اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو خفیہ دورے پر اچانک بڑے عرب اسلامی ملک پہنچ گئے، سب سے بڑی خبر آ گئی

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو خفیہ دورے پر اچانک بڑے عرب اسلامی ملک پہنچ گئے، ...
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو خفیہ دورے پر اچانک بڑے عرب اسلامی ملک پہنچ گئے، سب سے بڑی خبر آ گئی

  

مسقط(مانیٹرنگ ڈیسک) عرب دنیا کو کئی طرح کے تنازعات اور باہمی جھگڑوں نے گھیر رکھا ہے اور ایسے میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ایک ایسے عرب اسلامی ملک کے خفیہ دورے کی خبر آ گئی ہے کہ پوری عرب دنیا میں ہلچل مچ گئی۔ ٹیلیگراف کے مطابق اسرائیلی حکومت نے گزشتہ روز اس خفیہ دورے کو افشاءکرتے ہوئے بتایا ہے کہ وزیراعظم نیتن یاہوجمعرات کے روز اپنی اہلیہ اور اسرائیل کے اعلیٰ سکیورٹی حکام کے ہمراہ اومان کے خفیہ دورے پر گئے تھے۔ اومان کے سلطان قبوس بن سید نے ان کا استقبال کیا۔ وزیراعظم نیتن یاہو کا یہ دورہ دونوں ملکوں کے مابین طویل رابطے کے بعد ہوا۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی طرف سے اس دورے کو تب تک خفیہ رکھا گیا جب تک وزیراعظم نیتن یاہو اپنے وفد کے ہمراہ واپس اسرائیل نہیں پہنچ گئے۔ بیشتر عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ اپنے رابطوں کو خفیہ ہی رکھتے ہیں لیکن اس کے برعکس اومان کے سرکاری میڈیا پر نیتن یاہو کے اس دورے کی بہت زیادہ تشہیر کی گئی۔کئی عرب ممالک پہلے ہی اسرائیل کے ساتھ گرمجوشی کے تعلقات رکھتے ہیں۔ اومان ان چند عرب ملکوں میں سے ایک تھا جس کے اسرائیل کے ساتھ خاطرخواہ رابطے نہیں تھے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل تمام ان عرب ممالک کے ساتھ خفیہ چینلز کے ذریعے تیزی کے ساتھ رابطے بڑھا رہا ہے جو ایران کے مخالف ہیں۔

اسرائیلی حکومت کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ”یہ دورہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری کی طرف ایک انتہائی اہم قدم ہے۔ اس ملاقات میں نیتن یاہو اور سلطان قبوس نے خطے کے دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے مختلف طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔“ واضح رہے کہ اس سے قبل 1996ءمیں اسرائیلی وزیراعظم نے اومان کا دورہ کیا تھا۔ مجموعی طور پر اسرائیلی کے کسی وزیراعظم کا اومان کا یہ تیسرا دورہ تھا۔ عرب ممالک میں صرف مصر اور اردن کے اسرائیل کے ساتھ باقاعدہ سفارتی تعلقات ہیں۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ فلسطینی صدر محمود عباس بھی چند روز قبل اومان کے دورے پر گئے تھے، چنانچہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سلطان قبوس بن سید اسرائیل اور فلسطین کے درمیان پیغام رسانی کا ذریعہ بن رہے ہیں۔اومان اس سے قبل بھی کئی مخالف ممالک کے درمیان مصالحتی کردار ادا کر چکا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے ایٹمی معاہدے سے قبل ان دونوں ملکوں کے مذاکرات بھی 2013ءمیں اومان میں ہی ہوئے تھے۔

مزید : بین الاقوامی