ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری سے ہائی پروفائل شخصیات میں اضطراب

ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری سے ہائی پروفائل شخصیات میں اضطراب

  

کراچی تجزیہ /مبشر میر

کراچی آپریشن کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ کی حیثیت اعزازی کپتان کی سی دکھائی دیتی ہے، تیز رفتاری سے نتائج حاصل کرنے کیلئے سول اور ملٹری سیکورٹی اداروں نے مل کر کام کرنے کا آغاز کردیا۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے حالیہ دورۂ کراچی میں سندھ کی سیاسی قیادت سے پوچھ گچھ نہیں ہوئی اور نہ ہی مشاورت ۔ اجلاس کورکمانڈر آفس میں ہونا اور تمام سیکورٹی اداروں کی شرکت اس بات کا اشارہ ہے کہ آپریشن کے فیصلہ کن مرحلے میں سیاسی مداخلت کی اجازت نہیں ہوگی۔ سابق وفاقی وزیراور سابق صدر کے قریبی ساتھی ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری سے یہ نقطہ نظر زیادہ مستحکم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ کرپشن اور دہشتگردی کے گٹھ جوڑ کو توڑنے کیلئے تیسرا مرحلہ تیز ترین اور نتیجہ خیز دکھائی دیتا ہے۔ ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرنے کیلئے بنائی جانے والی کمیٹی بھی ایم کیو ایم کیلئے سہولتیں حاصل نہیں کرسکے گی۔ ذرائع اس بات کا اشارہ دے رہے ہیں کہ مزید ہائی پروفائل شخصیات کو کڑے احتساب سے گزرنے کا وقت آگیا ہے۔ سندھ حکومت کی انتظامیہ کا حال اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چیف سیکریٹری ایک طرف کرپشن کے تدارک کیلئے اجلاس کی صدارت کرتے ہیں اور دوسرے روز اپنی ضمانت قبل از گرفتاری کرواتے ہیں ۔ اس وقت سندھ حکومت کے دس سے زائد صوبائی سیکریٹری اپنی ضمانت میں توسیع کرواچکے ہیں۔

مزید :

تجزیہ -