ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 43

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 43
ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 43

  

گمراہی کے داخلے پر پابندی

آج میرا خطاب رات کے کھانے کے ساتھ ہونے کی بنا پر ریسٹورنٹ میں تھا۔راستے میں ذوالفقار صاحب نے مغرب کی نمازترکوں کی بنائی ہوئی ایک مسجد میں پڑ ھوائی۔ اس مسجد میں ایک بڑ ی دلچسپ بات دیکھی۔ وہ یہ کہ مغرب کے بعد ایک ساتھ تین حلقہ درس ہورہے تھے ۔ ایک تو ترکوں کا تھا۔ دو ہماری طرف کے تھے ۔ ان میں سے ایک دیوبندی مکتبِ فکرکی تبلیغی جماعت کا تھا اور دوسرا بریلوی مکتبِ فکر کی دعوت اسلامی کا۔

یہ بات اس اعتبار سے بہت اچھی تھی کہ مسلمانوں کی مساجد میں تمام مسلمان اہل علم کو اپنی بات کہنے کی اجازت ہونا چاہیے ۔ ہمارے ہاں تومساجد دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث مساجد میں تقسیم ہیں ۔ یہ ممکن نہیں کہ دوسرے فرقے کا کوئی فرد وہاں درس دے سکے ۔ اس لیے اس پہلو سے یہ بات بڑ ی قابل تحسین تھی کہ سب کو اللہ کے گھر میں اپنی بات کہنے کی آزادی تھی۔مگر اس کی وجہ یہ تھی کہ مسجد ترکوں کے زیر انتظام تھی۔ اگر ہمارے کسی گروپ کی ہوتی تو مجال تھی کہ کسی دوسرے ’’گمراہ‘‘ اور ’’بددین‘‘ گروپ کو وہاں داخلے کی اجازت مل جاتی۔

دنیا بھر میں یہی طریقہ ہے اور یہی ہمیشہ سے مسلمانوں میں رہا ہے کہ مساجد سماج کا مشترکہ اثاثہ ہوتی ہیں اور حکومت کے زیر انتظام ہوتی ہیں ۔ تمام اہل علم کو مساجد میں اپنی بات کہنے کی آزادی ملنا چاہیے اور لوگوں کی مرضی ہو کہ وہ جس کی چاہیں بات سنیں ۔

تاہم یہاں ہونے والے برصغیر کے مسلمانوں کے دو الگ الگ حلقے اس بات کا صاف اشارہ تھے کہ آخر کار ان کی مسجدیں الگ الگ ہی بننا ہیں ۔ اور بننے کے بعد دوسرے گروہ کا وہاں داخلہ ممکن نہیں رہے گا۔ آخر کسی ’’گمراہی‘‘ کو ہم ’’اپنے لوگوں ‘‘ تک پہنچنے کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں ۔ دنیا بھر میں برصغیر کے مسلمانوں نے ملک سے باہر جا کر یہی کیا ہے ۔ آسٹریلیا میں استثنیٰ کا کیا سوال تھا؟

گیلی پولی

اس مسجد کا نام گیلی پولی مسجد تھا۔ گیلی پولی کا نام ترکی اور آسٹریلیا دونوں کے لیے ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے ۔ پہلی جنگ عظیم کے موقع پر ترکی کے محاذ کی سب سے بڑ ی جنگ یہیں لڑ ی گئی تھی۔ جس میں حملہ آور اتحادی فوجوں کو ترکوں نے مصطفی کمال کی قیادت میں آٹھ ماہ کی طویل اور شدید جنگ کے بعد شکست دی تھی۔اس جنگ میں ہزاروں آسٹریلوی فوجی جو اتحادیوں کی طرف سے جنگ میں شریک تھے مارے گئے تھے ۔ ا س بنا پر آسٹریلیا کی تاریخ میں بھی یہ جگہ اہم ہوگئی ہے ۔ 25اپریل کے دن کو جب اتحادی فوجوں نے گیلی پولی پر حملہ کیا تھا ، آسٹریلیا میں قومی تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے ۔گیلی پولی کا نام اسی لیے آسٹریلیا میں بہت معروف تھا اور اسی پس منظر میں مسجد کا نام گیلی پولی رکھا گیا تھا۔

یہ بھی بڑ ی اہم اور قابل توجہ بات تھی کہ جس محاذ پر ان کو شکست ہوئی تھی، اس کو انھوں نے اپنی یادگار بنالیا تاکہ غلطیوں سے سیکھیں ۔دوسری طرف ہماری تاریخ میں سولہ دسمبر موجود ہے جب سقوط ڈھاکہ ہوا تھا۔ اصولاً ہمیں اسے اپنا قومی دن بنالینا چاہیے تاکہ ہم اپنی غلطیو ں سے سیکھیں ۔ یہ سیکھیں کہ لسانی تعصبات، علاقائیت اور کسی قومیت کے لوگوں کے ساتھ نا انصافی کے نتائج کیا نکلتے ہیں ۔ مگر ہمیں غلطیوں سے سیکھنے کا سبق نہیں دیا جاتا ہے بلکہ جھوٹے فخر میں جینا سکھایا جاتا ہے ۔

جاری ہے

مزید : کتابیں /سیرناتمام