کورونا کے بڑھتے کیسز کی پیش نظر پابندیاں بڑھا رہے ہیں: وزیراعلٰی سندھ 

    کورونا کے بڑھتے کیسز کی پیش نظر پابندیاں بڑھا رہے ہیں: وزیراعلٰی سندھ 

  

 کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر پابندیاں بڑھا رہے ہیں اور ایس او پیز میں نرمی نہیں کر سکتے۔ گزشتہ برس جون اورجولائی جیسے حالات دہرانا نہیں چاہتے، ہسپتالوں میں مریضوں کی گنجائش بھی ختم ہورہی ہے، اعداد وشمار تشویش ناک ہیں اور ہم آنکھیں بند کرکے آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں، صوبے بھر میں دکانیں 8 بجے کی بجائے شام 6 بجے تک کھلیں گی، پانی کی غیر منصفانہ تقسیم ہوئی، اس پر وزیراعظم سے بات کروں گا، بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لئے چھٹا ساتواں وزیر آئے تو مسئلہ حل ہو، کراچی میں کے الیکٹرک ناکام رہی ہے، سندھ حکومت کچھ مدد کر رہی ہے تو ان کا معاملہ چل رہا ہے لیکن کہیں بھی کوئی زیادتی ہو رہی ہوگی تو برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو کراچی میں ماہرین طب اور ڈاکٹروں کی نمائندوں تنظیموں کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ کورونا کی پہلی لہر پر ہم نے کامیابی سے قابو پایا، اب کورونا کی تیسری لہر سے نمٹ رہے ہیں، اسپتالوں میں دستیاب بیڈز تیزی کیساتھ بھر رہے ہیں، عید کے بعد مثبت کیسز کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، کراچی میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 13 فیصد سے زیادہ ہے۔وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ کورونا سے متعلق ٹاسک فورس میں مختلف اداروں کے نمائندے ہوتے ہیں، ہمیں ٹاسک فورس نے سختی سے کہا ہے کہ احتیاط کریں، ہمیں مزید سختی کرنی ہے، ایس او پیز میں نرمی نہیں کر سکتے۔ کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر پابندیاں بڑھا رہے ہیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبے بھر میں دکانیں 8 بجے کی بجائے شام 6 بجے تک کھلیں گی، صرف ادویات فروخت کرنے والی دکانیں کھلیں گی، خلاف ورزی پر عوام کے بجائے دکان کے خلاف ایکشن ہوگا، شاپنگ مالز اوراس میں قائم فارمیسیز بھی 6 بجے بند ہوں گی، ان ڈور اور آؤٹ ڈور ڈائنگ مکمل طور پر بند ہے، ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری کھلی ہیں لیکن اس کا غلط استعمال نہ کیا جائے، ہر کسی قسم کی تقریبات کے انعقاد پر پابندی ہے، تفریحی مقامات، پارکس اور سینما ہالز اگلے دو ہفتوں کے لئے بند ہیں۔سندھ کے وزیراعلی مراد علی شاہ نے عوام سے وائرس کے پھیلا کو روکنے کے لیے ایس اوپیز پر سختی سے عمل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں کووڈ-19 بندشوں میں نرمی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ گزشتہ برس عیدالفطر اور رواں برس عیدالفطر کے دوران کورونا کیسز میں فرق تھا۔ یکم شوال کو 831 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جبکہ جمعے کو 2 ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے، یہ سب عوام کی جانب سے عید کے دوران ایس او پیز نظرانداز کرنے پر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے آج (پیر) سے پابندیاں ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم صوبائی ٹاسک فورس کے ماہرین نے ہمیں سختی سے ہدایت کی ہے کہ یہ احتیاط کا وقت ہے۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر، نرمی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ گزشتہ برس جون اورجولائی جیسے حالات دہرانا نہیں چاہتے۔ ہسپتالوں میں مریضوں کی گنجائش بھی ختم ہورہی ہے۔آغاخان ہسپتال اور انڈس ہسپتال میں بھی بستر دستیاب نہیں ہیں۔  وبائی امراض کے ہسپتال میں بھی گنجائش نہیں ہے، ہم نے ایکسپو سینٹر کی سہولت بھی بند کردی ہے لیکن ہمیں دوبارہ کھولنا پڑے گا اور اس وقت 50 فیصد گنجائش ہے'۔انہوں نے کہا کہ 'یہ اعداد وشمار تشویش ناک ہیں اور ہم آنکھیں بند کرکے آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں۔ اسی لیے ٹاسک فورس نیفیصلہ کیا ہے کہ بندشوں پر سختی سے عمل درآمد کروایاجائے گا، نرمی کاانحصاف عوام پر ہے کہ وہ کس طرح حفاظتی اقدامات پر عمل کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر ہم پیش گوئی نہیں کرسکتے ہیں کہ حالات دو ہفتوں میں بہترہوں گے، تاہم ہم جو کہہ سکتے ہیں کہ اگر لوگوں نے ایس او پیز پر عمل درآمد کیا تو حالات بہتر ہوں گے، یہ لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا پر ٹاسک فورس بنائی تھی، اس پر اجلاس کرتے رہے ہیں، پچھلے ڈیڑھ مہینے سے کورونا کیسز بڑھے تو ہفتے میں دو یا تین اجلاس کر رہے ہیں اور پابندیاں مزید دوہفتے جاری رہیں گی اور اضافی بندشوں پر بھی عمل درآمد کروایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے کہا تھا کہ مارکیٹیں رات 8 بجے تک کھلی رکھنے کی اجازت ہوگی لیکن ہم اس کو 6 بجے کر رہے ہیں اور اس حوالے سے نو ٹی فکیشن بھی جاری کردیاجائیگا۔عوام پر انتظامیہ سے تعاون کرنے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مالز بھی 6 بجے بند ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ فارمیسی، پیٹرول پمپس، طبی مراکز اور ویکسینیشن سینٹرز بدستور کھلے رہیں گے، کھانے لے جانے اور ہوم ڈلیوری کی بھی اجازت ہوگی جبکہ انڈور اور آٹ ڈور کھانے پر پابندی ہوگی۔وزیراعلی نے کہا کہ 'شادی ہالز، کاروباری مراکز، ایکسپوہالز، پارکس، انڈور جمز، کھیلوں کے میدان بھی مکمل طور پربند رہیں گے، سنیما،بیوٹی سیلون، مزارات اور تمام سیاحتی مقامات بھی اگلے دوہفتوں کے لیے بند رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ اسکول اور کالج بھی صوبے بھر میں بند رہیں گے، 'ہم 5 فیصد شرح سے کم علاقوں میں اسکول کھولنے کے فیصلے پر عمل نہیں کر رہے ہیں، آج یہ ہوسکتا ہے 5 ہے لیکن کل یہ 6 ہوگی، اس لیے دوہفتوں کے لیے ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے گا۔ وزیر اعلی سندھ نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ویکسینیشن کے عمل کا حصہ بنیں، صوبائی حکومت نے 234 ویکسینین سینٹرز بنائے ہیں، آپ کو وبا سے بچانے کی واحد صورت ویکسینیشن ہے۔انہوں نے کہا کہ ویکیسن کے حوالے سے کئی افواہیں ہیں لیکن ان دعوؤں پر توجہ نہ دیں، پوری دنیا ویکسین کی وجہ سے دوبارہ کھل رہی ہے اور ہم بہت پیچھے ہیں۔انہوں نے پانی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پانی کی غیر منصفانہ تقسیم ہوئی۔ 1991میں پانی کا معاہدہ ہوا تھا، جس میں چاروں صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کی تفصیل ہے، ہر صوبے کے لیے مختص حصہ معاہدے میں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ اس پر عمل درآمد کے لیے ارسا نامی ادارہ بنایا گیا، ارسا نے اپنی طرف سے قوانین بنانے شروع کر دیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سال پانی کی کمی ہے، جو پانی کم مل رہا ہے اس میں برابری کا حصہ ہونا چاہیے، یکم مئی سے 10 مئی تک پنجاب کا 93 ہزار کیوسک، سندھ کا 91 ہزار 100 کیوسک اور بلوچستان کا 6 ہزار 800 کیوسک حصہ تھا۔مراد علی شاہ نے بتایا کہ یکم مئی سے سندھ کے لیے 35 فیصد کمی، پنجاب کے لیے 15 فیصد کمی تھی جبکہ 11 مئی سے سندھ کے لیے کمی میں اضافہ ہوا اور 37 فیصد ہوگئی لیکن پنجاب کے لیے کم ہو کر13 فیصد ہوگئی۔ یہ کہاں کا انصاف ہے، ایک صوبے کو بنجر کریں جبکہ دوسرے کو سرسبز بنائیں، ایسا نہیں ہوتا، یہ سوال ہم نے اٹھایا ہے۔ وزیر اعظم کو بھی اس حوالے سے خط لکھوں گا۔ وزیراعلی سندھ نے شہر میں بجلی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ چھٹا، ساتواں وزیر آئے تو شاید بجلی کا مسئلہ حل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں کے الیکٹرک ناکام رہی ہے، سندھ حکومت کچھ مدد کر رہی ہے تو ان کا معاملہ چل رہا ہے لیکن کہیں بھی کوئی زیادتی ہو رہی ہوگی تو برداشت نہیں کی جائے گی۔

مزید :

صفحہ اول -