فیڈریشن ہاؤس میں شہباز کی آمداور ٹیکس ایمنسٹی سکیم

فیڈریشن ہاؤس میں شہباز کی آمداور ٹیکس ایمنسٹی سکیم
فیڈریشن ہاؤس میں شہباز کی آمداور ٹیکس ایمنسٹی سکیم

  

انتخابات کے انعقاد میں ایک ماہ سے بھی کم وقت رہ گیا ہے، بڑی سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں نے انتخابی مہم کا باقاعدہ آغاز کردیا ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی پاکستان مسلم لیگ (ن) نے کراچی سے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کیا اور مسلم لیگ کے صدر محمد شہباز شریف نے کراچی میں بھرپور دن گزارا۔

دیگر سرگرمیوں کے علاوہ انہوں نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا بھی دورہ کیا اور پاکستان کی بزنس کمیونٹی سے بھرپور تبادلۂ خیال کیا اور بزنس کمیونٹی کو اپنی سپورٹ کا بھرپور یقین دلایا۔ ی

ونائٹیڈ بزنس گروپ کے چیئرمین افتخار علی ملک نے فیڈریشن ہاؤس میں محمد شہباز شریف سے تبادلۂ خیال کے بعد بتایا، لاہور چیمبر آف کامرس کی سیاست میں ہم دونوں نے بھرپور حصہ لیا، شہباز شریف نے لاہور چیمبر کا صدر بننے کے بعد فیصلہ کیا کہ وہ ملکی سیاست میں بھرپور حصہ لیں گے، جبکہ میں نے فیصلہ کیا کہ بزنس کمیونٹی کی سیاست میں حصہ لوں گا اور بزنس کمیونٹی کے مسائل حل کروانے میں موثر کردار ادا کروں گا۔

اب محمد شہباز شریف نے فیڈریشن ہاؤس میں بزنس کمیونٹی سے کھل کر اظہار خیال کیا اور مختلف سوالات و تجاویز پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کی معاشی پالیسیوں کی وضاحت کی اور مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں بتایا کہ پاکستان کا سب سے بڑا معاشی مسئلہ گیس اور بجلی کا بحران تھا، ہم نے شروع سے ہی اس بحران کو ختم کرنے کے لئے موثر منصوبہ بندی کی اور اس وقت بزنس کمیونٹی مطمئن ہے کہ انہیں ضرورت کے مطابق بجلی اور گیس مل رہی ہے، آئندہ چند ماہ میں مزیدبجلی سسٹم میں شامل ہو جائے گی۔

اب سی پیک کا بھی دوسرا مرحلہ شروع ہونے جارہا ہے، جس میں انفراسٹرکچر بننے کے بعد پاکستانی اور چینی سرمایہ کار مشترکہ منصوبے لگانے جارہے ہیں، جس سے پاکستان کی ایکسپورٹ میں اضافہ ہونے کے ساتھ بے روز گاری میں بھی کمی ہونی شروع ہو جائے گی۔

افتخار علی ملک نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کو بہت اہم قرار دیتے ہوئے بتایا کہ عالمی سطح پر اب پاکستانیوں کے لئے دوسرے ممالک میں بے نامی اکاؤنٹ اور جائیدادیں رکھنا بہت مشکل ہو جائے گا، چند روز پہلے بزنس کمیونٹی کے ایک وفد نے اسلام آباد میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین سے ملاقات کی، جس کا ایک ہی موضوع تھا کہ بزنس کمیونٹی ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے بھرپور فائدہ کیسے اُٹھاسکتی ہے۔

غیر ظاہر شدہ آمدنی اور اندرون ملک اور بیرون ملک منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے ظاہر کرنے کے لئے اس سے بہتر سکیم لانی ممکن نہیں ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے اس ٹیکس ایمنسٹی سکیم کی کلیرنس دے کر اس سکیم کی افادیت میں زبردست اضافہ کردیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہماری بزنس کمیونٹی اس سکیم سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہی ہے اور روزانہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔

فیڈرل بورڈ کے چیئرمین نے چھٹی کے روز بھی ایف بی آر کے دفاتر کھلے رکھنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ معاشی ماہرین کا تخمینہ تھا کہ تین جون جو اس ٹیکس ایمنسٹی سکیم کی آخری تاریخ ہے، تب تک چار سے پانچ ارب ڈالر کے برابر رقم جمع ہو جائے گی، لیکن سپریم کورٹ سے سکیم کی کلیرنس میں کچھ دن لگ گئے، جس کی وجہ سے بزنس کمیونٹی میں جو جوش و خروش پیدا ہوا تھا، وہ کم ہوگیا، ہر غیر ظاہر شدہ آمدن رکھنے والا جانتا ہے کہ صرف دو سے پانچ فیصد ٹیکس ادا کرکے وہ اپنے اثاثے ظاہر کرسکتا ہے اور باقی زندگی ہر قسم کے خوف سے آزاد ہو کر نہ صرف بزنس کرسکتا ہے، بلکہ مستقبل میں کسی بھی قانونی کارروائی سے محفوظ رہ سکتا ہے۔

آنے والا وقت دولت چھپانے والوں کے لئے اتنا اچھا نہیں ہے، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین طارق محمود پاشا نے ہمیں تفصیل سے بتایا کہ پاکستان کے ایک سو دو ممالک کے مالی معاملات کی معلومات کے تبادلہ کا پروگرام شروع ہونے جارہا ہے، اس اہم پیش رفت سے دوسرے ممالک میں پاکستانیوں کے منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادوں کی رقوم کا خفیہ رہنا ناممکن ہو جائے گا۔ چیئرمین نے تو ہمیں یہاں تک بتایا کہ خود فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لئے فہرستیں تیار کرلی ہیں اور یہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم پاکستانی مالداروں کے لئے آخری موقع ہے۔ ویسے ہماری سفارش ہے کہ آخری تاریخ تین جون سے بڑھا کر اکتیس جولائی کردی جائے اور اس مقصد کے لئے پاکستان کے صدر ممنون حسین ایک آرڈیننس جاری کردیں تو بزنس کمیونٹی کو یقین ہے کہ اگر تین جون تک دو ارب ڈالر کے قریب رقم جمع ہوگئی تو اکتیس جولائی تک دوگنا رقم جمع ہوسکتی ہے۔

مزید : رائے /کالم