گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 59

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ ...
گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 59

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

میرے ہمسفر کیپٹن بیننگ رچرڈسن تھے۔ یہ صاحب محکمہ اطالعات میں ملازم تھے اور ایک ایسی معزز شخصیت کے فرزند تھے جن کے ساتھ ہماری ملاقات ٹورنٹو میں روپرٹ برین کے عشائیہ میں ہوئی تھی۔ بیننگ، مسز کو رونا اینڈرسن سے اچھی طرح متعارف تھے جو سانتا باربرا کے ایک خوبصورت مکان میں رہتی تھیں۔ یہ جگہ سان فرانسسکو کے سب سے زیادہ خوبصورت مقامات میں شمار ہوتی ہے۔ مسز باربرا ہمارے ساتھ بڑی مہمان نوازی اور کرم فرمائی کے ساتھ پیش آئیں اگرچہ ان کے خاوند ہسپتال میں صاحب فراش تھے تاہم ان کی بیٹیوں اور نواسوں نے ہمارا جی بہلائے رکھا۔ سان فرانسسکو کی خواتین نے ایک تنظیم بنائی تھی جس کا مقصد مندوبین کو اپنی کار میں بٹھا کر سیر کرانا اور ان کے ساتھ تواضع سے پیش آنا تھا۔

بیننگ برطانوی پارلیمنٹ کے انتخاب میں کھڑے ہونے کا ارادہ رکھتے تھے چنانچہ میں نے وزیراعظم اٹیلی سے ان کے نام کی سفارش کردی۔ انہی کے طیارے میں ہم لوگ لندن واپس آئے۔ ہم سے پہلے جو طیارہ روانہ ہوا تھا اس میں دوسرے لوگوں کے علاوہ برطانوی وزارت خارجہ کا ایک بڑا افسر بھی سفر کررہا تھا، وہ گبنڈا اور گلاسکو کے درماین بحراوقیانوس میں کہیں لاپتہ ہوگیا۔ ہمارے ہاں طیارے نے بہت نشیب میں پرواز کی لیکن گمشدہ طیارہ کا نام و نشان نہ ملا۔ یہ تھی ان دنوں کی زندگی۔ بیننگ کو انتخاب لڑنے کی اجازت مل گئی اور اگرچہ اس نے سابقہ رکن کے مقابلہ میں زیادہ ووٹ حاصل کئے تھے لیکن وہ انتخاب ہارگیا۔ دوسری بار انتخاب کے موقع پر اس نے اپنی وفاداری تبدیل کرلی اور لبرل پارٹی کے ٹکٹ کے لئے درخواست دی، لیکن مجھے یقین نہیں کہ اب کے بھی اس کے حق میں بہتر نتیجہ نکلا ہوگا۔

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 58 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایک اور میاں بیوی، مسٹر اور مسز جارج وولف تھے جنہوں نے سان فرانسسکو میں ہماری خاطر مدارات کی تھیں۔ وہیں میری ملاقات مسٹر نون سے ہوئی اور ہم اچھے دوست بن گئے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ آئرلینڈ کے بہت سے لوگوں نے جن کے نام نونان تھے، اپنے نام بدل کر نون رکھ لئے تھے۔ داڑہم میں، مَیں اپنے نام کے ہجے نُن کرتا تھا لیکن لوگ اسے نَن پڑھتے تھے، جس کے معنی ہیں راہبہ۔ چنانچہ میں نے اپنے نام کی املا بدل دی اور نُون لکھنے لگا۔

ایک بار میں ایک دکان پر اپنی بیوی کے لئے چند موزے خریدنے گیا۔ میری بیوی ان دنوں دہلی میں تھی۔ کاؤنٹر پر جو خاتون سودا دے رہی تھی انہوں نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں داخلہ کا ایک ٹکٹ مانگ لیا جو میں نے دے دیا۔ بعد میں اس سے بہت فائدہ ہوا کیونکہ انہی خاتون نے ایک تھوک سامان کی دکان سے مجھے اپنی بیوی کے لئے خوبصورت ہیٹ اور خوش و ضع لباس دلادئیے تھے۔

کابینہ میں تقرری کے دوران میں ایک دن وائسرائے نے مجھ سے ہا کہ میں نے سپلائی کا محکمہ آپ کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس روز یہ بات ہوئی اس کے دوسرے دن میں دورہ پر روانہ ہونے والا تھا لیکن شام کو ہمارے ایک رفیق کی کار کی کوٹھی پر کابینہ کے وزراء کا عشائیہ تھا۔ یہ ایک رسم سی بن گئی تھی کہ انتظامیہ کونسل کے ایک یا دوسرے رکن کی کوٹھی پر دعوت عشائیہ ہر پندرہ دن بعد باری باری ہوتی تھی۔ اس طرح ہمیں پندرہ دن میں ایک بار دوسرے مہمانوں سے الگ آپس میں آزادانہ مل بیٹھنے اور غیر رسمی بات چیت کرنے کا موقع مل جاتا تھا۔ اس عشائیہ کے بعد، میں جنرل ویول کے ساتھ، جو ان دنوں کمانڈر انچیف تھے، کوئی بات کررہا تھا کہ انہوں نے پوچھا ’’کیا آپ کل دورے پر جارہے ہیں؟‘‘ میں نے جواب دیا ’’نہیں، وائسرائے نے مجھے ٹھہرنے کی ہدایت کی ہے اور سپلائی کی وزارت سنبھالنے کا حکم دیا ہے۔ اس بات کی بھنک میرے رفیق کار سرجوگندر سنگھ کے کان میں پڑگئی اور وہ چپکے سے کھسک گئے۔ میں نے قیاس کیا کہ اس رات بعض وزراء کو نیند نہیں آئی ہوگی۔ ان سب نے آپس میں سر جوڑ کر کھسر پھسر کی ہوگی اور وائسرائے کے پاس جاکر ان پر زور دیا ہوگا کہ یہ محکمہ کسی دوسرے وزیر کے حوالے کردیں۔ بات یہ ہے کہ سپلائی کے وزیر کو اپنے پسندیدہ لوگوں کی سرپرستی کے وسیع مواقع میسر تھے۔ پس پردہ جو کچھ بھی ہورہا تھا، میں اس سے بے خبر تھا،تاہم ان کی سازشوں سے باخبر ہو بھی جاتا تو شاید اس سے بھی کم پردہ کرتا۔ اس کے بعد میں نے اس معاملہ کا وائسرائے سے بالکل ذکر نہیں کیا اور وزیر دفاع کے طور پر اپنے فرائض بدستور انجام دیتا رہا، لیکن ایک بار پھر مجھے یہ سبق ملا کہ ہمیشہ رازداری سے کام لینا چاہیے اور بھید کی بات کسی کو نہیں بتانی چاہیے چاہے وہ کتنا ہی معتمد رفیق کیوں نہ ہو۔ تاہم میں نے ہمیشہ کشادہ دلی سے کام لیا ہے۔ اپنے دوستوں اور رفیقوں کے ساتھ پراسرار بن کر رہنا مجھے نہیں آتا۔ نتیجہ یہ کہ زندگی میں آگے چل کر مجھے اکثر اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ دراصل اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کس طرح کے لوگوں کے ساتھ کام کرتے ہیں۔

چرچل جیسا آدمی پوری صدی میں ایک ہی بار پیدا ہوتا ہے۔ چرچل کی پیدائش کا مقصور، قضاوقدر کے نزدیک، دوسری جنگ عظیم میں کامیابی تھا لیکن جنگ کے بعد ان سے ایک غلطی سرزد ہوئی۔ انہیں لارڈویول کو وائسرائے مقرر کرنے کی بجائے لنلتھگو کی طرح کے کسی ایسے غیر فوجی آدمی کو وائسرائے مقرر کرنا چاہیے تھا جسے یہ معلوم ہو تاکہ سیاست میں ہمارے یہاں کے شاطر دماغوں سے کس طرح نپٹنا چاہیے۔ کینیڈا میں جنرل الیگزنڈر کا تقرر مناسب ہوسکتا تھا کیونکہ وہ ایک ترقی یافتہ اور آزاد جمہوری ملک ہے لیکن کوئی غیر فوجی عہدہ ہندوستان میں وائسرائے کے عہدے سے مشکل تر نہیں ہوسکتا۔ اگر ویول کی عظم خدمت کا اعتراف ضروری تھا تو اس کی کوئی اور صورت نکالی جاسکتی تھی۔اس بار گراں کو ان کے شانوں پر لاد دینا منصفانہ بات نہیں تھی۔

ویول کی قیادت میں، واقعاتر جو رُخ اختیار کررہے تھے، انہیں دیکھنے کے بعد مجھے یقین ہوگیا تھا کہ پاکستان بنا کہ بنا۔ لہٰذا میں نے وائسرائے کی کابینہ کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا تاکہ عام انتخابات میں حصہ لے سکوں۔ انتخابات، اعلان کے مطابق، 1942ء میں ہونے والے تھے میں نے اس سے پہلے بھی ایک بار مسٹر جناح سے کہا تھا کہ اگر وہ کہیں تو میں استعفا دے دوں۔ جواب میں انہوں نے کہا تھا ’’نہیں، میں نہیں چاہتا ہوں کہ آپ جہاں ہیں وہیں جمے رہیں‘‘ لارڈویول نہیں چاہتے تھے کہ میں استعفا دوں لیکن میں نے ان سے کہا کہ ہندوستان کا وہ سب سے اہم علاقہ، جو پاکستان کا مطالبہ کررہا ہے، خود میرا صوبہ ہے۔ میرے عم زاد بھائی سرخضر حیات ٹوانہ وہاں کے وزیراعلیٰ اور یونینسٹ پارٹی کے سربراہ ہیں اور یہ میری ہی پرانی پارٹی ہے، جس میں سبھی فرقوں کے لوگ شامل ہیں۔ لہٰذا میں اگر وہاں نہیں گیا اور پاکستان کے لئے کام نہیں کیا تو اس کوتاہی کا صدمہ مجھے تمام عمر رہے گا۔ میں غور و فکر کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا تھا کہ جب تک مسلمانوں کو اپنے علاقہ میں سیاسی اقتدار حاصل نہیں ہوگا، اس وقت تک ہم مسلمانوں کو کٹر ہندوؤں کے زیر اثر نیچ ذات کے لوگوں کی سی حیثیت حاصل رہے گی، جیسا کہ آج کل ہندوستان میں چار کروڑ مسلمانوں کا حال ہے۔

ستمبر 1945ء میں مستعفی ہونے کے بعد میں ٹرین سے لاہور پہنچا تو مسلم لیگیوں نے میرا ایسا شاندار استقبال کیا کہ شاید ہی کسی سیاسی کارکن کو اپنے ملک میں نصیب ہوا ہوگا۔ نوجوان مسلم لیگیوں نے ریلوے سٹیشن کے باہر ایک ڈائس تعمیر کیا تھا، جہاں مجھے پھولوں کے ہاروں سے سرتاپالا د دیا گیا۔ اس پذیرائی کے لئے مجھے ایک بہت بڑے مجمع سے خطاب کرنا پڑا۔

برہمن کی وہ تیسری پیش گوئی بھی درست نکلی کہ میں پانچ سال بعد دہلی چھوڑ دوں گا لیکن اس نے یہ بتانے سے احتراز کیا تھا کہ اس کے بعد کیا کروں گا۔ میرا خیال ہے کہ میرا مستقبل ماضی کی مانند نہ تھا اس لئے اس نے خاموشی اختیار کی۔ نتیجہ کے طور پر میں چار سال تک ویرانوں میں بھٹکتا رہا لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ زندگی میں اس سے زیادہ خوشی مجھے کبھی میسر نہیں آئی کیونکہ اسی زمانہ میں صحیح معنوں میں، مَیں نے عوام کی خدمت کی۔ اوّل پاکستان کے حصول کی لڑائی لڑتے ہوئے اور پھر اس کے بعد پاکستان کی پہلی اسمبلی کے ایک معمولی رکن کی حیثیت سے۔

عوام نے میری خدمات کو جس طرح سراہا، اس سے دل کو بے اندازہ خوشی ہوئی لیکن جہاں تک مسلم لیگ کا تعلق ہے مجھے بدقسمتی سے یہاں کی فضا میں اپنے لئے سردمہری نظر آئی۔ میں نے ہر شخص کو اس بات کا یقین دلایا تھا کہ میں ایسے بلند عہدوں پر فائز رہ چکا ہوں کہ آپ مجھے اس سے بلند تر عہدے نہیں دے سکتے۔ لہٰذا آپ یقین ر کھیں کہ میں ہرگز کسی عہدے کا طالب نہیں۔ البتہ چاہتا ہوں کہ ایک معمولی شہری کی حیثیت سے مجھے خدمت کا موقع دیا جائے میرا خیال ہے کہ انہیں میری بات کا یقین کرلینا چاہیے تھا کیونکہ انہیں میری شدید ضرورت تھی۔ پنجاب میں ایک تن تنہا میں ہی تھا جو یہاں کے دیہاتی باشندوں اور ملازمتوں پر اپنے عم زاد بھائی اور وزیراعلیٰ کے اثر و رسوخ کے برابر اثر ڈال سکتا تھا۔ چنانچہ صورتحال یہ تھی کہ مسلم لیگ کے بعض لیڈر ادھر آگ اُدھر سمندر کے مصداق سخت مخمصے میں تھے۔ مجھے دور رکھنے میں انہیں یہ خطرہ تھا کہ پنجاب میں ان کا کام کہیں دشوار ہوجائے گااور مسلمانوں کے نقطہ نظر سے یہ بات نہایت خطرناک اور تشویش انگیز ہوسکتی تھی لیکن وہ یہ بھی نہیں چاہتے تھے کہ میں ا پنی بے لوث خدمات کی بنا پر پنجاب کے عوام میں مقبول ہوجاؤں۔ میرا ایک بڑا المیہ یہ بھی تھا کہ قائداعظم محمد علی جناح بمبئی کے رہنے والے تھے اور پنجاب کی سیاست اور یہاں کے سیاسی لیڈروں کے متعلق بہت ہی کم معلومات رکھتے تھے۔ ابتداء میں پنجاب کے بعض مسلم لیگی لیڈروں کا ان پر بڑا اثر تھا اور بعد میں جب انہیں کامل وفاداری اور بے لوث فرض شناسی کی بدولت، میری صحیح حیثیت کا اندازہ ہوا اور وہ پنجاب کے معاملات اور یہاں کے لوگوں کو اچھی طرح سمجھنے لگے تو بدقسمتی سے قضاوقدر نے انہیں ہم سے چھین لیا۔(جاری ہے )

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 60 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : فادرآف گوادر