چاچا رفیق کے تبصرے

چاچا رفیق کے تبصرے
 چاچا رفیق کے تبصرے

  

اس کی عمر چالیس سے پچاس کے درمیان ہو گی۔ وہ بالکل ان پڑھ ہے۔ پڑھنا بالکل نہیں جانتا، جب پڑھنا نہیں جانتا تو لکھناتو بالکل ہی نہیں جانتا لیکن اسے اخبار پڑھنے کا بہت شوق ہے۔ وہ خود تو پڑھنا نہیں جانتا لیکن اخبار دیکھ کر نہیں سن کر پڑھ لیتا ہے۔

صبح ہوتے ہی اخبار والے کے انتظار میں سڑک کے دائیں طرف ٹکٹکی باندھ کر مسلسل دیکھتاہے کیونکہ اخبار فروش اپنے موٹر سائیکل پر سوار ہو کر اسی طرف سے آتا ہے اور گھروں میں اخبار پھینکتا ہے۔ چاچا رفیق گلی کے کنارے بیٹھے اس کا روزانہ انتظار کرتا ہے۔ وہ ان پڑھ ہونے کے باوجود اخبار والے کا مستقل گاہک ہے۔اخبار فروش بھی عین اس کے پاس پہنچ کر موٹر سائیکل کو بریک لگا کر روکتا ہے۔

اگر اخبار والے کو کسی وجہ سے دیر ہو جائے یا وہ نہ آئے تو چاچارفیق گلی کی ایک نکر سے دوسری نکر تک چہل قدمی شروع کر دیتا ہے اور منہ ہی منہ میں کچھ گنگناتا بھی رہتا ہے۔

ہم نے کئی مرتبہ دیکھا بعض اخباری رپورٹر چاچا رفیق کے گرد حلقہ بنا کر بیٹھے ہیں اور چاچا رفیق کی باتیں سن کر خبریں تلاش کر لیتے ہیں جو اگلے روز اخبار کی شہ سرخیاں ہوتی ہیں۔وہ چوکیدار ہے، تنخواہ اس کی بہت قلیل ہے لیکن وہ اخباری شوق پورا کرنے کے لیے ایک نہیں چار اخبار خریدتا ہے خودتو پڑھ نہیں سکتا اور کسی پڑھے لکھے یعنی پڑھاکو کا انتظار کرتا رہتا ہے تاکہ وہ اخبار بلند آواز سے پڑھے اور چاچا رفیق اس پڑھاکو سے اخبار سنے اور اس طرح چاچا رفیق اخبار پڑھے بغیر سن کر اخبار پڑھ لیتا ہے، جہان بھر کی خبریں اس کے سینے میں محفوظ ہوتی ہیں۔پھر ان پر وہ اپنا تبصرہ کرتا ہے، اس کا تبصرہ ہی اصل بیٹھک کی جان ہوتی ہے۔

آج کے اخبار میں خبر تھی۔۔۔جمہوریت کو پاک فوج سے کوئی خطرہ نہیں(ڈی جی آئی ایس پی آر)۔۔۔اخبار پڑھنے والے کو چاچا نے روکا اور کہنے لگا جمہوریت کو پاک فوج سے کوئی خطرہ نہیں اچھی بات ہے لیکن یہ آگے (ڈی جی آئی ایس پی آر) میری سمجھ میں نہیں آیا کیا ہوتا ہے؟ اس کا کیا مطلب ہے؟ پڑھنے والے نے کہا چاچا یہ خبر نہیں بلکہ ایک افسر کا عہدہ ہے جو فوج کی خبریں دیتا ہے۔

چاچا رفیق بولا یہ کیا نام ہوا۔ بھلا یہ بھی کوئی نام ہے اور اتنا لمبا ۔ پہلے ہمارے زمانے میں لوگ نام چھوٹے چھوٹے رکھا کرتے تھے مثلاً جیسے میرا نام پھیکا چوکیدار۔ مٹھو لوہار۔ جانا قصائی۔

بکھا موچی۔ اچھو سنار۔ نام سنتے ہی سمجھ بھی آ جاتی تھی۔ یہ فوجی لوگ پتہ نہیں کیسے نام رکھنے لگے ہیں۔ ہماری سمجھ سے تو یہ نام عجیب ہیں۔ چلو کوئی بات نہیں۔ اچھا آگے اصل خبر پڑھو۔ پڑھاکو نے دوبارہ خبر پڑھی۔ جمہوریت کو پاک فوج سے کوئی خطرہ نہیں۔

’’پاک فوج سے جمہوریت کو کیا خطرہ ہو سکتا ہے‘‘ اصل خطرہ تو پاک فوج کو ناپاک فوج سے ہے یعنی ہندوستانی فوج سے ہے جو کبھی پیشاب کر کے پانی بھی استعمال نہیں کرتے اور ناپاک ہی رہتے ہیں۔یہ ناپاک فوج تو ہندوستان میں رہتی ہے بلکہ اب ان ناپاک فوجیوں نے اپنے ناپاک قدم کشمیر جیسی سرزمین میں جمائے ہوئے ہیں اور کشمیر کے رہنے والے پاک مسلمانوں کو شہید کرتے رہتے ہیں۔

پڑھاکو سے چاچا رفیق نے کہا اگلی خبر سناؤ۔اگلی خبر میں لکھا تھا:’’بھارتی فوج شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔ ہر تیسرے دن ایک سورما خودکشی کرنے لگا۔ 1185روز میں تین سو پچاسی فوجیوں نے دوران ڈیوٹی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ زیادہ اہلکار مقبوضہ کشمیر میں تعینات تھے۔‘‘یہ خبر سن کر چاچا رفیق بولا یہ خبر صحیح نہیں ہے میں اس کو نہیں مانتا۔ جب بھارتی فوجی سورما ہیں تو وہ خودکشی کیوں کرتے ہیں۔ اگر وہ خودکشی کرتے ہیں تو سورما کیسے ہو سکتے ہیں؟

ہندوستان کی حکومت کوچاہیے کہ وہ ان سورماؤں سے بندوقیں واپس لے لے۔وہ بلاوجہ فوجی اسلحہ ضائع کیے جا رہے ہیں اور اپنی جانوں کو بھی ختم کر رہے ہیں۔ جب انہوں نے پاک فوج کے رعب داب سے مرنا ہی ہے تو کم از کم ہندوستانی اسلحہ کا نقصان تو نہ کریں۔ یہ ہندوستانی وزیر دفاع کو اتنی معمولی بات بھی سمجھ میں کیوں نہیں آتی؟پڑھاکو بولا:چاچا رفیق ایک خبر بہت افسوسناک ہے۔

لکھا ہے بل بتوڑی نصرت آراء فوت ہو گئیں۔چاچا رفیق بولا یہ بل بتوڑی کون ہے؟ایک شخص کہنے لگا۔ یہ بل بتوڑی ٹیلی وژن میں آتی تھی جسے عینک والا جن کہتے تھے۔ چاچا رفیق بولا ہر بندے نے فوت ہونا ہے۔

یہ ٹی وی اداکارہ عورت تھی۔ کئی برس پہلے اس کا پروگرام ٹیلی وژن پر چلا کرتا تھا، اس کا نام اس کے والدین نے نصرت آراء رکھا تھا، اچھے پروگرام کرتی تھی۔ چاچا رفیق بولا: بس جی دنیا چار دن دا میلا اے ہر بندے نے اپنے وقت پر جانا ہی جانا ہے۔ اللہ بھلی کرے۔ نام والدین نے نصرت آراء رکھا تھا۔

ٹی وی میں کیا کرتی تھیں؟ ان کو ڈرامے میں بل بتوڑی عینک والا جن کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ بچے اس کے نام کو سن کر بہت ہنستے تھے۔ یہ عینک والے جن کے نام سے مشہور تھیں۔ بہرحال ہر انسان نے دنیا سے جانا ہے۔ ہمیں ان کے انتقال پر افسوس ہے۔ اللہ ان کے گناہ معاف فرمائے۔ ہم ان کی بخشش کے لیے دعا گو ہیں۔

مزید :

کالم -