اسلام اور سوشلزم

اسلام اور سوشلزم
اسلام اور سوشلزم

  



یہ ثابت کرنے کے لئے کہ کیا کچھ کیا جا سکتا ہے، بلکہ یوں کہئے کہ ناممکنات کو بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے، مجھے ایک حیرت انگیز جگہ کے بارے میں بات کرنے کی اجازت دیجئے۔ یہ جگہ سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورالوجی اینڈ ٹرانس پلانٹیشن (سیوٹ)ہے۔ ایسا نہیں کہ لوگ اس انسٹی ٹیوٹ کے بارے میں جانتے نہیں ، تاہم ہر بار یہاں آنے سے کچھ نئی باتوں کا پتہ چلتا ہے۔ ذاتی طور پر مَیں اس جگہ کو پسند نہیں کرتا، کیونکہ یہاں آکر دل جذبات سے بوجھل ہو جاتا ہے اور اگرچہ اس عمر میں آنسو بہانا اچھا نہیں لگتا، لیکن کیا کیجئے، سیوٹ بہت سی حیرتوں کو اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے۔ صرف یہی حقیقت انسا ن کو ورطہ ¿ حیرت میں ڈال دیتی ہے کہ اگرچہ یہ ادارہ بہت وسیع علاقے پر پھیلا ہو اہے، لیکن اس میںکوئی بھی رقم کی وصولی کا کاﺅنٹر نہیں ہے۔ ابتدائی معائنے سے لے کر پیچیدہ قسم کے ٹیسٹ اور علاج کی سہولتیں، سب کچھ مفت ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کوئی مریض کوئی عام انسان ہے کہ ارب پتی رئیس۔ اس کے علاوہ یہاں ایک اور پاکستانی حماقت، یعنی وی آئی پی شخصیات کے لئے مخصوص وارڈز بھی نہیں ہیں۔ اگر آپ مریض ہیں، چاہے گردوں کی صفائی کرانا چاہتے ہیں یا ٹرانس پلانٹیشن، تو آپ کو جنرل وارڈ میں ہی رہنا پڑے گا۔ یہاں حقیقی معنوں میں محمود و ایاز ایک ہی صف میں ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ابھی ایک مزید حیرت انگیز بات سنیں، یہاں لیڈیز و جینٹس کے بھی الگ وارڈز نہیں ہیں۔ ایک ہی وارڈ میں مرد وخواتین ہوتے ہیں اور اخلاقیات کے پاﺅں کے نیچے سے نہ تو زمین سرکتی ہے اور نہ ہی اس کے سر پر کوئی آسمان ٹوٹتا ہے۔

سیوٹ(SIUT )کے بانی اور اس کے روح ِ رواں ڈاکٹر عبیدالحسن رضوی نے سال ہا سال سے حیران کن کارکردگی دکھائی ہے، لیکن میرے لئے سب سے حیران کن بات یہاں صفائی کا بہترین انتظام ہے.... مجھے بھی صفائی کاجنون کی حد تک خبط ہے اور میری ناقدانہ نظریں یہاں کے اَن گنت کمروں اور راہداریوں کا مسلسل جائزہ لیتی رہیں، لیکن مجھے کہیں بھی گندگی کا ایک ذرہ تک دکھائی نہ دیا....اور پاکستان میں کسی ادارے میں یہ معیار کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔ مَیں نے ایوا (نامور کالم نگار اردشیر کاﺅس جی مرحوم کی صاحبزادی)سے پوچھا کہ اگر اتنا اچھا انتظام یہاں ہو سکتا ہے تو باقی ملک میںکیوں افراتفری پھیلی ہوئی ہے؟ اُس نے جواب دیا کہ ایسا ہر جگہ ہو تو سکتا ہے، لیکن اس کے لئے محنت اور لگن کی ضرورت ہے،چونکہ لوگوںکو اس ادارے پر پورا یقین ہے، اس لئے وہ دل کھول کر اس کو عطیات دیتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اُن کی رقم ضائع نہیںہوگی۔ ایک سلیمان داﺅد ڈائیلسزسینٹر ہے، جس میں ایک سو کے قریب گردے صاف کرنے والی مشینیں دن رات کام کرتی ہیں۔ دیوان فیملی نے ایک پوری عمار ت اس کام کے لئے وقف کر رکھی ہے۔ کاﺅس جی ٹرسٹ نے لیٹھو ٹرپسی سنٹر کے لئے مشینیں (یہ مشینیں لیزر سے گردے کی پتھری کو تباہ کردیتی ہیں)اور بارہ گردے صاف کرنے والی مشینیں عطیہ کی ہیں۔ یہ مشینیں اُن مریضوں کے لئے وقف ہیں، جن کے گردے ہپاٹائٹس سی کی وجہ سے خراب ہو چکے ہوں (جب مَیں ایوا سے یہ تفصیل معلوم کر رہا تھا تو اُنہوںنے مجھے سختی منع کیا کہ میں کاﺅس جی ٹرسٹ کے عطیات کا کالم میں ذکر نہ کروں۔ افسوس ، میںایسا کئے بغیر رہ نہیں سکتا)۔

میرا چونکہ یہاں کا دورہ بہت مختصر وقت کے لئے تھا، اس لئے میں اس عظیم الشان ادارے کے بارے میں زیادہ کچھ نہ جان سکا۔ مجھے یقین ہے کہ اس کی معاونت کرنے والے بہت بڑے بڑے نام ہوں گے، لیکن ڈاکٹر رضوی نے مجھے چائے پینے کے دوران بتایا کہ عام افراد، جیسا کہ پنجاب کے دور دراز کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے کسی سکول ٹیچر کی طرف سے آنے والا دو سو روپے کا منی آرڈر ،کسی ٹیکسی یا رکشہ والے کی چھوٹی سی عنایت، کسی مزدور کی تھوڑی سی جمع پونچی اُن کے لئے بے حد اہمت کی حامل ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ملک کے لوگ بہت دریا دل ہیں۔ یہ لوگ کم وسائل کے باوجود کچھ بھی کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ ان افراد کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس اعلیٰ ظرف قوم کی قسمت کے فیصلے کرنے لئے بہت کم ظرف لوگ مسند اقتدار پر فائز ہوجاتے ہیں۔ کہیں نہ کہیں ، کچھ نہ کچھ خرابی ضرور ہے۔

مَیں سیوٹ( SIUT) میں کیوں آیا؟ اس کی وجہ اس ادارے کا معائنہ کرنا نہیں تھا، بلکہ اپنا جسمانی معائنہ کرانا تھا۔ ہوا یوں کہ گزشتہ سہ پہر کو اردشیر کاﺅس جی کی یادیں تازہ کرنے کے لئے اُن کے دولت خانے پر تھا، جب مشروبات کے کچھ گلاس پینے کے بعد میزبان ایوا اور کالم نگار آمینہ جیلانی نے نوٹ کیا کہ مجھے کچھ تکلیف ہے، چنانچہ وہ اگلی صبح مجھے سیوٹ( SIUT) لے آئیں۔ وہاں میرے دو ٹیسٹ کئے گئے جو بڑے بڑوں کو سیدھا کر دیتے ہیں۔ بہرحال ان ٹیسٹوں کی زیادہ تفصیل نا مناسب ہوگی۔ اُن کی رپورٹ کے مطابق میرے پروسٹیٹ غدود ٹھیک تھے، لیکن خون اور جگر کے لازمی ٹیسٹ کے بعد مجھے معالج ایک طرف لے گئے اور کہا کہ مجھے ایک دو ادویات لینا ہوں گی اور یہ بھی کہا کہ مجھے ”محتاط “ رہنا ہوگا۔ مَیں نے پوچھا کہ کیا ”پر ہیز “ کرنا ہو گا توجواب ملا ....”اس کی تلافی ہو جائے گی“.... جواب کے الفاظ تو سہل تھے، لیکن یہ بات واضح نہیںکی گئی کہ کیا تلافی اس دنیا میں ہونی تھی یا اگلی دنیا میں۔ بہرحال معالج کے مشورے کو رد کرنا بھی دانائی نہیں ہے، چنانچہ آپ یقین کریں یا نہ کریں، آج کل پرہیز ہی پرہیز ہے۔

بہرحال اس علاج کو فروگزار کریں، کیا یہ سوال نہیں اُٹھتا کہ اگر ڈاکٹر رضوی اور اُن کی پرُ عزم ٹیم ، جس میں ڈاکٹر انور نقوی جیسے ماہرین شامل ہیں، سیوٹ جیسے ادارے کو نہایت رشک آفریں طریقے سے چلاسکتے ہیں تو وہ ، یااس وطن کے دیگر افراد قومی زندگی کے دیگر معاملات ، جیسا کہ تعلیم، توانائی اور ٹرانسپورٹ ، کا مناسب انتظام کیوں نہیں کر سکتے۔ ہمارے ملک میں حسن ِ انتظام ، جیسا کہ سیوٹ میں دیکھنے میں آیا، کی مثالیں ناپید کیوں ہیں؟اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم باصلاحیت لوگ نہیں ہیں۔ 2005ءکے تباہ کن زلزلے کے دوران قوم نے بہترین ردِ عمل کا اظہار کیا تھا۔ اسی طرح 2009ءکے سوات آپریشن کے دوران بھی دس لاکھ بے گھر افرادکے لئے انتظام کسی غیر ملکی ادارے نہیں، بلکہ اِسی وطن کے مخیر حضرات نے کیا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ اس خاکستر میں ابھی بھی بہت سی چنگاریاں موجود ہیں۔ اگر ہم ایسے کام کر سکتے ہیں ، اگر ہم ایدھی فاﺅنڈیشن جیسی بے مثال تنظیم چلا سکتے ہیں، اگر اس ملک میں شوکت خانم جیسا کینسر ہسپتال عوامی چندے سے بن سکتا ہے، اگر سیوٹ اسلام اور سوشلزم کے علامتی ملاپ کے طور پر بہترین طریقے سے کام کر سکتا ہے ، تو پھر خدا را سوچئے، ہم اتنے پسماندہ اور مفلوک الحال کیوں ہیں۔

سیوٹ کسی دور افتادہ جزیرے پر واقع نہیںہے، یہ کراچی کے قلب میں واقع ہے اور کراچی کا نام آتے ہی تشدد اور خونریزی کا تصور ذہن میں آجاتا ہے، لیکن یہ پاکستان کا واحد شہر ہے ،جہاں ہمارے قومی خدوخال کے تمام دھارے متصل ہوتے ہیں۔ اسے بجا طور پر ”پاکستان ِ اصغر “ قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہاں پاکستان کے ہر کونے سے آنے والے افراد رہتے ہیں۔ اگر کراچی میں اسی طرح جنگ و جدل جاری رہی تو پاکستان میں بھی امن قائم نہیںہو سکے گا ، اور اگر اس شہر میں معاشی خوشحالی آتی ہے تو باقی ملک بھی خوشحال ہوگا۔ اگرچہ کراچی ہر قسم کی قومیتوں کی موجودگی رکھتا ہے، لیکن یہ بات کسی کو اچھی لگے یا بُری، مہاجر یہاںکی سب سے بڑی سیاسی قوت ہیں اور ایم کیو ایم ان کی نمائندہ جماعت ہے۔ الطاف حسین کی قیادت میں ایم کیو ایم اب بہت آگے آچکی ہے۔ اس نے سیاسی طور پر بکھرے ہوئے گروہ کی تنظیم سازی کی ہے ، تاہم اب وقت آگیا ہے، جب یہ ماضی کی بجائے مستقبل کے تقاضوںکی طرف دیکھے۔

بہرحال اب وہ دن جاچکے ہیں،جب شہر میں صرف ایک پارٹی کا ہی جھنڈا لہراتا تھا۔ حالیہ انتخابات میں یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ اب مخالف لوگوں کو دُور بھگانے کی بجائے اُن کو قریب لایا جارہا ہے۔ اس شہر میں اجارہ داری کی بجائے ساجھے دار ی کی فضاقائم ہونے کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ اب ناظم آباد اور ڈیفنس.... (یہ مقامات علامت کے طور پر استعمال کئے گئے ہیں) ....کے درمیان محاذآرائی کی بجائے تعاون پایا جاتا ہے۔ بہرحال اس شہر کی سیاسی قوتوں کو چوکس رہنے کی ضرورت ہے، کیونکہ انتہا پسندقوتیں بھی گھات میں ہیں۔ کیا الطاف حسین اور عمران خان اس ہم آہنگی کو آگے بڑھا سکتے ہیں؟کیا عمران خان ماضی کے تعصبات سے جان چھڑا سکتے ہیں ؟ کیا الطاف حسین اپنی ترجیحات کو تبدیل کر سکتے ہیں ؟اگر وہ بیک جنبش ِ قلم کراچی کی آرگنائزنگ کمیٹی کو برطرف کر سکتے ہیں تو یقینا وہ بہت کچھ کر سکتے ہیں کیونکہ صورت ِ حال پر اُن کی گرفت ہے۔ ا س بات کا کریڈٹ اُن کو دیا جانا چاہئے۔

پس ِ تحریر: پنجاب اب اگلے پانچ سال کے لئے بے کیف ہو جائے گا ،کیونکہ یہاں شہباز شریف کی حکومت قائم ہونے والی ہے۔ بہرحال سندھ اور کراچی میں بہت سے امکانات اُبھر رہے ہیں اور اُن پر نظر رکھنا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ کچھ عرصہ بعد جب پی پی پی نے بھی اس گراوٹ کے بعد انگڑائی لے کر بیدار ہونا ہے اور اس نے آصف علی زرداری کی چھتری سے باہر نکل کر آزاد فضاﺅں میں سانس لینا ہے۔ ایم کیو ایم بھی نئے امکانات کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس طرح اگلے پانچ سال کے لئے سیاسی امکانات کا مقام کراچی ہوگا۔

مصنف، معروف کالم نگار اور سیاسی تجزیہ کار ہیں۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں ری پروڈکشن کی اجازت نہیں ہے۔  ٭

مزید : کالم


loading...