ایک درویش صفت اور محب و طن انسان، ڈاکٹر صفدر محمود

ایک درویش صفت اور محب و طن انسان، ڈاکٹر صفدر محمود
ایک درویش صفت اور محب و طن انسان، ڈاکٹر صفدر محمود

  

گزشتہ دنوں کی ایک صبح کو ممتازمحقق، عظیم محب وطن اور درویش صفت انسان ڈاکٹر صفدر محمود بھی دار فانی سے کوچ کر گئے۔ڈاکٹر صفدر محمودنہ صرف ایک بلند پایہ لکھاری، معروف علمی و ادبی شخصیت اور تحقیق  وتصنیف کے فن کے ماہر  تھے، آپ کے تحقیقی موضوعات  زیادہ تر پاکستانیت، بانیان پاکستان، تحریک پاکستان کی نظریاتی اساس، ڈاکٹرعلامہ محمد اقبالؒ، اورقائد اعظمؒ جیسی عظیم شخصیات تھیں۔تحریک پاکستان اور پاکستان کی نظریاتی اساس کے تحفط کے حوالے سے ڈاکٹر صفدر محمود نے جس محنت، لگن اور پوری ایمانداری و جانفشانی سے تحقیق کی ہے مؤرخین کی صف میں انہیں ہمیشہ قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جا ئے گا۔ تاریخ پاکستان پر ڈاکٹر صاحب  نے درجن بھر سے زائد کتابیں لکھیں۔آپ نے دو قومی نظریے اور پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاطت کے لئے ساری عمر قلمی جہاد کیا۔ گزشتہ برس قلم فاؤنڈیشن کے روح رواں جناب  علامہ عبدالستار عاصم نے ان کی ایک کتاب ”سچ تو یہ ہے“ بھجوائی جس پر بعد میں راقم نے ایک کالم بھی لکھا۔

ہم ڈاکٹر صاحب کا کالم صبح بخیر تو پوری دلجمعی کے ساتھ اور باقاعدگی سے پڑھتے تھے لیکن بعد میں برقی لہروں کے دوش پر دعا سلام کا سلسلہ بھی چل نکلا جو اس وقت تک جاری رہا جب تک ڈاکٹر صفدر محمود موبائل فون کا استعمال آسانی سے کر سکتے تھے ایک عرصہ تک تو روزانہ کی بنیادوں پر صبح سویرے ان کا نیک تمناؤں اور دن بھر کی سلامتی کے لئے محبتوں بھرا پیغام وٹس ایپ پر موصول ہوتارہا،راقم نے بھی باقاعدگی سے نیک خواہشات کے اظہار کا سلسلہ جاری رکھا لیکن ایک صبح  جب وہ علاج کے لیے امریکہ گئے ہوئے تھے ان کا  ایک وائس میسج ملا جس میں پہلے تو انہوں نے کہاکہ علی قاسم صاحب آپ لوگوں کی محبتوں کا بہت شکریہ،پھر بہت ساری دعائیں دیں اور آخر میں بتایا کہ طبیعت کچھ زیادہ خراب رہنے لگی ہے اب شائد روزانہ آپ کو میرا پیغام نہ مل سکے لیکن میری  نیک خواہشات ہر صبح  پہلے کی طرح آپ لوگوں کے ساتھ ہوں گی اور کچھ بہتری کے بعد انشااللہ اسی طرح رابطہ رہے گااس کے جواب میں بندہ ناچیز نے بھی ڈاکٹر صاحب کی صحت یابی کے لئے دلی دعا کے ساتھ ایک پیغام بھیجا کہ سر انشااللہ آپ بہت جلد صحت یاب ہو جائیں گے۔

اس کے بعد کوئی رابطہ نہ ہوا مگر ہم ہمیشہ ڈاکٹر صاحب کی صحت یابی کے لئے دعاگو  رہے۔ لیکن وہی ہو کر رہتا ہے جو قدرت کو منظور ہو،چند دن پہلے سوشل میڈیا پر ڈاکٹر صفدر محمود کے انتقال کی خبر پڑھنے کو ملی تو طبیعت مضمحل سی ہو کر رہ گئی کہ کیسی کیسی ہستیاں آنکھوں سے اوجھل ہو رہی ہیں۔ ڈاکٹر صفدر محمود عجز و انکسار کی عمدہ مثال تھے، تصوف اور روحانیت کے موضوع پر بہت زیادہ لکھا، مخلوق خداوندی سے دلی محبت رکھتے تھے، ان کی شخصیت کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ آپ کا شمار انتہائی اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد میں کیا جاتا،آپ نے سیاسیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی،سول سروس جوائن کر کے مختلف صوبائی اور وفاقی محکموں میں اعلیٰ عہدوں پر براجمان رہے یہاں تک کہ وفاقی سیکرٹری کے عہدے تک پہنچے اس کے علاوہ عالمی اداروں میں بھی بڑے بڑے عہدوں پر اپنے فرائض سرانجام دیئے لیکن اس سب کچھ کے باوجود آپ کی شخصیت میں صوفی ازم بھی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا جس کا عکس ان کی کئی تحریروں میں نمایاں نظر آتا ہے۔ یہاں عام آدمی اپنے آپ کو ورطہ حیرت میں ڈالے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ایک طرف تو معروف بیوروکریٹ ڈاکٹر صفدرمحمود اور دوسری طرف مخلوق خدا سے محبت کرنے والا ایک درویش صفت انسان ڈاکٹر صفدر محمود۔بلاشبہ ڈاکٹر صفدر محمود ایک بلند پایہ شخصیت کے مالک انسان تھے ان کی وفات سے علمی و ادبی حلقوں میں ایک بہت بڑا خلا پیدا ہوا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت ڈاکٹر صاحب کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین۔

مزید :

رائے -کالم -