واپڈا کی اندھیر نگری !

واپڈا کی اندھیر نگری !
واپڈا کی اندھیر نگری !
کیپشن:   pic سورس:   

  

بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے شہریوں کا جینا دشوار کر کے رکھ دیا ہے شہر بھر میں بجلی کے بد ترین بحران نے معمولاتِ زندگی اور کاروباری سر گرمیاں مکمل طور پر ٹھپ کر دیں شارٹ فال میں اضافہ کے باعث شہروں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ19اور دیہی علاقوں میں 22 گھنٹے تک بڑھ گیا طویل لوڈ شیڈنگ سے تنگ آئے لوگ سٹرکوں پر مظاہرے اور واپڈا کے خلاف شدید نعرہ بازی کرتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ اقبال ٹاﺅن ، مون مارکیٹ کے تاجروں نے بھی مظاہر کیا ، ہال روڈ، نسبت روڈ ٹیمپل روڈ اعوان ٹاﺅن ، مزنگ روڈ ، بیڈن روڈ ، گلشن راوی سمیت مختلف علاقوں میں لوڈ شیڈنگ سے ستائے شہری اور تاجر مظاہرے کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ پاکستان بھر میں آج کل کئی مظاہرے ہو رہے لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ اقبال ٹاﺅن سب ڈویژن (لاہور) کے افسران عوام کو سہولتیں فراہم کرنے میں بری طرح نام کام ہو چکے ہیں ۔ دن رات ،دو دود گھنٹے بجلی کا جانا ایک معمول بن گیا ہے واپڈا کی اس غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے شہریوں کا جینا دشوار ہو کر رہ گیا ہے۔

اقبال ٹاﺅن اور انار کلی ٹاﺅن شپ ، اچھرہ واپڈا کے علاقوں میں بجلی کی بوسیدہ تاریں جان کا خطرہ ہے جو جگہ جگہ لٹک رہی ہیں شکایت کے باوجود افسران کارروائی کرنے سے گریزاں ہیں امین پارک (واپڈا) سب ڈویژن آفس میں شکایت کی جائے تو افسر شاہی پرواہ نہیں کرتی اور نہ یہ شکایت کا ازالہ کرتے ہیں۔ گزشتہ روز سینئر کالم نگار صائمہ بی بی سخت گرمی کی وجہ سے بے ہوش ہو گئی۔ دراصل واپڈا کے افسران اے سی کمروں میں بیٹھ کر نئے سے نیا پروگرام بناتے ہیں پتہ نہیں کب افسروں کی اندھیر نگری ختم ہوگی کیونکہ ایک طرف بجلی آتی نہیں اوپر سے ظلم کی انتہا ءیہ ہے کہ اس کے باوجود بجلی کے بلوں میں روز بر روز اضافہ معمول بن گیا ہے۔

بجلی کا بحران درحقیقت گرمیوں کے ساتھ شدت اختیار کرتا چلا جا رہا ہے۔ حکومت نے عوام کو سہولتیں دینے کی بجائے عوام پر بجلی گرانے کا منصوبہ بنایا ہوا ہے۔ گزشتہ دنوں چاہ میراں کے علاقے میں بجلی کے ستائے عوام نے انوکھا مظاہر کیا مظاہرے کے شرکا بجلی کے ٹرانسفارمر کے نیچے کھڑے ہو کر دھمال اور ڈانس کرکے ٹرانسفارمر کے ساتھ لپٹ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے رہے ۔ ذرائع کے مطابق لیڈی ولنگٹن ہسپتال میں گزشتہ دنوں لاہور سمیت دوسرے شہروں سے آئی ہوئی خواتین کے آپریشن کئے جانے تھے لیکن بجلی کی غیر علانیہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے آپریشن تھیٹر بند رہے جس پر لواحقین کا ہسپتال انتظامیہ کے ساتھ جھگڑا ہوتا رہا عوام کا کہنا تھا کہ ہسپتال انتظامیہ کو آپریشن کے لئے جنریٹر کا انتظام کرنا چاہیے۔ مہنگائی کے بڑھتے رجحان کی وجہ سے عوام پہلے ہی پریشان تھے کہ اوپر سے 18گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے جبکہ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا کوئی حساب ہی نہیں کہ کب چلی جائے اور کتنے گھنٹوں کے بعد بجلی آئے ۔ اس سسٹم کی وجہ سے ہزاروں لوگ بیرز گار ہو کر رہ گئے ہیں ۔ اس غلط پالیسی کی وجہ سے گھریلو و صنعتی صارفین شدید دباﺅ کا شکار ہیں۔

 وزیراعلیٰ نے الیکشن کے دوران بڑے بلند دعوے کیئے تھے کہ وہ ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کو برسوں میں نہیں بلکہ مہینوں میں ختم کر دیں گے۔ وزیراعظم نواز شریف کے نوٹس کے باوجود بدترین لوڈشیڈنگ کی صورتحال میں رتی برابر بھی بہتری نہیں آ سکی طویل غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور پانی کی قلت نے شہریوں کو نفسیاتی مریض بنا دیا اور اکثر مقامات پر سحری اور افطاری کے اوقات میں بجلی بند رہتی ہے جبکہ ملک بھر میں گرمی کی شدت برقرار ہے۔

وفاقی وزیر پانی و بجلی نے کئی بار لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا اعلان کیا لیکن معاملہ جوں کا توں ہے ، ہر شہری پریشان حالت میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ۔ سیاسی قیادت آپس میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے چکرمیں ہے جس سے عوام بد حالی کا شکار ہیں۔

 وزیراعظم پاکستان اور وفاقی وزیر پانی و بجلی کو چاہیے کہ وہ مذکورہ معاملات کا جائزہ لیں اور بجلی کے بلوں میں بلاوجہ اضافہ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمہ کے لئے عملی اقدامات کر کے عوام کو ریلیف دلائیں ،تاکہ عوام سکون کا سانس لے سکیں۔

مزید :

کالم -