محکمہ تحفظ ماحولیات کو کنٹریکٹ پر رکھے 39 ملازمین کو مستقل کرنے کا حکم

محکمہ تحفظ ماحولیات کو کنٹریکٹ پر رکھے 39 ملازمین کو مستقل کرنے کا حکم

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس عبدالعزیز شیخ نے محکمہ تحفظ ماحولیات کو کنٹریکٹ پر رکھے جانے والے 39 عارضی ملازمین کو مستقل کرنے کا حکم دے دیا۔فاضل عدالت نے یہ حکم شازیہ پرویز اور دیگر ملازمین کی ایک جیسی درخواستوں کے بعد جاری کیا ،درخواست گزاروں نے اپنی عارضی ملازمتوں اور ممکنہ برطرفیوں کو چیلنج کیا تھا۔ درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ ان کو محکمہ ماحولیات نے ایک پراجیکٹ بنام ‘تحفظ ماحولیات کے ادارے کی استعداد میں اضافے کے ذریعے ماحول کی خرابی پر ریگولیٹری کنٹرول’ کے تحت ملازم رکھا تھا تاہم بعد میں صوبائی حکومت نے وزیر اعلیٰ کے حکمنامے کے تحت اس پراجیکٹ کو مستقل کر دیا مگر ملازمین کو مستقل کرنے کے بجائے برخواست کر دیا جس پر انہوں نے عدالت عالیہ سے رجوع کیا۔محکمہ ماحولیات کے وکیل کا موقت تھا کہ مخصوص مدتی پراجیکٹ اور ان کے ملازمین اس مدت کے خاتمے کے بعد خود بخود برخواست ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کی ملازمتیں اور فنڈز ختم ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے درخواست گزاروں کے اس موقف کو کہ مزکورہ پراجیکٹ مستقل کردیا گیا تھا بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ پراجیکٹ کو مستقل نہیں کیا گیا تھا۔عدالت نے قرار دیا کہ وزیر اعلیٰ کے حکمنامے کے تحت مستقل کیے جانے کے بعد مزکورہ پراجیکٹ اور درخواست گزاروں سمیت تمام ملازمین کی حیثیت مستقل ہوچکی ہے۔ عدالت عظمیٰ کے وضع کردہ ایک اصول کا حوالے دیتے ہوئے عدالت نے قرار دیا کہ کسی پراجیکٹ کو مستقل کئے جانے کے بعد اس کے اہلیت رکھنے والے ملازمین جو تجربہ بھی حاصل کرچکے ہوتے ہیں وہ مستقل کئے جانے کے حقدار ہوتے ہیں۔فاضل جج نے قرار دیا کہ سرکاری امور کی ادائیگی کے دوران عوامی عہدیداروں کو اس امر کی کوشش کی جانی چاہئے کہ ان کے کسی متعصب یا غیر منصفانہ عمل کی وجہ سے کوئی بھی شخص حق روزگار سے محروم نہ ہو جائے۔

مزید : صفحہ آخر