لو جہاد!

لو جہاد!
لو جہاد!

  

بھارت میں نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد بی جے پی کے بعض عہدیداربالخصوص اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ مسلسل یہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ مسلمان مردہندو عورتوں سے اپنی شناخت چھپاکر یا دھوکا دے کران سے شادی کررہے ہیں اور بعد میں ان پر تشدد کرکے مسلمان ہونے پر مجبور کرتے ہیں ۔ ہندو مذہبی رہنماؤں کا واویلا ہے کہ اسلامی مدارس میں یہ سازش تیار کی گئی ہے کہ مسلم لڑکے ہندو لڑکیوں کو محبت کا جھانسہ دے کران کو پھانسیں، ان سے شادی کریں تاکہ انڈیا میں مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ ہو۔ الزام لگایا جارہا ہے کہ اس مقصد کے لئے نوجوانوں کو مدارس میں باقاعدہ ٹرینگ دی جارہی ہے ۔ہندو رہنماؤں نے جہاد جیسے مقدس لفظ کو ناپاک رشتوں سے جوڑ کر ایک گندی اوربے معنی ترکیب ’’لو جہاد‘‘ وضع کی ہے۔ یہ شیطانی اصطلاح مسلمانوں کے خلاف بطور پروپیگنڈا استعمال کی جارہی ہے۔ مسلم رہنماؤں کا جواب میں یہ کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص خود کو ہندو ظاہر کرکے کسی ہندو عورت سے شادی کرتا ہے تو اسلام میں ایسی شادی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ایسا شخص نہ صرف اسلام کو بدنام کرنے کا مجرم ہے بلکہ قانون کی نظر میں بھی یہ دفعہ چار سو بیس کا مجرم ہے۔ ایسی بے ہودہ حرکات کو نہ تو ’’لو‘‘ کہا جائے گا اور نہ ہی ’’جہاد‘‘ ۔ اسلامی فقہ میں مسلم عورت کسی بھی صورت میں غیر مسلم مرد سے شادی نہیں کرسکتی ،خواہ وہ اہل کتاب میں سے ہو ، ہندو ہویا دیگر کسی بھی مذہب یا دین کا پیروکار۔ ایسا کرنے کی صورت میں وہ اسلام کے دائرے سے خارج سمجھی جائے گی۔

اسلام صرف اور صرف مردوں کو اہل کتاب یعنی عیسائی اور یہودی خواتین سے مشروط شادی کی اجازت دیتا ہے لیکن پارسی ، بدھ، ہندو اور دیگرمذاہب کی خواتین سے شادی کی اجازت اسلامی فقہ میں نہیں ہے سوائے اسکے جس غیر مسلم خاتون سے شادی کی جارہی ہے وہ اپنی رضا و رغبت سے شادی سے پہلے مسلمان ہونے کا اعلان کرے۔اس سلسلے میں بلکہ دین کے کسی بھی ذاتی معاملے میں سختی اور جبر کی قطعی ممانعت ہے ۔ قرآن پاک کا واضح حکم ہے کہ لا اکراہ فی الدین یعنی دین میں جبر نہیں ہے۔ اس آیت کی روشنی میں یہ تصور بھی محال ہے کہ کوئی اسلامی مدرسہ اس قسم کی سازش کا سوچے یا عمل کرے، جس کا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے ۔حالیہ دنوں میں انڈیا میں ہندو عورتوں نے بھی ریلیاں نکالیں جس میں ایک نعرہ بڑے زور و شور سے لگایا گیاکہ ’’اب کوئی جودھا کسی اکبر کی رانی نہیں بنے گی‘‘ غور کیا جائے تو جودھا اور اکبر کی شادی کا مسلمانوں کو نقصان ہی ہوا۔ اسلامی فقہ کی رو سے بھی یہ شادی حرام تھی کیونکہ جودھا بائی جس کا اصل نام ہیرا کنواری تھا، شادی کے بعد بدستور ہندو ہی رہی اور محل میں آزادی سے پوجا پاٹ بھی کرتی رہی ۔ جناب مغل اعظم بھی شادی کے بعد آدھے تیتر اور آدھے بٹیر بن گئے بلکہ ایک وقت میں تو پورے ’’بٹیر‘‘ ہی بن گئے جب انہوں نے ایک نئے مذہب ’’دین الٰہی ‘‘ کی بنیاد رکھی جس میں جودھا بائی کو بھی ’’مریم الزمانی‘‘ کا خطاب دیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ سب پروپیگنڈا سیاسی ہے جس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ۔ اگر کوئی تعلق ہوتا تو بی جے پی کے نائب قومی صدر مختار عباس نقوی اور قومی ترجمان شاہ نواز حسین پارٹی سے نکال دئے جاتے کیونکہ ان دونوں کی بیویاں شادی سے پہلے ہند وتھیں اورشادی کے بعد بدستور ہندو ہیں ، سیاست یا معاشرے میں یہ واحد مثالیں نہیں ہیں بلکہ ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں ۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ہندوستان میں اب ہند ومسلم جوڑوں میں اپنے اپنے مذہب پر رہتے ہوئے شادی کا رحجان بڑھتا جارہا ہے لیکن اس معاملے میں بھی مذہب کا کوئی عمل دخل نہیں کیونکہ ایسا کام کرنے والے اگر اپنے مذاہب پر یقین رکھتے تو ایسی بے جوڑ شادیاں ہی نہ کرتے بلکہ اکثر ایسے جوڑے تو عملاً اور فعلاً مذہب بیزار اور آزاد خیال ہیں ۔ یہ معاملات سیدھے سادے عشق کے ہیں ۔ آپ نے سنا تو ہوگا۔

عشق نہ جانے ذات پات

نیند نہ جانے ٹوٹی کھاٹ

بھوک نہ جانے جوٹھا بھات

اس رحجان کے بڑھانے میں بڑا کردار انڈین فلم انڈسٹری کا بھی ہے جس نے اس موضوع پر کافی فلیں بنائی ہیں جن کی کامیابی اس رحجان کے بڑھنے کی غمازی کرتی ہے ۔فلم انڈسٹری کا ذکر آیا ہے تو آپ کی دلچسپی کے لئے کچھ ایسے فلمی جوڑوں کا ذکر کرتے ہیں جنہوں نے پنڈت جی کو لفٹ کرائی اور نہ ہی مولوی صاحب کو ، عدالت میں جاکرشادی کرلی جسے ’’کورٹ میرج‘‘ کہا جاتا ہے۔ ایسی مثالیں برصغیر کی تقسیم سے پہلے کی بھی ہیں اور یہ سلسلہ اب تک تسلسل سے جاری ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ’’لو جہاد‘‘ صرف اور صرف سیاسی پروپیگنڈا ہے ۔

جدن بائی ہندوستان کی معروف گلوگارہ اور طوائف تھیں جن کا شروع کی فلم انڈسٹری میں بڑا نام تھا۔ ان کی بیٹی مشہور اداکارہ نرگس تھیں جن کا اصل نام فاطمہ رشید تھا۔نرگس نے مسلمان ہوتے ہوئے بھی ایک ہندو اداکار سنیل دت سے شادی کی۔ سنیل دت مسلمان نہیں ہوئے، اداکار سنجے دت اس جوڑے کی نشانی ہیں ۔ خود جدن بائی نے تین شادیاں کیں ان کے پہلے شوہر ایک ہند و کھتری باچی بابو تھے لیکن جدن بائی کے کہنے پر مسلمان ہوگئے ۔ نرگس کے سوتیلے بھائی اداکار اختر حسین ان کے بیٹے تھے۔انکے انتقال کے بعد جدن بائی نے دوسری شادی استاد ارشادمیر خان سے کی جو اداکار انور حسین کے باپ تھے ۔ جدن بائی نے تیسری شادی پھر ایک ہندو موہن بابو سے کی جو مسلمان ہوئے اور عبدالرشید نام رکھا لیکن عمر بھر موہن بابو ہی کہلواتے رہے ۔نرگس انہی کی بیٹی تھیں ۔ ماضی کی ایک اور اداکارہ مہر بانو عرف پورنما تھیں ۔ یہ پانچ بہنیں تھیں جن میں چار نے ہندوؤں سے شادیاں کیں ۔ ایک بہن شیریں نے ہدایت کار نانو بھائی بھٹ سے شادی کی ، یہ مشہور ہدایت کار مہیش بھٹ کی والدہ تھیں ۔ ایک بہن ہدایت کار راج کھوسلہ کی والدہ بنیں۔ پورنما کی ایک بیٹی نے مسلمان انور ہاشمی سے شادی کی جن کے بیٹے آج کے مشہور اداکار عمران ہاشمی ہیں یعنی عمران ہاشمی کی دادی اور مہیش بھٹ کی خالہ ایک ہی شخصیت ہیں ۔ مسلمان اداکارہ مدھوبالا نے ہندو گلوگار کشورکمار سے شادی کی۔ کشور کمار نے اپنا نام عبداﷲرکھ لیا مگر مدھوبالا کے انتقال کے بعد واپس لوٹ گئے ۔ کشور کمار کی آخری رسومات ہندووانہ تھیں اور انہیں جلایا گیا۔ مشہور موسیقار خیام جن کا اصل نام محمد ظہور ہاشمی ہے سکھ خاتون گلوگارہ جگجیت کور کے شوہر ہیں ۔ایرانی نزاد اداکار جمیل جو پاکستانی فلموںیہ امن، غرناطہ اور سزا کے ہیرو تھے، بعد میں انڈیا چلے گئے،

ان کی بیٹی اداکارہ فرخ نے اداکار دارا سنگھ کے بیٹے سے شادی کی لیکن بعد میں طلاق ہوگئی۔ مشہور ترقی پسند ادیب سید سجاد ظہیر کی بیٹی نادرہ نے اداکار راج ببر سے شادی کی ۔فلم مغل اعظم کے ہدایت کار کے آصف نے ہندو کتھک ڈانسر ستارہ دیوی سے شادی کی ، بعدازاں ان میں طلاق ہوگئی۔ ہدایت کار محبوب کی فلم آن کی شہرت یافتہ اداکارہ نادرہ یہودی تھیں لیکن مسلمان شاعر و ہدایت کار نخشب سے شادی کی ۔ گلوگار محمد رفیع کے بیٹے شاہد نے اسی کی دہائی کی مشہور کیبرے ڈانسر لینا داس سے شادی کی ۔گلوگار طلعت محمود کے بیٹے خالد محمود بھی پیچھے نہیں رہے انہوں نے بھی ہندو خاتون رینا پانڈے سے شادی کی ۔ گلوگار طلعت عزیزکی بیگم بھی ہندو بینا ایڈوانی ہیں ۔ موسیقار انوملک جن کا اصل نام انور ملک ہے کی بیگم بھی ہندو انجو نام کی ہیں ۔ مشہور اداکار ریکھا کی بہن رادھا کے شوہر کا نام عثمان سید ہے۔ ماضی کی مشہور ہیروئن اور گلوگارہ ثریا کا معاشقہ اداکار دیو آنند سے تھالیکن ثریا کی نانی اورماموں ’’ظالم سماج‘‘ بن گئے ،بطور احتجاج ثریا نے عمر بھر شادی نہ کی ۔’’بناکا گیت مالا‘‘ کے شہرت یافتہ امین سیانی نے کشمیری پنڈت خاتون راما سے شادی کی۔ ان کے بیٹے راجل کی بیوی بھی کرشنا نام کی ہندو خاتون ہیں ۔مرحوم اداکارفاروق شیخ کی بیوی روپا گجراتی ہند وہیں ۔اداکارنصیرالدین شاہ کی بیگم بھی ہندو رتنا پھاٹک ہیں ، اداکار پنکج کپور شاہ صاحب کے ہم زلف ہیں ۔ بالی وڈ یعنی انڈین فلم انڈسٹری پر ہمیشہ ’’خان فیکٹر‘‘ حاوی رہا ہے ۔ اب کچھ ذکر اپنے ان خان بھائیوں کا بھی ہوجائے ۔

اداکارفیروز خا ن ہندو اداکارہ سونیاسہانی کی بہن سندری کے شوہر تھے ۔ سونیا سہانی نے فلم بوبی میں رشی کپور کی ماں کا کردار ادا کیا تھا۔اداکار سنجے خان نے زینت امان سے شادی کی اور اپنی فلم عبداﷲ میں کام کرا کر اسے طلاق دے دی ۔ زینت امان کے والد امان اﷲنے بھی ہند وعورت سے شادی کی ہوئی تھی۔ سنجے خان کی پہلی بیوی سے بیٹی سوزانے خان نے ہندو سپر سٹارریتک روشن سے شادی کی۔ شادی کے بعد سوزانے کا کہنا تھاکہ’’ہم انسانیت پر یقین رکھتے ہیں اور اپنی اپنی مذہبی رسومات بھی ادا کرتے ہیں‘‘ مذہبی قربانیوں کے باوجوداب اس جوڑے میں عدالتی طلاق ہوگئی ہے۔سنجے خان کے بیٹے زید خان نے بھی اپنی ہندو کلاس فیلوملیکہ پاریکھ سے شادی کی ہے۔ اداکار عرفان خان نے بھی ستاپا نام کی ہندو لڑکی سے شادی کی ہے ۔ میگھا سٹار عامر خان نے فلموں میں آنے سے پہلے اپنی ہندو محلے دار رینا دتہ سے بھاگ کر اور بھگا کر کورٹ میرج کی کیونکہ دونوں کے گھر والے مخالف تھے ۔ دو بچے پیدا کرنے کے بعد سترہ سال بعد اس کو طلاق دے کر ہندو ہدایت کارہ کرن راؤسے دوسری شادی کرلی ہے۔عامر خان کی بہن نزہت امان کے شوہر بھی انل پال نامی ہندو ہیں ۔ تھوڑا ذکرمیگھا سٹار سلمان خان فیملی کا بھی ہوجائے۔ سلمان خان نے ابھی تک شادی نہیں کی لیکن آثار یہی ہیں جب بھی کریں گے،قرعہ کسی ہندو لڑکی کے نام ہی کا ہوگاکیونکہ ان کے سابقہ سبھی معاشقے ہندو لڑکیوں کے ساتھ رہے ہیں جن میں سنگیتا بجلانی، ایشوریہ رائے اور کترینہ کیف نمایاں ہیں ۔سلمان خان کے والد سلیم خان جن کی جوڑی جاوید اختر کے ساتھ سلیم جاوید کے نام سے بطور فلم رائٹربنی۔

شعلے،زنجیر،دیوار جیسی ہٹ فلمیں ان کے کریڈٹ پر ہیں۔ سلیم خان نے پہلی شادی ہندو خاتون سوشیلا سے کی۔ سلمان خان اور انکے دو بھائی اور ایک بہن ان ہی کے بطن سے ہیں۔ بہن کا نام الویرا ہے جسکے شوہر اتل اگنی ہوتری بھی ہندو ہیں۔ سلمان خان کے ایک بھائی اداکار اربازخان کی بیوی کیتھولک عیسائی ملیکہ اروڑہ ہیں ۔ دوسرے بھائی سہیل خان کی بیوی ہندو سیما سچدیو ہیں ۔ سلیم خان نے دوسری شادی مشہور ڈانسر ہیلن سے کی جو پارسی ہیں ۔ایک اور خان اداکار سیف علی خان ہیں ۔ انکے والد نواب آف پٹوڈی منصور علی خان نے شرمیلا ٹیگور سے شادی کی۔ سیف علی خان نے پہلی شادی سکھ اداکارہ امرتا سنگھ سے کی ، ان کو طلاق دینے کے بعد راج کپور کی پوتی اداکار کرینہ کپورسے شادی کی۔میگھا سپرسٹارشاہ رخ بھی پیچھے نہیں رہے ۔ ان کی پیدائش پشاور میں ہوئی، والدین دونوں مسلمان تھے اگر پشاور رہتے تو یقینناً راسخ العقیدہ مسلمان ہوتے لیکن ممبئی جا کر دوسرے خربوزوں کو دیکھ کر انہوں نے بھی رنگ پکڑا،وہ بھی چوکھا۔ انکی بیوی کا نام گوری ہے ۔ شادی کے موقع پر ان کا مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق نکاح ہوا۔

نکاح کے موقع پر گوری کا نام عائشہ رکھا گیا۔ مسلمان خوش ہوئے ان کو فارغ کرنے کے بعد ہندو رسومات کے مطابق پھیرے لئے گئے ۔ اب شاہ رخ خان کا نام جتندر کمار رکھا گیا۔مہابلی مغل اعظم آج زندہ ہوتے تو بہت خوش ہوتے اور ان کو اپنا خلیفہ اور جانشین بناتے کیونکہ ’’دین الٰہی‘‘ بھی اسی قسم کا ملغوبہ تھا۔ کچھ عرصہ قبل شاہ رخ خان کے گلے کی سرجری ہوئی تو ان کے بیٹے نے مندر جاکر اسلامی طریقے سے دعا مانگی۔ وہ مسجد میں بھی ضرور آتے لیکن یہاں رام کی مورتی لانے کی گنجائش اور اجازت نہیں ۔ ہم نے صرف ان شخصیات کا ذکر کیا ہے جو مشہور ہیں ، وگرنہ انڈین فلم انڈسٹری کے ہر شعبے میں ایسی لاتعدا مثالیں بکھری پڑی ہیں ، نہ صرف فلم انڈسٹری بلکہ معاشرے کے ہر طبقے میں آپ کو قدم قدم پر ایسے ’’مجاہدین‘‘ ملیں گے جن سے اسلام کو فائدہ نہیں بلکہ سراسر نقصان ہی ہواہے ۔ کرکٹ کا میدان ہی دیکھیں ۔ سابق کپتان اظہر الدین نے سنگیتا بجلانی اور محمد کیف نے پوجا یادوز سے شادی کی ۔ انڈین سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور ہندوستان کے سابق نائب صدر محمد ہدایت اﷲ مرحوم کی بیگم پشپا شا بھی ہندو تھیں ۔ بڑی لمبی فہرست ہے،’’کہاں تک سنو گے، کہاں تک سناؤں‘‘

اصل بات یہ ہے کہ پاکستان ہو یا ہندوستان۔ الیکشن نزدیک آتے ہی کچھ جماعتیں مذہبی جذبات کو بطور سیاسی سٹنٹ استعمال کرتی ہیں ۔ ’’مقرر شعلہ زبان‘‘ نفرت کو بڑھاوا دینے کے مشن پر جت جاتے ہیں ۔ ’’لو جہاد‘‘ کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے ۔بی جے پی نے جنرل الیکشن میں تو ’’مسلم نفرت‘‘ کو مذہبی تقدس کا رنگ دے کر کامیابی حاصل کرلی۔ حکومت بنانے کے بعد اس کی مقبولیت کم ہونے لگی تو ضمنی الیکشن میں کامیابی کے لئے یو پی ، متھرا کے ورنداون میں بی جے پی کی ریاستی مجلس عاملہ کے اجلاس میں ’’لو جہاد‘‘ کو بطور سیاسی ایجنڈا بنانے کا فیصلہ ہوالیکن جیسا کہ آپ نے پڑھا ہے کہ ہندوستان میں ہندو مسلم شادیاں کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں اور یہ صرف آج کا معاملہ نہیں بلکہ شروع ہی سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس معاملے پر بھارتی عوام بے وقوف نہیں بنے اورحالیہ ضمنی الیکشن میں بی جے پی اپنی جیتی ہوئی 23 سیٹوں میں سے 13 پر الیکشن ہارگئی ۔ اصولاً تو اب اس ناکامی کے بعدہندو میڈیا کو ’’لو جہاد‘‘ موضوع کو چھوڑ دینا چاہئے مگر ملکی اور غیر ملکی میڈیا میں اس موضوع کو بہت اچھالا گیاسو ابھی بھی ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف یہ آگ بھڑکی ہوئی ہے۔ پاکستانی مسلمانوں کو اﷲتعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ پاکستان جیسی نعمت ان کے پاس ہے جہاں آپ کی بہنیں اور بیٹیاںآپ کی مرضی کے مطابق مسلمانوں ہی سے شادیاں کرتی ہیں وگرنہ کچھ بعید نہیں تھاکہ ہمارے آپ کے خاندانوں میں بھی ایک داماد کا نام محمد علی،دوسرے کا وجے اروڑہ اور تیسرے کا مکھن سنگھ ہوتا۔

مزید :

کالم -