اورنج ٹرین منصوبہ ، عدالت کے حکم پر 4نگران کمیٹیاں تشکیل

اورنج ٹرین منصوبہ ، عدالت کے حکم پر 4نگران کمیٹیاں تشکیل

لاہور( نمائندہ پاکستان) وزیر اعلی پنجاب کے مشیر اور سٹیرنگ کمیٹی کے چیئرمین خواجہ احمد حسان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر میٹرو ٹرین کے تعمیراتی کام کے دوران تاریخی عمارتوں کے حفاظتی انتظامات یقینی بنانے کے علاوہ یہاں آلودگی اور شور کم کرنے کے لئے بھی ضروری اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ان عمارتوں کے قریب مشینری چلنے سے پیدا ہونے والے زمینی ارتعاش اور شور کی پیمائش کے لئے ضروری آلات کی تنصیب کا کام جاری ہے جس کے بعد یہاں تعمیراتی کام شروع کر دیا جائے گا ۔ شالامار باغ‘چوبرجی ‘لکشمی بلڈنگ اور دیگر عمارتوں کی حفاظت کے لئے آہنی شیٹیں لگانے اور انہیں ترپال سے ڈھانپنے کا کام جلد مکمل کر لیا جائے گا ۔ پیکیج ون میں جی ٹی روڈ پر واقع گلابی باغ اور بدھو کے مقبرے کے قریب تعمیراتی کام شروع کر دیا گیا ہے۔ عدالت کے حکم پر منصوبے کی نگرانی کے لئے چار خصوصی کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں جن میں ایڈوائزری کمیٹی‘ٹیکنیکل کمیٹی‘سپیشل کمیٹی اور انڈی پینڈنٹ کنزرویشن انجینئر کی تقرر ی شامل ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں منصوبے کی راہ میں حائل رکاوٹ دور ہو گئی ہے ۔ عدالت کا فیصلہ خوش آئنداور قومی ترقی کی ضمانت ہے ۔ اس منصوبے کو جلد از جلد مکمل کرنے کے لئے شہباز سپیڈ سے کام کیاجائے گا اور سپریم کورٹ کی ہدایات پر سختی سے عمل در آمد کیاجائے گا۔ وہ گزشتہ روز اورنج لائن منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے سلسلے میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ میٹرو ٹرین کے مزید چھے سیٹ چین سے پاکستان پہنچ چکے ہیں ‘ کراچی پورٹ پر کسٹم کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد انہیں لاہور روانہ کر دیا جائے گا ۔ اس طرح ابھی تک کل 11ٹرین سیٹ پاکستان پہنچ گئے ہیں ۔ اجلاس کو بتایا گیا کے مجموعی طور پر منصوبے کا80فیصد تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے ۔ڈیرہ گجراں سے چوبرجی تک پیکیج ون کا88فیصد‘ چوبرجی سے علی ٹاؤن تک پیکیج ٹو کا67 فیصد ‘پیکیج تھری ڈپو کا83فیصد جبکہ پیکیج فور سٹیبلینگ یارڈ کی تعمیر کا84فیصد کام مکمل کیا جا چکا ہے ۔اس کے علاوہ منصوبے کا34فیصد الیکٹریکل ومکینیکل ورکس بھی مکمل کر لیا گیا ہے ۔ خواجہ احمد حسان نے ہدایت کی کہ منصوبے کا الیکٹریکل و مکینکل کام بھی تیز کیا جائے ۔ چینی کنٹریکٹر سی آر نورنکو کی لیبر کو 24گھنٹے سیکورٹی کور مہیا کرنے کے لئے ضروری نفری تعینات کر دی گئی ہے چنانچہ تین شفٹوں میں دن رات کام کیا جائے ۔ اجلاس میں جنرل منیجرآپریشنز پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی سید عزیر شاہ‘ جنرل منیجر نیسپاک سلمان حفیظ ‘ اور لیسکو‘پی ٹی سی ایل ‘سوئی گیس ‘ ریلوے‘ ٹریفک پولیس ‘سول ڈیفنس‘ریسکیو1122 اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلی افسران کے علاوہ منصوبے کے چینی کنٹریکٹر سی آر نورنکو اور چائنہ انجینئر نگ کنسلٹنس کے نمائندوں اور مقامی کنٹریکٹرز نے شرکت کی ۔

اورنج ٹرین

مزید : میٹروپولیٹن 1