مقبوضہ کشمیر میں افسپا کا اطلاق کالعدم قرار دیا جائے، بھارتی پارلیمنٹ میں کانگریسی رکن کا مطالبہ

 مقبوضہ کشمیر میں افسپا کا اطلاق کالعدم قرار دیا جائے، بھارتی پارلیمنٹ میں ...

  نئی دہلی(کے پی آئی)بھارتی پارلیمنٹ کے جاری اجلاس میں فوج کو حاصل خصوصی اختیارات (افسپا) اور مجرمانہ سرگرمیوں سے متعلق دفعات کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس سے بے گناہ عوام کو نشانہ بنایا جا تا ہے ،اسلئے اس پرپابندی لگنی چاہئے ۔کانگریس پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر ٹھوک چوم مینیا نے فوج کو حاصل خصوصی اختیارات (افسپا)کالعدم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ افسپاکالعدم کیا جانا چاہئے۔ کیونکہ اس کا بہت زیادہ غلط استعمال کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا اس کالے قانون کے ذریعہ بے گناہوں کو سزائیں دی گئی ہیں۔ انہوں نے اس کی واپسی کا پرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں کمیٹی کے چیئر مین نائب صدر حامد انصاری ہیں اور انہیں اس سمت میں کوشش کرنی چاہئے اور اس قانون کو منسوخ کر دینا چاہئے ۔اس دوران کیرالہ سے کانگریس کے ہی ممبر پارلیمنٹ ای ٹی محمد بشیر نے کہا کہ مجرمانہ سرگرمیوں سے متعلق ایکٹ کا اکثر غلط استعمال کیا جا تا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس ایکٹ کی وجہ سے ہزاروں بے گناہ افراد جیل کی کال کوٹھریوں میں بند ہیں۔انہوں نے اس ایکٹ پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔وقفہ سوالات کے دوران انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اس قانون کے تحت جن افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے ان کے تئیں ہمدردی کا جذبہ رکھتے ہوئے ان کا جائزہ لیا جائے ۔ انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ اس سے متعلق تمام مقدمات کا جائزہ لیا جا نا چاہئے تاکہ بے گناہوں کو اس سے بچایا جائے ۔انہوں نے کہا کہ ان افراد کا خیال رکھا جائے جنہیں ان قوانین کی وجہ سے سلاخوں کے پیچھے رہنا پڑ رہا ہے جبکہ ان پر اب تک دہشت گردی یامجرمانہ سرگرمیوں میں شامل ہونے کے کسی طرح کے الزامات ثابت نہیں کئے جا سکے ہیں ۔محمد بشیر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس کے لئے معصوموں کو بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا ہے ۔انہوں نے پرزور انداز میں مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آئینی و جمہوری اقدار کے منافی اس قانون کو منسوخ کیا جانا چاہئے ۔

مزید : عالمی منظر