ہمارے پیارے نانا ابو 

ہمارے پیارے نانا ابو 
ہمارے پیارے نانا ابو 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


مولانا میاں محمد شوکت ہمارے نانا ابو تھے اور ہمارے نانا ابو ہم سے بے حد پیار کرتے تھے  اور ہم سب بچوں میں گھر مل جاتے ہم بچوں کو پیار کے ساتھ قصے سناتے اور سنتا کشتی کھیلتے بہت سی پیاری باتیں بتاتے اور ہم سے پیار بھی خوب کرتے اور ہم سے مراد ہم نہیں پورے خاندان کے چھوٹے بچے جی ہاں ہمارے نانا جناب میاں محمد شوکت پورے خاندان بھر کے  بچوں سے پیار کرتے تھے اور ہم بھی انہی بچوں میں سے ایک ہیں ہم نانا ابو نانی امی دادا ابو دادی اماں سب کے لاڈلے تھے ہیں اور رہینگے  ہمیں یاد ہے کہ جب ہمارے والد صاحب ہماری کسی غلطی پہ ہمیں ڈانٹنے کی کوشش کرتے تو ہماری دادی جمشیدہ بیگم ہمارے والد صاحب سے لڑائی کرتی کے فیصل میرا پت   ہے  کچھ نا آنکھیں  بالکل ویسے ہی میں اپنے نانا ابو میاں محمد شوکت اور نانی سلامت بیگم کا لاڈلا نواسہ تھا اور یہ بھی یاد ہے کہ میرے والد صاحب ہمیں چھٹیوں میں ہمیں حیدرآباد بھیجتے تھے اور  ہم ٹرین میں بیٹھ کے حیدرآباد جاتے اور سفر کے مزے اٹھاتے اور بتلا دیں  کے حیدرآباد ہمارا  پہلا گھر جہاں آنکھ کھولی بچپن لطیف آباد  سات نمبر میں گزرا اور حیدر آباد میں ہمارے نانا کا گھر تھا ہماری پیدائش بھی حیدرآباد کی ہے لطیف آباد سات نمبر میں بچپن گزرا اور جیسا کہ پہلے بتایا کہ ہم بچپن سے ہی خاندان کے لاڈلے ہیں اور بڑے شامی صاحب کے تو ایسے لاڈلے ہیں کہ کسی کی سوچ ہو گی چار بھائی ہیں لیکن جو شامی صاحب کے دل میں میری یعنی فیصل شامی کے لئے جگہ ہے وہ شائد ہی کسی کے لئے کہو شائد اس لئے کہ  میں اپنی اماں جان یعنی دادی  اماں  کا لاڈلا تھا اور دادی اماں  جو تھی ہماری وہ ہمارے والد صاحب کو بھی ہمارے لئے ڈانٹ دیتی تھی اور بڑے شامی صاحب کو کہتی تھی فیصل میرا پت ہے اینوں کچھ نا آنکھیں اور  ویسے تو میں اپنی نانی اور نانا ابو میاں محمد شوکت صاحب کا بھی  لاڈلا ٹھرا میاں محمد شوکت مرحوم حیدرآباد سے جماعت اسلامی کے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے لیکن ایسے رکن تھے جن کو ایم کیو ایم  کے کارکنان نے کبھی اسمبلی میں جانے نہیں دیا ہمارے سامنے ہی ایم کیو ایم کے کارکنان نے ہمارے نانا ابو کا دفتر توڑ دیا گیراج توڑ دیا۔ جہاں ہمارے نانا ابو۔ گاڑی کھڑی کیا کرتے تھے اور ہم  نے یہ مناظر بچپن میں اہنی آنکھوں سے دیکھے اور  ایم کیو ایم کے کارکنوں کو دکانداروں سے چندہ لیتے ہوئے بھی  دیکھا اسوقت فی دکان دار دس سے بیس روپے پرچی ہوتی تھی اور دس سے بیس روپے بہت بڑی  بات تھی اور ہمیں یاد ہے کہ ہم پانچ روپے کی گرما گرم   جلیبی لیتے تھے تو پورے گھر والے بھی چکھ لیتے ویسے یہ بتادیں کہ گرما گرم جلیبی  ہمیں بہت پسند ہے اور یہ بھی یاد ہے کہ بچپن میں شام کے وقت جب محلے میں جلیبی کی دکان کھلتی تو سب سے پہلا گاہک ہم ہی بنتے اور یاد ہے کہ محلے میں ایک قلفی والے انکل آتے تھے اور زندگی گزر گئی لیکن آج تک ایسی قلفی نا ملی جو بچپن میں کھاتے تھے اور یہ بھی یاد ہے شام کو حیدرآباد میں ہماری گلی میں پاپڑی والا بھی آتا  اور لطیف آباد سات نمبر مارکیٹ میں پانچ سے دس روپے میں نان کباب آ جاتے تھے جو ہم ضد کر کے نانا ابو سے  کبھی اپنی والدہ سے ضد کر کے  پیسے لیتے تھے اور ذکر ہو رہا ہے ہمارے نانا جناب میاں محمد شوکت صاحب کا تو انکے بارے میں بتائیں  کہ وہ امیر جماعت اسلامی رہے اور اللہ پاک کی  مقدس کتاب قرآن مجید  کا بے شمار زبانوں میں ترجمہ کیا انتہائی شریف النفس انسان  تھے لطیف آباد سات نمبر میں ہی جماعت اسلامی کا پریس تھا جسکے منتظم ہمارے پیارے نانا ابو تھے اور  ہم بھی بچپن میں نانا ابو کے پریس جاتے تھے تو سب خوشی سے کہتے کہ میاں صاحب کے نواسے۔ آ گئے تو ہمیں بھی بے حد خوشی   ہوتی اور یہ بھی بتا دیں کہ ہمارے پیارے نانا ابو میاں محمد شوکت آخری ایام میں لاہور میں ہمارے گھر ہی قیام پزیر رہے اور ہمارے نانا ابو بچوں سے بہت پیار کرتے تھے اور آج ہم بھی سب بچے بڑے ہونے کے باوجود بھی اپنے نانا انو سے بے حد پیار کرتے ہیں اور انکی بلندی درجات کے لئے دعائیں کرتے ہیں کہ اللہ پاک انھیں جنت ال فردوس میں جگہ عطاء فرمائے آمین ثم آمین

مزید :

رائے -کالم -