بامقصد تعلیم میں ہی نجات ہے

بامقصد تعلیم میں ہی نجات ہے
بامقصد تعلیم میں ہی نجات ہے

  

                                                                                                            مجھے اس بات کا بے حد فخر ہے کہ مَیں ایک کشمیری پاکستانی ہوں۔مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ 1947ءمیں ہم بچے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگایا کرتے تھے۔اسلام زندہ باد کے نعرے بھی ہندوﺅں اور سکھوں کی موجودگی میں لگایا کرتے تھے۔ ہمیں کسی قسم کا ڈر خوف نہیں ہوتا تھا۔ اس قسم کے جلوسوں میں ”بوڑھے، جوان، بچے“ سب شامل ہوا کرتے تھے۔میرا پیدائشی گاﺅں راجل نوشہرہ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔نوشہرہ ڈوگرہ افواج کی ایک مشہور چھاﺅنی تھی۔یہ چھاﺅنی ہمارے گاﺅں سے5/7میل دور واقع تھی۔راستے میں مشہور زمانہ جموں توی آتی تھی۔اس علاقے کی لاکھوں کی مسلمان آبادی کے لئے صرف ایک پرائمری اور مڈل سکول تھے۔اتنے زیادہ فاصلے کی وجہ سے بہت کم بچے سکول جایا کرتے تھے۔ہمارے دن رات کے پُرو پاکستان جلسوں اور جلوسوں کی وجہ سے ڈوگرہ حکمران الرٹ ہوگئے تھے۔ہمیں خوفزدہ کرنے کے لئے انہوں نے گورکھا سپاہیوں کی ایک کمپنی ہمارے گاﺅں راجل میں تعینات کردی تھی۔ہم نے زندگی میں پہلی بار چھوٹے چھوٹے قدو قامت کے گورکھا سپاہیوں کو دیکھا تھا“ ہم ان کو بچے سپاہی کہا کرتے تھے“۔جسمانی لحاظ سے گورکھا سپاہی تندومند اور طاقتور ہوتے ہیں۔

زندگی میں پہلی بار اپنے علاقے سے گزرتے ہوئے ایک ہاتھی کو بھی دیکھا تھا۔ہمارے جوانوں کے پاس صرف 2/4کارتوسی بندوقیں تھیں اور باقی جوان تلواروں، نیزوں اور لاٹھیوں سے مسلح ہوتے تھے۔انہی دنوں بھارتی فضائیہ کا ایک لڑاکا ہوائی جہاز ہمارے گاﺅں میں آ گیا تھا اور اس نے آتے ہی گولہ باری شروع کردی تھی۔اس عمل سے ہمارے علاقے میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا۔لوگوں نے اِدھر اُدھر بھاگ کر آس پاس کے جنگلوں میں پناہ لی تھی۔ساتھ ہی ساتھ نوشہرہ چھاﺅنی سے ڈوگرہ فوجیوں نے لگاتار فائرنگ شروع کر دی تھی۔قدرت کا کمال دیکھئے کہ ہمارے اردگرد دشمن کی موجودگی کے باوجود ہم لوگ اپنی جانوں کو بچا کر پاکستان میں داخل ہوگئے تھے۔

مَیں نے ساری تعلیم پاکستانی تعلیمی اداروں سے حاصل کی تھی۔ہمارے سب سے بڑے بھائی راجہ شفیع خان زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے، مگر اپنے علاقے کے دانشوروں میں شمار ہوتے تھے۔یہ ان کا اور ان کے ساتھیوں کا ہی کارنامہ تھا کہ وہ اپنے سارے خاندان کو دیگر لوگوں کے ہمراہ حفاظت سے پاکستان میں لے آئے تھے۔میرے والد راجہ علی اکبر اس وقت مشرقی افریقہ کے ایک ملک کینیا میں محکمہ ریلویز میںملازم تھے۔وہ بھی ہماری ہجرت کا سن کر اپنی ملازمت چھوڑ کر پاکستان آ گئے تھے۔اس سے ہمارے خاندان کی مالی مشکلات میں بہت اضافہ ہوگیا تھا۔کوئی بھی خاندان میں کمانے والا نہیں تھا۔ غربت اور محرومی نے ہمیں بُری طرح اپنے شکنجے میں کس رکھا تھا۔حکومت پاکستان کی طرف سے ہمیں جو فری راشن ملتا تھا۔وہ ہماری ضروریات زندگی کے لئے ناکامی ہوتا تھا۔ہماری تعلیم کا سلسلہ ٹوٹ چکا تھا۔مَیں نے خود شرفاءکی عورتوں کو مانگتے ہوئے دیکھا تھا۔خود ہمارے خاندان کے کچھ لوگ مانگنے پر مجبور ہو گئے تھے۔

ایک ناقابل فراموش واقعہ آپ کو سناتا ہوں۔تحصیل کھاریاں کا ایک گاﺅں ”ڈوگہ“ ہے، وہاں ہمارے کچھ قریبی رشتہ دار رہتے تھے۔وہ اپنے علاقے کے جاگیردار اور سردار تھے۔ایک بار مَیں ان سے ملاقات کے لئے گیا تھا۔ڈوگہ گاﺅں کے قریب ہی کھاریاں شہر واقع ہے۔ہمارے رشتہ دار وہاں مانگنے کے لئے جایا کرتے تھے۔ایک دن وہ مجھے اپنے ساتھ کھاریاں بازار میں لے گئے تھے۔وہاں انہوں نے مانگنا شروع کردیا تھا۔ان کے کہنے پر مَیں نے بھی اسی طرح مانگنا شروع کردیا۔ایک پڑھے لکھے نوجوان کے سامنے مَیں نے بھی مالی امداد کا واسطہ دیا۔جواب میں اس نے کہا کہ ہم جو یہ کام کررہے ہیں۔ وہ انتہائی ”قابل نفرت“ اور ”گھٹیا“ ہے، اس کی باتوں سے مَیں نے سخت شرمندگی محسوس کی اور آئندہ مانگنے کا کام چھوڑ دیا۔

ان دنوں لالہ موسیٰ میں ایک واقعہ ہوا،جس کی وجہ سے میری زندگی نے ایک اہم ترین پلٹا کھایا۔مَیں اپنے گھر کی بالکونی میں کھڑا تھا۔کچھ بچوں کو کتابوں کے بیگ اٹھائے سکول کی طرف جاتے ہوئے دیکھا۔اچانک مجھے بھی سکول جا کر تعلیم حاصل کرنے کا خیال آیا۔مَیں نے اپنے بزرگوں کو کہا کہ مَیں تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہوں اور مجھے بھی سکول میں داخل کرا دیا جائے۔مَیں نے اسلامیہ ہائی سکول لالہ موسیٰ سے ابتدائی تعلیم مکمل کی۔تعلیم جاری رکھنے کا شوق میرے دل و دماغ میں موجود تھا۔مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے یہ شوق پورا ہوتا نظر نہیں آتا تھا....”خدا ان کی مدد کرتا ہے، جو اپنی مددآپ کرتے ہیں“.... ہمارے گاﺅں کے محمد عالم شتیانوالہ گیٹ کے پاس ہی مندر کے ایک کمرے میں رہا کرتے تھے۔محمد عالم کی سفارش سے مجھے وہاں مندر کے کمرے میں رہنے کی اجات مل گئی۔محمد عالم کا بہت بڑا خاندان تھا، وہ جلد ہی میری موجودگی سے تنگ آ گئے تھے۔انہوں نے مجھے صاف کہہ دیا کہ مَیں رہائش کا کسی اور جگہ بندوبست کر لوں۔

محلہ فتو پورہ گجرات میں ہمارے گاﺅں کا ایک مزدور خاندان رہتا تھا۔ان کے پاس بھی صرف ایک ہی کمرے والا مکان تھا۔ وہ دن کو منڈی میں مزدوری کرتے تھے اور شام کو میری اور اپنی خوراک کا اہتمام کرتے تھے۔اس خاندان کے تمام لوگ وفات پا چکے ہیں۔اس خاندان کی صرف ایک خاتون جس کا نام الطاف بی بی ہے، زندہ موجود ہے۔مَیں کھلے دل سے اس خاتون کی مدد کرتا ہوں۔محلہ فتوپورہ سے میرا کالج (زمیندار کالج) بہت ہی دور پڑتا تھا۔گجرات کچہری کے پاس ہی ہمارے گاﺅں کا ایک اور غریب خاندان رہتا تھا۔وہاں سے زمیندار کالج نزدیک تھا۔اس طرح مَیں نے دین محمد بٹ کے گھر پر رہائش رکھ لی۔اس گھر کے سامنے ضلع گجرات کے ایک بڑے زمیندار اور رئیس میاں فتح محمد کی رہائش تھی۔میاں محمد افضل حیات سابق چیف منسٹر پنجاب اسی گھرانے کے چشم و چراغ ہیں۔مَیں ”میاں فیملی“ کے بچوں کو بغیر کسی اجرت کے پڑھایا کرتا تھا۔”میاں فتح محمد“ محترم کے ذاتی ملازم ایک بوڑھے ملک رجب علی ہوتے تھے۔قد میں بہت ہی چھوٹے تھے۔ان کو جلد غصہ آ جاتا تھا۔مشکل سے چلتے پھرتے تھے۔کچہری روڈ پر اس خاندان کی ایک بہت بڑی کوٹھی ہے۔اس کوٹھی کے اندر بیل سے چلنے والا کنواں بھی تھا۔مجھ اور بٹ فیملی کے بچوں سے ملک رجب علی بیل کا کام لیتے تھے۔ ہم 3/4لڑکے مل کر پرشین ویل کو چلاتے تھے۔اس طرح ”بابا ملک رجب علی دیر تک کنواں“ کے حوض میں نہاتے رہتے تھے۔ہم لڑکے تھک کر چور ہو جاتے تھے۔بابا جی کو آخر ہم پر ترس آ جاتا تھا اور وہ نہانا بند کردیتے تھے۔ان دنوں ایک اور اہم واقعہ پیش آیا تھا۔مَیں صبح سویرے سیر کے لئے باہر پکی سڑک پر دور نکل جاتا تھا۔گھر واپسی پر مجھے ایک سڑک پر چمکتی ہوئی کوئی چیز نظر آئی۔اٹھا کر دیکھا تو یہ سونے کی قیمتی گھڑی تھی۔مجھے فوراً خیال آیا کہ یہ کسی اور کا مال ہے۔مجھے اس کو اپنے پاس رکھنے کا کوئی بھی حق نہیں ہے۔واپسی پر مَیں نے وہ گھڑی بابا ملک رجب علی کو دکھائی ۔ انہوں نے فوراً وہ گھڑی میرے ہاتھ سے لے کر اپنی جیب میں ڈال لی۔ان دنوں مجھے پیسوں کی سخت ضرورت ہوتی تھی۔سونے کی قیمتی گھڑی کو فروخت کرکے مَیں اپنی ضروریات کو پورا کرسکتا تھا۔مَیں نے ایسا ہرگز نہ کیا۔خدا کی ذات پر مجھے بھرپور بھروسہ تھا۔اسی طرح مجھے ایک عزیز دوست نے ایک سونے کی اینٹ تحفے کے طور پر دی تھی۔میری حماقت دیکھئے کہ مَیں نے یہ سونے کی اینٹ اپنے ایک انتہائی قریبی دوست کو دکھائی۔ انہوں نے دیکھتے ہی وہ سونے کی اینٹ میرے ہاتھ سے لے کر اپنی جیب میں ڈال لی۔اس دوست کی اس حرکت پر مجھے آج تک سخت دکھ اور رنج ہے۔اگر وہ مجھ سے ویسے مانگتا تو مَیں خوشی سے اس کو بطور تحفہ دے دیتا،جس طرح کہ مجھے یہ اینٹ تحفے کے طور پر ملی تھی۔

بہت عرصہ پہلے کی بات ہے کہ مَیں اپنے عزیز و اقارب سے ملاقات کے لئے برطانیہ گیا۔ہمارے لوگوں میں ایک رواج ہے کہ جو کوئی بھی پاکستان سے برطانیہ یا کسی اور ملک میں جاتا ہے تو وہاں ہمارے سب لوگ اس کی خوب آﺅ بھگت کرتے ہیں۔کھانوں کی دعوت دیتے ہیں۔جب مہمان رخصت ہوتا ہے تو اس کو پونڈ/ ڈالرز دیتے ہیں، اس رواج کو”پوچھ“ کہا جاتا ہے۔ تحفہ لینے سے اگر آپ انکارکریں تو وہ سخت بُرا مناتے اور ناراض ہو جاتے ہیں۔وہاں تقریباً تمام لوگ اپنے پاس جدید کاریں رکھتے ہیں۔وہ خود آتے ہیں اور اپنی ہی گاڑیوں پر مہمانوں کو اپنے گھروں میں لے جاتے ہیں۔ واپسی پر خود وہ اپنی کاروں پر مہمانوں کو وہاں ہی چھوڑ آتے ہیں،جہاں سے وہ مہمان گیا تھا۔

اہم مقامات کی وہ سیر بھی اپنے مہمانوں کو کراتے ہیں۔مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ ”میزبانوں“ نے مجھے تحفہ کے طور پر تقریباً پانچ ہزار کے لگ بھگ پونڈ دیئے تھے۔میزبان رشتہ دار خاتون کو اس بھاری رقم کا علم ہو چکا تھا۔اس کے مانگنے پر مَیں نے یہ ساری رقم اس رشتہ دار خاتون کو خوشی سے بطور تحفہ دے دی تھی۔میری جیب خالی ہوگئی تھی۔اس بات کا مجھے قطعی افسوس نہیں ہے کئی ایک دوستوں اور رشتہ داروں کی طرف سے دیئے گئے تمام کے تمام پونڈ میزبان رشتہ دار خاتون کو دے دیئے تھے۔دولت آتی جاتی رہتی ہے۔یہ انسان کا کوئی پکا ساتھی نہیں ہے۔علم ہی وہ واحد دولت ہے جو ہمیشہ انسان کے ساتھ رہتی ہے اور اس کا معاون ساتھی ہوتی ہے۔اس موقع پر مَیں پاکستان کے حکمرانوں سے اپیل کروں گا کہ وہ 100فیصد پاکستان کا پڑھا لکھا معاشرہ کرنے کے لئے ”قانون سازی“ کریں اور اس قانون کے تحت پاکستان کے تمام بچے بوڑھے جوان جلد از جلد زیور تعلیم سے آراستہ ہوں گے۔یہی ہمارے لئے راہ نجات ہے۔

قارئین آپ سب میری زندگی کے ان واقعات پر غور کریں۔دیکھیں کہ مَیں نے کہاں سے سفر کا آغاز کیا تھا اور پھر کہاں پہنچ گیا تھا۔آپ بھی میری طرح کا سفر شروع کر سکتے ہیں، مگر آپ کو میرے جیسا ”عزم اور حوصلہ“ اپنے اندر پیدا کرنا ہوگا۔غربت، بے بسی اورمحرومی کا مردانہ وار مقابلہ کرنا ہوگا۔ہمارے پیارے وطن پاکستان میں اَن گنت ایسے لوگ موجود ہیں جو آپ کی مدد ”قدمے درمے سخنے“ کرنے کو تیار ہوں گے۔انسان اپنی زندگی خود بناتا ہے یا اسے بگاڑتا ہے۔آپ وقت کا ساتھ دیں، تعلیم اور وقت کی پابندی کا جنون کی حد تک خیال رکھیں۔ آپ پھر سب کچھ پالیں گے، جس کی آپ کو تمنا ہے۔ میری خواہش ہے کہ پاکستان سے ”غربت اور جہالت“ ختم ہو جائیں۔حکمران اگر ایماندار اور دیانتدار ہوں تو غربت اور جہالت کو ختم کیا جا سکتا ہے۔حکمران اور امیر لوگ جھوٹ بولنا چھوڑ دیں۔وہ اپنی تمام دولت اور خزانوں کو بیرون ملکوں سے واپس پاکستان لے آئیں۔اس عمل سے معاشی لحاظ سے پاکستان دیکھتے ہی دیکھتے چیتا نہیں، بلکہ شیر ببر بن جائے گا۔امیر لوگ پورا پورا اپنی آمدن کا انتہائی ایمانداری سے ٹیکس ادا کریں، پھر اس دولت کو پاکستان کی ترقی کے لئے اور غربت اور جہالت کو ختم کرنے کے لئے خرچ کیا جا سکتا ہے۔     ٭

مزید :

کالم -