیاست کا حصہ کیوں نہیں بننا چاہتے تھے ؟تو اس کا مختصر ترین جواب یہ ہے کہ اُنہوں نے انتخابی اصلاحات کا جو مطالبہ کیا تھا , وہ پورا نہ ہونے کی وجہ سے دھاندلی زدہ انتخابی سیاست کا حصہ نہیں بننا چاہتے تھے۔معزز قارئین کااگلا سوال یہ ہوگا کہ اُنہوں نے"انقلاب "کانعرہ کیوں لگایا ؟؟ تو اس کا سب سے مختصر جواب یہ ہے کہ وہ اس فرسودہ نظام کاخاتمہ اور اصلاحات چاہتے تھے۔اگلاسوال ہوگا کہ دھرنا کیوں ختم کیا؟؟؟ تو اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ وہ کشت و خون نہیں چاہتے تھے,لہذٰا پرامن رہے۔اگلا سوال ہوگا کہ وہ ماڈل ٹاون کیس کےلیے کیوں کچھ نہیں کرتے ؟؟؟ اسکامختصرترین جواب یہ ہےکہ ماڈل ٹاؤن کیس کی تفتیش,ملزمان کی نشاندہی اوران کےخلاف ثبوت فراہم کرناسرکاری انتظامیہ کی آئینی ذمہ داری ہے جبکہ عدالت میں مقدمے کی پیروی پاکستان عوامی تحریک گزشتہ کئی سالوں سے کررہی ہے اور وکلاء کی فیسیں شہدائے ماڈل ٹاون کے لواحقین کی بجائے پاکستان عوامی تحریک خود ادا کرتی ہے۔

یہ ہے پروفیسرڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی بھرپور غلطیوں اور کوتاہیوں کی وہ فہرست جس کےباعث پاکستانی سیاست میں ان کی کوئی جگہ نہیں ہے۔کوئی کینیڈین شہریت کولےکر تنقید کرتا رہاتو کوئی عالمِ دین قراردےکرسیاست سےدوررہنےکے مشورےدیتارہا یاپھرشایدمخالف پروپیگنڈہ سےمتاثر ہوکرہم مسلکی اختلافات میں اتنےآگےنکل گئے کہ ہم پروفیسرڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی شخصیت کی قائدانہ خوبیوں,انتظامی صلاحیتوں اور نوربصیرت سےاستفادہ نہ کرسکے۔آج نقصان کس کا ہوا ؟؟؟ ارے نادان لوگو!!! خسارےسارے ہمارے ملک و قوم کے حصےمیں آنےوالےہیں۔ہم نےگھاٹےکاسوداکیا۔ اس کااحساس مستقبل قریب میں ہونا شروع ہوگا اوراس کا یہ سلسلہ رکےگا نہیں بلکہ آنے والی نسلیں بھی ہمیں ملامت کریں گی اورتاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرےگی۔ہم تو 14 بے گناہ شہدائےماڈل ٹاون کےلواحقین کوانصاف تک نہ دے سکے۔یہ صلہ دیا ہم نے پروفیسرڈاکٹرمحمد طاہرالقادری کی 39 سالہ مخلصانہ جدوجہدکا, جوانہوں نے ہمارامستقبل سنوارنے کےلیےکی ہے۔

شہدائےماڈل ٹاؤن کا خونِ ناحق آج بھی انصاف کامنتظرہے۔شا یداب بھی وقت ہے اگر ہم سنجیدگی سے پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کےانقلابی نظریات اپنالیں تو ہمیں اس زبوں حالی سے نجات مل سکتی ہے۔یہ یاد رکھیے شخصیات تو چلی جاتی ہیں مگر نظریات دائمی ہوتے ہیں ۔منہاج القرآن کے کارکنان کے لیے پیغام ہے کہ آپ نے مایوس نہیں ہونا بلکہ اپنے عظیم قائد کے مشن کو جاری رکھنا ہے۔اس صبروتحمل ,استقامت , مستقل مزاجی , خلوص نیت اور انتھک محنت کی ضرورت ہے۔کوئی چاہے کتنا ہی بددل اور مایوس کیوں نہ کرے , آپ نے ہمت کبھی نہیں ہارنی ہے۔آپ راہِ حق پر ہیں اور آپ نے ثابت قدم رہنا ہے۔آپ کے عظیم قائد کے نظریات ہمیشہ آپ کی راہنمائی کرتے رہیں گے۔ تحریک منہاج القرآن ایک مذہبی اصلاحی تحریک ہےلہذٰا آپ اپنے سیاسی پلیٹ فارم " پاکستان عوامی تحریک " کو بھی فعال بنائیں، آپ " پاکستان عوامی تحریک " کےلیے میرٹ پر قیادت کا انتخاب کریں  کہ :ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی " ۔ شخصیات کی بجائے ادارے مضبوط بنانا زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ


loading...