رمضان المبارک!ماہِ شفا و نجات

رمضان المبارک!ماہِ شفا و نجات
رمضان المبارک!ماہِ شفا و نجات

  

ماہِ رمضان کی آمدآمد ہے، ہم اللہ رب العزت سے دُعا گو ہیں، اے اللہ اِس رحمتوں، برکتوں اور مغفرتوں والے مہینہ کو ہمارے لئے سلامتی والا مہینہ بنادے، اس ماہِ مبارک میں اہل ایمان کوشفا و نجات اور تمام انسانوں کو کرونا وبا سے چھٹکاراعطا فرمادے۔ ماہِ رمضان کا روزہ اسلامی فریضہ ہے،یہ اہل ِ ایمان کا ایمانی اورسماجی شعار ہے، معاشرتی اور عمرانی نشان ہے، تہذیبی علامت ہے، روزہ رکھنا مسلمان کے لئے رب کائنات کا حکم ہے اور یہ امر ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے اِس سے کوئی فرار کی راہ نہیں۔فرمان الٰہی ہے ”اے لوگوں جو ایمان لائے ہو تم پر روزے فرض کر دیئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے کے انبیاء کے پیرؤوں پر فرض کردیئے گئے تھے۔ اِس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی“۔(البقرۃ۲:۱۸۳)

اہل ایمان میں سے جو شخص بھی اِ س مبارک مہینہ کو پالے وہ اِس کے روزے رکھے رسول اللہﷺ نے رمضان کے روزوں کی ترغیب دی ہے، رسول اللہ ﷺ نے رمضان کی برکتوں، رحمتوں اور فضائل کے خوشگوار، حسین اثرات کو نمایاں کیاہے۔اللہ تعالیٰ نے روزہ داروں کے لئے بے پناہ اجر و ثواب کا وعدہ کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ روزہ شکنی کرنے والا اللہ کی سخت سزا کے دائرے میں آئے گا۔ روزے کی بے حرمتی کرنے والوں کے لئے روزِ قیامت سخت عذاب تیار کررکھا ہے۔روزہ کی بے حرمتی انسان کو کفر کی حد تک پہنچا دیتی ہے۔ روزہ نہ رکھنے کے عذر معلوم اور معروف ہیں، مرض یا سفر، عاجزی اور معذوری اِ س میں سے کوئی بھی عذر ہو یااگر کسی کے سارے عذراکٹھے ہوں تو بھی اِس پر لازم ہے کہ اپنے روزہ نہ رکھنے اور کھانے پینے کودوسروں سے چھپا کررکھے برسرِ عام روزہ کی بے توقیری نہ کرے۔

رمضان المبارک بڑی شان والا مہینہ ہے اور اِس کی بہت زیادہ فضیلتیں ہیں۔ اس مہینہ میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر خاص فضل فرماتا ہے، گناہوں، غلطیوں، خطاؤں اور لغزشوں کو معاف کرتا ہے۔اِس مہینہ میں جنت کے تمام دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، رزق میں فراخی عطاہوتی ہے،رحمتیں بخشش کا ذریعہ بنتی ہیں، دوزخ کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور سرکش شیاطین کو قید کردیا جاتا ہے۔ نیک اعمال کے لئے آسانیاں ہوجاتی ہیں،رمضان عبادات، خیر وعمل کا موسم ِ بہار ہے۔ مسلمان کے لئے اِس مہینہ سے افضل مہینہ اور کوئی نہیں ہے، اِس مہینہ میں کئے گئے عمل سے بہتر عمل کوئی نہیں، نیک اعمال کا اجرو ثواب کئی گنا زیادہ بڑھا کردیاجاتا ہے اور روزوں کے ساتھ تلاوت قرآن کی سماعت کے لئے رات کو تراویح کا قیام بھی نیکی کا عظیم ذریعہ ہے۔

رسول اللہؐ کا ارشاد ہے مسلمانوں کے لئے رمضان سے بہتر کوئی مہینہ نہیں اور منافقوں کے لئے رمضان سے بُرا کوئی مہینہ نہیں، جس نے فجر سے پہلے روزہ رکھنے کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا اُس کا روزہ نہیں، روزہ کی ایمان واحتساب سے حفاظت کی جائے۔

ماہِ رمضان کا اہل ایمان پر حق ہے کہ اس میں عبادات کا خصوصی ذوق وشوق پید اکیاجائے، فرض نمازوں کی باجماعت ادائیگی کے ساتھ ساتھ نوافل کا خصوصی اہتمام کیاجائے، زیادہ سے زیادہ نیک کاموں کے لئے کمر بستہ ہوجائیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ:”ماہِ رمضان بہت عظمت و برکت والا مہینہ ہے،جو شخص اِس مہینہ میں ایک فرض ادا کرے گااللہ تعالیٰ اُسے دوسرے مہینوں کے ستر فرضوں کے برابر ثواب بخشے گا۔ اِس مہینہ میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے، جو شخص اِس رات سے محروم رہ گیا وہ سارے کے سارے خیر سے محروم رہ گیااور اِس رات (لیلۃ القدر) سے محروم وہی رہتا ہے جو واقعی محروم ہے۔ ماہِ رمضان اِسی لئے شفاء ہے اورگناہوں سے نجات بھی ہے۔ آپﷺ نے روزے کے عظیم فوائدکو یوں بیان فرمایا ہے:جس شخص نے روزہ رکھ کر جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو خدا کو اِس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ وہ بھوکا اور پیاسا رہتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا جس نے ایمانی کیفیت اور احتساب کے ساتھ رمضان کا روزہ رکھا تو اللہ تعالیٰ اُس کے اُن گناہوں کومعاف فرما دے گا،جوپہلے ہو چکے ہیں۔“(بخاری)

روزہ کی عبادت اورماہ رمضان کا نظامِ تربیت دونوں بندوں کو تیار کرتا ہے کہ روزہ میں تصنع، ریاکاری اورد کھاوے سے بچے، اپنے انداز و اطوار سے روزے سے ہونے والی کمزوری اورسستی کا اظہار نہ کرے۔روزے میں پوری احتیاط اور نہایت اہتمام کے ساتھ ہر برائی سے دور رہنے کی بھرپور کوشش کی جائے۔ اِس لئے کہ روزہ کا مقصد ہی پاکیزگی اور تقویٰ ہے۔ رسول اللہؐ نے فرمایا روزہ ڈھال ہے اور جب تم میں کوئی روزے سے ہوتو اپنی زبان سے کوئی بے شرمی کی بات نہ نکالے اور نہ شور و غل کرے اور اگر کوئی اُس سے گالی گلوچ کرنے لگے یا لڑائی پر آمادہ ہوتو اُس روز ہ دار کو سوچنا چاہئے کہ مَیں تو روزہ دار ہوں۔بھلا گالی کاجواب گالی سے کیسے دے سکتا ہوں یا لڑ سکتا ہوں۔ (بخاری و مسلم)

رزقِ حلال ہی عبادات کی قبولیت کا ذریعہ ہے حرام اور حرام کمائی سے جو جسم پلتا ہے وہ جہنم ہی کے لائق ہے۔آپ ؐ نے فرمایا کہ سحری ضرور کھالیا کرو اِس لئے کہ سحری میں برکت ہے (بخاری) آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر کھانے کو کچھ بھی نہ ہوتو پانی کے چند گھونٹ ہی پی لیا کرو، خدا کے فرشتے سحری کھانے والوں پر سلام بھیجتے ہیں۔(احمد) سورج غروب ہوجانے کے بعد افطار میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔ اِس لئے کہ روزے کا اصل مقصد فرمانبرداری اوراطاعت کاجذبہ ہے۔ آپؐ کا فرمان ہے کہ مسلمان اچھی حالت میں رہیں گے جب تک افطار کرنے میں جلدی کریں گے۔ (بخاری)روزہ افطار کرانے کا بھی اہتمام کیاجائے اِس کا بڑا اجر ہے۔ آپؐ کاارشاد ہے کہ جو شخص رمضان میں کسی کا روزہ افطار کرائے گا تو اُس کے صلہ میں اللہ تعالیٰ اُس کے گناہ بخش دے گا اور اُسے جہنم کی آگ سے نجات دے گا اور افطار کرانے والے کو روزے دار کے برابر ثواب دے گا اور روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ آپؐ نے ایک سوال کے جواب میں یہ بھی فرمایا صرف ایک کھجور سے یا دودھ سے اورپانی کے ایک گھونٹ سے روزہ افطار کرادینا بھی کافی ہے۔(ابن خزیمہ)

رمضان المبارک انفاق فی سبیل اللہ کا مہینہ ہے، اللہ کی راہ میں خرچ، آخرت اور دُنیا میں مال کی حفاظت کا بہترین طریقہ ہے۔ مال اللہ کا ہے، اللہ کا حکم ہے”اے ایمان والوخدا کی راہ میں پاک کمائی خرچ کرو۔“(البقرۃ۲:۲۶۷) تم ہرگز نیکی حاصل نہ کرسکو گے جب تک وہ مال خدا کی راہ میں نہ دو جو تمہیں عزیز ہے(آل عمران۳:۹۲)خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے بعد نہ تو احسان جتانا چاہئے اور نہ لوگوں کو دکھ دیناچاہئے، جنہیں آپ کچھ دے رہے ہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے ”مومنو اپنے صدقہ و خیرات کو احسان جتاجتا کر اور غریبوں کادل دُکھا دُکھاکر،اُس شخص کی طرح خاک میں نہ ملادو جو محض لوگوں کو دکھانے کے لئے خرچ کرتا ہو (البقرۃ۲:۲۶۴) یہ صدقہ و خیرات کا مال آخرت کی دائمی زندگی کے لئے سود مند ہوگا۔زکوٰۃ اجتماعی مقاصد کے لئے ادا کرنی چاہیے اوراِس کے خرچ کا انتظام بھی اجتماعی ہو۔ زکوٰۃ واجب ہونے کے بعد ادائیگی میں دیر نہ کی جائے۔

رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف ضرور کرنا چاہئے،رسول اللہﷺ رمضان کے آخری دس دنوں میں اعتکاف فرمایاکرتے۔ حضرت عائشہ ؓ صدیقہ ؓ کا بیان ہے کہ رمضان کا آخری عشرہ آتا تو نبی ﷺ راتوں کو زیادہ سے زیادہ جاگ کر عبادت فرماتے اور گھروالوں کو بھی جگانے کا اہتمام کرتے،پورے جوش و انہماک کے ساتھ خدا کی بندگی میں لگ جاتے۔

قرآن کتابِ انقلاب ہے،یہ کتاب ِ لاریب اور سراسر ہدایت ہے۔ قرآن عظیم بندگانِ خدا کے لئے یقینی طور پر سرچشمہ ہدایت و رحمت اور صراطِ مستقیم ہے۔ قرآن محض ایک آخری آسمانی کتاب ہی نہیں یہ تو انقلاب حیات کا مکمل لائحہ عمل اور روڈ میپ ہے اور کامیابی و سرفرازی کا بیش بہا ذخیرہ ہے۔ قرآن کا حق ہے کہ اِسے پڑھاجائے،سمجھا جائے اور اس کے فہم و شعور اور تعلیمات کو عام کیا جائے، اور خوداس پر عمل پیرا ہوا جائے۔ آخری عشرہ میں نزول قرآن کی رات لیلۃ القدر کی تلاش کی جائے۔

ماہِ رمضان اِس کا بہترین ذریعہ ہے۔فرائض کی ادائیگی اور تراویح اور تلاوتِ قرآن کااہتمام۔ رمضان المبارک میں رجوع الی اللہ، توبہ واستغفار کے ماحول کو فروغ دیاجائے، عوام الناس کو قرآن و سنت کے ساتھ وابستہ کیاجائے، نیکی کی آبیاری اور برائی کے قلع قمع کے لئے اجتماعی کوشش کی جائے۔ کورونا وبا سے پوری دنیا متاثر ہے۔ مساجد میں باجماعت نمازوں، نمازِ تراویح اور اعتکاف کا حکومت اور اکابر علمائے کرام نے لائحہ عمل پر اتفاق کیا ہے۔ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس کی پابندی کی جائے۔ خصوصا مساجد کے منتظمین ومہتمین اور بالعموم محلوں کے نوجوان اِ س کا اہتمام کریں۔ رجوع الی اللہ اور توبہ استغفار ہی اللہ تعالیٰ کو منالینے اور اس کی ناراضی کو دور کرنے کا واحد راستہ ہے۔

مزید :

رائے -کالم -