سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے اتائیت سے نمٹنے کےلئے ٹےمیں تشکیل دیدی

سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے اتائیت سے نمٹنے کےلئے ٹےمیں تشکیل دیدی

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر) چیف اےگزیکٹیو آفیسر سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن ڈاکٹر منہاج قدوائی اور ڈائریکٹر انسداد اتائیت ڈائریکٹوریٹ ایاز مصطفی نے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز سندھ کی جانب نامزد کئے گئے فوکل پرسنز سے ملاقات کی اور اتائیت سے نمٹنے کیلئے لائحہ عمل ترتےب دیا ۔ جبکہ سی ای او سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن ڈاکٹر منہاج قدوائی اور ڈائریکٹر انسداد اتائیت ڈائریکٹوریٹ ایاز مصطفی نے وزیر اعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزاکی زیر صدارت لاڑکانہ میں ہونے والی میٹنگ میں بھی شرکت کی ۔ اس موقع پر صوبائی وزیر برائے صحت عذرا فضل پےچوہو ، عالمی ادارہ برائے صحت پاکستان کے سربراہ اور دیگر انٹرنیشنل ادارو ں کے سربراہان نے بھی شر کت کی ۔ اجلاس کے دوران انسداد اتائیت ڈائریکٹوریٹ نے اتائیت اور اےچ آئی وی کی روک تھام کے حوالے سے بنائی گئی منصوبہ بندی اور حکمت عملی سے آگاہ کیا۔ دوسری جانب انسداد اتائےت ڈائریکٹوریٹ کے تحت مختلف کارروائیوں میں اب تک 820 سے زائد کلینکس کو سیل کیا جاچکا ہے ان میں سے 160کو لاڑکانہ میں بند کیا گیا ۔ انسداد اتائیت کی ٹیموں نے 29اپریل سے 23مئی کے درمیان 650 اتائیوں کے کلینکس کو مختلف اضلاع میں سیل کیا گیا۔ ڈائریکٹوریٹ آف کلینکل گورننس اینڈ ٹریننگ نے لیڈی ہیلتھ ورکرز اور سپر وائزر ورٹیکل پروگرام کوارڈینیٹر ڈاکٹر شازیہ بلوچ سے رورل ہیلتھ سینٹر بلدیہ کراچی میں ملاقات کی جبکہ اس موقع پر سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی ٹیم نے ہیلتھ ورکرز کو انفیکشن کنٹرول ، سرنج اور انجکشن کے غلط استعمال کے حوالے سے آگاہی بھی دی ۔ اس موقع پر مستقل میں متعدی بیماریوں سے نمٹنے کیلئے لائحہ عمل بھی بنایا گیا۔ مزید براں ڈائریکٹوریٹ آف لائسنسنگ اینڈ ایکریڈیشن کو 269 مزید اسپتالوں نے رجسٹریشن کیلئے درخواستےں جمع کروادیں جبکہ 74صحت کے مراکز کو رجسٹریشن سرٹیفیکٹس کا اجراءکردیا گیا جس سے سندھ میں رجسٹرڈ اسپتالوں کی تعداد 4726 ہوگئی ہے۔ دوسری جانب ڈائریکٹوریٹ آف کمپلینٹس اسپتالوں سے متعلق 66شکایات وصول ہوئیں جن میں سے 38شکایات کو کامیاب کے ساتھ حل کرلیا گیا ہے جبکہ 24شکایات حل کی جارہی ہیں اور چار دیگر قانونی طرےقے سے حل کی جارہی ہیں ۔ جبکہ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی ٹیم نے قومی ادارہ برائے امراض قلب کا شکایت کے وصولی کے بعد معائنہ کیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -