رابطہ عالم اسلامی کی مکہ مکرمہ میں ”اعلان مکہ کانفرنس “

رابطہ عالم اسلامی کی مکہ مکرمہ میں ”اعلان مکہ کانفرنس “

  

دنیا بھر کے مسلم زعما نے دہشت گردی ، انتہا پسندی کو مسترد اور ارضِ حرمین کے خلاف سازشوں کا موثر جواب دے دیا

عالم اسلام کے جید علما اور شیوخ کی شرکت اور پر اثر خطابات ،آنکھوں دیکھا حال

تحریر:خالد شہزاد فاروقی

اسلام کو دہشت گردی اور بد امنی کی تعلیم دینے والا دین قرار دینے کی عالمی سازشیں زور و شور سے جاری ہیں جبکہ دہشت گردی کے لفظ کو مسلمانوں سے جوڑ دیا گیا ہے،انتہائی افسوس اور دکھ کی بات ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہو تو سب سے پہلے اسلام کو مشکوک قرار دیا جاتا ہے۔دنیائے عالم میں دہشت گردی کی اصطلاح کو اسلام کا حصہ ہی سمجھا جانے لگا ہے حالانکہ دنیا بھر کے مسلمان خود دہشت گردی اور ظلم و بربریت کے شکار ہیں۔سعودی عرب عالم اسلام کی عقیدت و حرمت کا مرکز ہے تاہم اسلام دشمن قوتیں ارضِ حرمین کے تقدس کو پامال کرنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا رہی ہیں۔ آئے روز ارضِ حرمین پر حوثی باغیوں کی جانب سے ہونے والے حملے اس بات کا کھلم کھلا ثبوت ہے کہ اسلام دشمن قوتوں کے امت مسلمہ کے حقیقی مرکز کا امن و سکون ایک آنکھ نہیں بھا رہا۔سعودی حکمران اور سعودی علما نے ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف سخت موقف اپنا یا ہے،یہی وجہ ہے کہ اسلام دشمن قوتیں مختلف گروہوں اور ملکوں کے ذریعے سعودی عرب کے امن کو تہیہ بالا کرنے کے لئے دن رات سازشوں میں مصروف ہیں دوسری طرف امت مسلمہ کے جید علما اور شیوخ نے ہمیشہ تمام تر فکری و نظریاتی اختلاف کے باوجود سعودی عرب کی وحدت اور سالمیت کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کا عزم کیا ہے جو انتہائی خوش آئند بات ہے۔سعودی عرب اور پاکستان کے علما نے ہمیشہ دنیا کے کسی بھی ملک میں ہونے والی دہشت گردی کی نہ صرف شدید مذمت کی ہے بلکہ دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر ایسا کردار ادا کیا ہے کہ غیر جانبدار حلقے امت مسلمہ کے ان دو بڑے ملکوں کے واضح اور دو ٹوک موقف کی ستائش کرتے نظر آتے ہیں۔دنیا بھر میں اسلام کے حقیقی پیغام کو عام کرنے کے لئے مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم ”رابطہ عالم اسلامی“ نے ہمیشہ قابل قدر خدمات سرا نجام دی ہیں اور مسلم ممالک کے ساتھ ساتھ امریکہ، برطانیہ،کینیڈا،فرانس،جرمنی،آسٹریلیا اور دیگر مغربی ممالک میں بھی مسلم امہ کے جید علما کو ایک چھت تلے جمع کر کے دنیا کو اسلام کے حقیقی پیغام امن سے روشناس کروانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔پاکستان میں ہر سال اسلام آباد میں منعقد ہونے والی”عالمی پیغام اسلام کانفرنس“ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے جس میں پوری دنیا سے جید علما و شیوخ علامہ طاہر اشرفی کی دعوت پر سینکڑوں کی تعداد میں جمع ہو کر عالمی سطح پر اسلام کے حقیقی پیغام کو عام کرتے ہیں،پاکستان کی دیگر مذہبی تنظیمیں بھی اس سلسلہ میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں جو لائق ستائش ہے۔اس حقیقت کو فراموش نہیں کیا جا سکتا کہ اسلام کو دہشت گرد دین اور امت مسلمہ کو دہشت گرد قوم ثابت کرنے کا گھناؤنا کھیل عالمی سازش کا حصہ ہے جبکہ بد قسمتی کی بات ہے کہ بعض مٹھی بھر نوجوان اور گروہ اس عالمی سازش کا شکار ہو کر اسلام کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں،ان نوجوانوں اور گروہوں کو اسلام دشمن قوتوں کے چنگل سے نکالنے اور انہیں صراط مستقیم کی طرف لیجانے کے لئے مسلم حکمرانوں اور علما ء کی ذمہ داریاں بہت بڑھ چکی ہیں۔مقام شکر ہے کہ ”رابطہ عالم اسلامی“ جیسی تنظیم اپنی اس ذمہ داریوں سے عہدہ براہ ہونے کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہے۔

ماہ رمضان کے آخری عشرہ میں ارضِ حرمین الشریفین مکہ مکرمہ میں بیت اللہ کے سائے تلے رابطہ عالم اسلامی کے زیر اہتمام ”قرآن و سنت کی روشنی میں اعتدال و توازن کی اہمیت “کے اہم موضوع پر گورنر مکہ الشیخ شہزادہ خالد الفیصل کی سربراہی میں تین روزہ کانفرنس اسی سلسلہ کی کڑی تھی جس میں مفتی اعظم سعودی عرب الشیخ عبد العزیز بن عبد اللہ آل شیخ ،صدر امارات کونسل برائے شرعی فتاوی جات، شیخ عبد اللہ بن بیہ،امام کعبہ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس ،مفتی اعظم مصر ڈاکٹر شوقی علام ، جمہوریہ چیچینیا کے صدر رمضان قادیروف ،جمہوریہ لبنان کے مفتی ڈاکٹر عبد الطیف فایز دریان،الشیخ ڈاکٹر احمد العبادی،الشیخ جمال احمد السیدالمراکبی (سربراہ مجلس علماجماعة انصار السنہ مصر)السید رادک رستم عماد الدینوف(جمہوریہ نتارستان)ڈاکٹر سالم محمد المالک،فضیلة الشیخ سلیمان افندی رجیبی،السید عبد اللہ بن محمد بن حسن فدعق،ڈاکٹر علی راشد النعیمی(متحدہ عرب امارات)السید مفتی علی محمد الامین (لبنان)فضیلة الشیخ فرید الدین مسعود (مفتی اعظم بنگلہ دیش)الشیخ فیصل بن عبد الرحمن بن معمر(متحدہ عرب امارات)ڈاکٹر محمد مختار جمعہ(وزیر اوقاف مصر)الشیخ ڈاکٹر محمد ہدایت نور وحید(نائب رئیس مجلس شوری انڈونیشیا)الشیخ ڈاکٹر محمد بن سریع السریع(جامعہ امام محمد بن السعود)الشیخ ڈاکٹر حمود فہد القشعان(جامعہ کویت)ڈاکٹر محمد ولی اللہ الندوی(متحدہ عرب امارات)الشیخ عثمان بن محمد الصدیقی(ریاض)ڈاکٹر ناجی محمد عادل علوش(لبنان)الشیخ ماہر بن یاسین بن فہل الھہیتی(جامعہ علوم اسلامیہ عراق)ڈاکٹر ابراہیم النورین (سوڈان)الشیخ ڈاکٹر الخلیل النحوی(رئیس مجلس لسان العربی موریتانیا)ڈاکٹر احمد بن محمد الدبیان(مرکز اسلامی لندن)ڈاکٹر یوسف جمعہ سلامة(خطیب مسجد اقصیٰ فلسطین)مفتی ڈاکٹر ذوالکفل البیکری(کوالالمپور) ڈاکٹر عمر بن صالح بن عمر(تیونس)الشیخ ڈاکٹر نبیل رافع الحیدری(مرکز الدولیٰ برطانیہ)ڈاکٹر سعیدمحمد بابا سیلا(امین عام رابطہ علما افریقہ مالی)پیر محمد نور الحق قادری (وفاقی وزیر مذہبی امور پاکستان)علامہ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی (چیئرمین پاکستان علما کونسل) سعودی عرب کے نائب وزیر مذھبی امور عبداللہ الصامل سمیت پاکستان سے مولانا قاری محمد حنیف جالندھری،مفتی محمد رفیع عثمانی،مولانا سینیٹر عبد الغفور حیدری ،مولانا زاہد الراشدی ،سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبد الکریم ،شاہ اویس نورانی،مولانا فضل الرحمن خلیل،مولانا محمد یاسین ظفر ،علامہ طاہر الحسن ،مولانا سعد اللہ لدھیانوی،میاں ابو بکر حمزہ ا ور بڑی تعداد میں علما نے شرکت کی ۔کانفرنس میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی طرف سے امیر مکہ پرنس خالد الفیصل نے شرکائے کانفرنس کو خوش آمدید کہا اور افتتاحی کلمات ادا کیے جبکہ کانفرنس کے اغراض و مقاصد رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسی نے بیان کیے۔کانفرنس میں کم و بیش ایک سو چالیس سے زائد اسلامی ممالک کے12سو سے زائد زعماءشریک تھے۔

سعودی حکومت اور رابطہ عالم اسلامی کی طرف سے ”اعلامیہ مکہ کانفرنس“ کا مقصد عالم اسلام میں مسلمانوں میں اتحاد پیدا کرنا تھا، کانفرنس سے مختلف ممالک کے علماءکرام، مفتیان کرام، شیوخ نے خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں کو اتحاد نظم اور حرمین شریفین کی تحفظ اور دفاع کیلئے زور دیا اور کہا کہ سعودی عرب اسلامی ممالک میں اتحاد کیلئے کوشاں اور مسلمانوں کے خلاف ہونے والی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہا ہے ۔کانفرنس سے او آئی سی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر یوسف العثمین، امام کعبہ عبدالرحمان السدیس اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے انتہا پسندی، شدت پسندی اور دہشت گردی کے اسباب اور محرکات پر روشنی ڈالی۔کانفرنس کے اہتمام پر رابطہ عالم اسلامی کی جانب سے تفصیلی مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا ،25نکات پر مبنی مشترکہ اعلامیہ میں عالم اسلام کو درپیش مسائل اور ان کے حل کا مفصل احاطہ کیا گیا جبکہ اعلامیئے میں زیادہ زور عالم اسلام کی توجہ امت مسلمہ کے نوجوانوں کی تربیت پر مبذول کروائی گئی تاکہ ہماری نوجوان نسل شدت پسند ،انتہا پسند اور گمراہ کن نظریات کی بجائے اعتدال، توازن اور قرآن سنت پر مبنی اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر دنیا بھر میں پھیلی دہشت گردی کا راستہ روک سکیں ۔”اعلان مکہ کے اعلامیئے میں واضح طور پر کہا گیا کہ نفرت ،عداوت ،بغض اور خود ساختہ برتری کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں اسلام فضیلت و برتری کا معیار تقویٰ کو قرار دیتا ہے ،امتوں و اقوام کے اعتقادات، اثقافات، صبائع اور فرق تفکیر میں اختلاف بھی ہے جس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کی حکمت پر مبنی ہے اور اس کو عمل اور عقل و حکمت کے ساتھ فیصلہ کرنا، انسانی اتحاد و محبت امن و سلامتی تک لیجانا اور پہنچاتا ہے، لہٰذا اس کا ٹکراﺅ اس کے تصادم و تکبر کے اقرار سے بہتر ہے۔اعلان مکہ کے مشترکہ اعلامیہ میں قرار دیا گیا کہ ”دینی و ثقافتی تنوع جو انسانی معاشروں اور سوسائٹیز میں موجود ہے وہ تنازعہ اور تصادم کا جواز پیش کرنے کی بجائے مثبت تہذیبی شراکت قائم کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ نیز اس تمام کے مفاد کے لئے مصلحت کا تقاضا ہے کہ وہ انسانی خدمت و سعادت مند بنانے کے لئے رغبت و شوق پیدا کرتا ہے۔ نیز جامع مشترکات کی تلاش کی دعوت دیتا ہے اور عصر حاضر کی شاندار مثالی مملکت بنانے کے لئے اس کو بروئے عمل لانے کی بات کرتا ہے جو اعلیٰ عمدہ روایات و عدل و انصاف، شرف آزادی اور احترام متبادل اور سب کے لئے خیر چاہے۔تمام اس ادیان کی اصل ایک ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ وحد ہ لاشریک پر ایمان رکھنا۔احکام و مناہج مختلف متعدد ہیں لہٰذا دین کو سیاسی سرگرمیوں اور اعمال کے درمیان خلط مبحث کرنا درست نہیں،وہ جس طرف سے بھی ہو۔یہی مکالمہ دوسروں کے ساتھ مفاہمت کی بہترین راہ ہے نیز ان کے ساتھ مشترکات کو سمجھنے کا عمدہ طریقہ ہے اور بقائے باہمی میں رکاوٹوں کو دور کرنا اور دیگر مشکلات پر قابو پانے کا بہترین ذریعہ ہے ، اور یہ چیز جو دوسروں کے اعتراف حق اور دیگر تمام مشروح کے اطراف جائے گی، جس سے تمام فریقوں کے درمیان عدل و انصاف و مصلحت پیدا ہوگی ، اور ان احکام کا خاتمہ کرے گی جو اپنے اپنے اندر تاریخی عداوت لئے ہوئے ہیں۔ جن کی وجہ سے کراہیت و ناپسندیدگی اور سازش کا نظریہ پروان چڑھتا ہے۔اعلان مکہ کے مشترکہ اعلامیہ میں واضح طور پر کہا گیا کہ تمام ادیان اور فلسفے اپنے ماننے والوںا ور دعویٰ کرنے والوں کے اعمال و سرگرمیوں سے بری ہیں کیونکہ یہ انہیں کے ترجمان ہیںدین اسلام محض ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتا اور اس کی مخلوقات کی خدمت سے اس کا تقرب حاصل کرنے اور ان کی عزت کی حفاظت اور اس کے خاندانی تعلقات و معاشرتی مثبت تعلقات کی حفاظت کرتا ہے۔ اعلان مکہ میں مشترکہ طور پر کہا گیا کہ ”انسان کی تباہی و آبادی کی بربادی کو روکنے کے لیے تحائف و تعاون جو انسانیت کی خیریت نفع کے لیے ہو انسانی حلف الفضول ہوگا جو محض نعروں، دعوﺅں اور ماٹوز کا خاتمہ کرے گا اور تہذیبی خلل و نقص کی اصلاح کے لیے ہوگا۔ دہشتگردی جس کی اہم و بڑی شاخ اور اس کا نتیجہ و عمل ہے۔ناپسندیدگی کو فروغ دینے والوں اور تشدد و دہشتگردی کو بھڑکانے والوں کو روکنے کے لیے قوانین بنانا بہت ضروری ہے۔ نیز تہذیبی تصادم کے لئے کام کرنے والوں کے لیے بھی یہ اس بات کا ضامن ہوگا کہ دینی تصادم کے اسباب کو ختم کرے۔اعلان مکہ میں قرار دیا گیا کہ ”اسلام فوبیا کا مظہر اسلام کی حقیقت سے عدم مفرت کا نتیجہ اور اسلام کی تہذیبی خوبصورتی و عمدہ غرض و غایت سے ناواقفیت کا شاخسانہ ہے ، اسلام کا حقیقی تعارف علمی و موضوع وژن اور سابقہ افکار سے آزادی حاصل کرنے کا تقاضا کرتا ہے تاکہ اس اصول و معیار کو اپنے بہتر طریقہ و تدبر سے سمجھا جائے تاکہ ایسے انفرادی اعمال سے استدلال کیا جائے جو خود ساختہ لوگوں کی طرف سے صادر ہوتا ہے اور ان کے انداز اور وعدوں سے غلط و جھوٹ دین شریعت کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ مسلمانوں نے انسانی تہذیب کو ممتاز و منفرد تجربہ سے مالا مال کیا اور آج بھی وہ بہت سے مثبت کردار ادا کرنے کے حامل و اہل ہیں جس کی انسانیت آج دینی ، اخلاقی، معاشرتی و ماحولیات کی شدید محتاج ہے کیونکہ وہ اخلاقی روایات سے محروم ہورہی ہے جس کا سبب گلوبلائزیشن ہے۔اعلان مکہ کے اعلامیہ میں دنیا بھر کے مسلم زعما نے مشترکہ طور پر واضح قرار دیا کہ ”دوسرے ممالک میں مداخلت ناقابل قبول ہے، بالخصوص معاشرتی مقاصد کے پیش نظر سیاسی بالادستی کے اسلوب استعمال کرنا، دہشت گردی افکار کی مارکیٹنگ کرنا کسی طور پر بھی جائز اور درست نہیں ہے،کسی ملک کے ذرائع وسائل کتنے ہی اچھے کیوں نہ ہوں ؟ اس میں مداخلت کا کوئی جواز نہیں، مگر یہ مداخلت شریعت کے مطابق حکومتی درخواست پر جس میں رائج مفاد و مصلحت ہو تاکہ زیادتی کرنے والے اور فساد برپا کرنے والے کو روکنے کے لئے یا عوامی ریلیف و رعایت اور ترقی کے لئے ہو۔اعلان مکہ میں دو ٹوک انداز میں تمام مسلم امہ کے شیوخ نے ارضِ حرمین کے تقدس اور دفاع کے لئے متحد اور ایک ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عبادت گاہوں پر حملے کرنا مجرمانہ فعل ہے جس کے خلاف قانون و قوت کے ساتھ کھڑ اہونا لازم ہے۔ نیز ایسے انتہا پسندانہ افکار کو روکنے کی ضرورت ہے جو ایسے عمل پر آمادہ کرے۔ اعلان مکہ کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ ”پانچ بنیادی چیزوں کے حوالے سے مسلمان نوجوان کی شناخت کو سپورٹ کرنا مثلاً دین، امن و ثقافت، تعریف، زبان، اور ان کو ان سے دو رکرنے کی کوششوں سے محفوظ بنانا یا جان بوجھ کر یا انجانے میں اس کی شناخت کو مٹانے کی کوشش کرنا وغیرہ یہ سب کچھ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ نوجوانوں کو تہذیبی تصادم اور منفی رویے و انتہا پسندی اور دہشتگردی سے محفوظ بنایا جائے۔ نیز ان کی ایسی عادتوں کو مضبوط کیا جائے جو ان کو دوسرے کے ساتھ چلنے کے قابل بنائے۔مسلم نوجوان ایک ایسی فکر کے داعی ہیں جو وسیع افق اسلام کا انصار رکھتی ہے ، جس سے دلوں کو الفت ملے۔ بالخصوص رواداری و بقائے باہمی کی اقدار جو امن و سلامتی اور محبت کے معنی اور دوسروں کے وجود کو سمجھنے کی حیثیت بخشیں اور اس کی عزت و حقوق کی محافظ ہوں۔عالم اسلام بالخصوص نوجوانوں کے امور پر توجہ و اہتمام دے جس کا اعتماد ایسے پروگرامز پر ہو جو تعمیری مکالمہ کو لوگوں کے درمیان جاری رکھے۔”چارٹر آف مکہ “ کے بعد رابطہ عالم اسلامی کے زیر اہتمام مکہ مکرمہ میں” قرآن و سنت کی روشنی میں اعتدال و توازن کی اہمیت “کے موضوع پر منعقد ہونے والا یہ عالمی اجتماع تیسرے روز بخیر و خوبی اختتام پذیر ہو گیا ، کانفرنس کے اختتام پر اس عالمی علمی و فکری مجلس میں شریک ممتاز اہل علم نے کانفرنس کی کامیابی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سعودی عرب کی حکومت اور رابطہ عالم اسلامی کی قیادت کو مبارکباد پیش کی۔رابطہ عالم اسلامی کی اس شاندار اور عالمی کانفرنس میں شرکت میرے لیے سعادت کی بات تھی جس پر سعودی حکومت اور رابطہ کی قیادت کے ساتھ میں پاکستان علما کونسل کے چیئرمین علامہ طاہر اشرفی کا بے حد شکر گزار ہوں ۔اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ وسطیت واعتدال انسانی سوسائٹی کی مشترکہ ضرورت رہی ہے جبکہ ملت اسلامیہ کی تو اساس ہی اس پر ہے ،آج کے عالمی ماحول میں جس طرح فکری و تہذیبی کشمکش کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے، اسلام اور ملت اسلامیہ کے اس امتیاز کو حوصلہ تدبر اور حکمت کے ساتھ اجاگر کرنے کے لیے رابطہ عالم اسلامی کی کوششیں قابل ستائش ہیں اور یہ عالمی کانفرنس اس سلسلے میں سنگ میل کا کردار ادا کرے گی۔

مشیر خادم حرمین الشریفین گورنر مکہ شہزادہ خالد الفیصل نے مکہ کانفرنس میں 139ملکوں سے آئے ہوئے مسلم زعما اور شیوخ کے سامنے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز کا پیغام پڑھ کر سنایا ،اس پیغام میں خادم حرمین الشریفین کا کہنا تھا کہ مملکت سعودی عرب کا قیام، اسلامی وسطیت اور میانہ روی اقدار پر عمل میں آیا، اور مملکت نے ہمیشہ اسلامی اشاعت اور ہم آہنگی کے فروغ کے لئے جدوجہد کی۔انہوں نے کہا کہ وسطی منہج ملکوں کی حفاظت، خوش حالی اور امن ے استحکام اور تمام بیرونی خیالات کا سدّ باب کرتاہے۔دین شریعت مطہرہ ہے، کسی کی رائے نہیں اور نہ ہی کوئی مطلقاً معصوم ہے۔انہوں نے کہا کہ علمائے امت اور اس کے مفکرین نے اسلامی اور انسانی علوم کی خدمت کی۔دین اسلام ہر طرح کی انتہاپسندی اور دہشت گردی سے پاک ہے اور انسانی معاشروں کو چاہئے کہ وہ انصاف اور وسطیت(اعتدال) کے اقدار کو فروغ دیں۔نسل پرستی اور نفرت کے بیان کو رد کرکے ،حکمت اور دانائی کی صدا بلند کی جائے اور رواداری اور میانہ روی کے مفاہیم کو بروئے کار لایاجائے اور اتفاق رائے اور مصالحت کی ثقافت کو فروغ دیا جائے۔انہوں نے رابطہ عالم اسلامی کی اس کی اسلامی اور انسانی مشن کی کاوشوں پر تعریف بھی کی ۔

مفتی اعظم مصر ڈاکٹر شوقی علام نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حق وہی ہے جو نبی علیہ السلام اسلام کے پیغام کے ساتھ لے کر آئے، جو تمام انسانیت کے لئے رحمت، بھلائی، امن وامان ،ہم آہنگی اور سلامتی کا پیغام ہے۔حق،بھلائی اور وسطیت(اعتدال) کا ساتھ دینا، اسلامی، اخلاقی اور انسانی فریضہ ہے اور بھلائی اور امن کے معاون بین الاقوامی معاہدات کے عالمی حمایت میں معاونت کرتاہے،امت میں منہجِ اعتدال کی نشر واشاعت اور امت کے نوجوانوں کی فکری انحراف سے حفاظت ،علماء پر ایک بھاری ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ رابطہ عالم اسلامی کانفرنس کی سفارشات ،دنیا میں اسلام کی ساکھ بہتر بنانے کی طرف پہلا قدم ہے۔

عزت مآب ڈاکٹر یوسف العثیمین، سیکرٹری جنرل اسلامی تعاون تنظیم نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی نے اس امت کے لئے جو منہج متعین کیا ہے وہ وسطیت واعتدال ہے۔ انتہاپسندی، غلو اور راہِ اعتدال سے ہٹنے کی وجہ سے ،جس پر مسلمان صدیوں سے گامزن تھے ،مسلمان بہت سے خطرات اور چیلنجز میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ مسلم ممالک میں راہِ اعتدال سے ہٹنے کی وجہ سے اختلاف وتنازعات کا ماحول پیدا ہوا ،اور تشدد ،دہشت گردی اور جنگ کے دروازے کھلے۔ہمارے بہت سارے اسلامی ممالک میں افراتفری کے پیچھے منحرف جماعتیں ہیں۔ اسلامی تعاون تنظیم اسلامی ممالک کی سیاسی، اقتصادی ،ثقافتی اور سماجی پہلو¿وں میں کوششوں کو یکجا کرنے کے لئے پر عزم ہے۔انہوں نے کہا کہ وسطیت اور میانہ روی پر بہت مباحثات ہوئے مگر اب بھی اس کے علمی بیان کی اشد ضرورت ہے۔ نصوص کو پیش کرکے ان کے مفاہیم کو واضح کیا جائے، اوہام کو دور کیاجائے، ان میں غلطیوں ،بے بنیاد دعوو¿ں، اور اس کی تاویل میں شبہات کو بیان کیاجائے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گرد نظریہ حیساکہ سب جانتے ہیں کسی عسکری طاقت سے نہیں، بلکہ انتہاپسند نظریات سے پیدا ہوتاہے۔اس نظریہ نے دینی جذبات کو استعمال کیا۔اس نے اپنی برائی کے اثر اور خطرے سے پوری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ رواداری کے مفاہیم میں ثوابت دین پر عمل کرتے ہوئے موازنات اور اولویات کی فہم کا حصول ضروری ہے ہے، جیسے کہ صلح حدیبیہ میں نبی علیہ السلام کے ساتھ پیش آیا۔سدّ ذرائع کا اصول اس کی دعوت دیتاہے اور اس کی بے شمار مثالیں ہیں جو سب کے علم میں ہیں۔ یہ سب کے علم میں ہونا چاہئے کہ ہر شرعی نص، فہم کے مراحل سے گذرتاہے۔ پھر اس سے استنباط ہوتاہے اورپھر اس کی تطبیق۔اگر کسی کو اس میں غلطی ہوئی تو اس کی غلطی کی شدت کے اعتبار سے نقصان ہوگا۔ بے حد ضروری ہے کہ احتیاط اور شدت کے درمیان ربط کو ختم کیا جائے اور فقہ اسلامی میں متشدد اجتہادی غلطی اور فکری انتہاپسندی میں فرق کیا جائے۔

عزت مآب شیخ عبد اللہ بن بیہ، صدر امارات کونسل برائے شرعی فتاوی جات نے اپنے خطاب میں کہا کہ وسطیت(اعتدال) کائنات کی فطرت اور احکام کا قانون ہے اور یہ شریعت کی میزان ہے جس میں نہ افراط ہے اور نہ تفریط۔ انتہا پسندی چاہے فکری ہو یا سلوکی ؟یہ ایسا مفہوم ہے جو زمان ومکان کے اختلاف سے تبدیل ہوتاہے ،اور یہ فکری اور سلوکی اعتبار سے عمومی نظم سے انحراف ہے۔انہوں نے کہا کہ میانہ روی ایسی طاقت ہے جو ہر چیز میں توازن پیدا کرتی ہے ،جسے خرچ اور بچت کے درمیان توازن، اور یہ فتاوی جات میں اعتدال پسندی ہے جس کا مطلب مستحکم اور جلد بازی اور حرکت وسکون کے درمیان توازن ہے۔ ہماری یہ کانفرنس وسطیت اور اعتدال کے بیانئے کی حوصلہ افزائی اور انتہا پسندی اور نفرت کے خطاب کی غلطی کو نمایاں کرنے کے لئے اسے مضبوط کرتی ہے۔اس کے دستاویز کو مسترد اور منہج ِ سلف اور مطوبہ مفادات کے قانون سے مخالفت کی وجہ سے اس کی برائی کو واضح کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم رابطہ عالم اسلامی کا اعتدال پسندی اور وسطیت کے اقدار کے مطابق دین کی صحیح تشریح کرنے پر اس کا شکریہ اداکرتے ہیں۔

جمہوریہ چیچینیا کے صدر محترم رمضان قادیروف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مملکت سعودی عرب مسلمانوں کی پرورش گاہ اور ان کا جامع قبلہ ہے۔ وہ مسلمانوں کے اتحاد کا داعی اور صحیح اسلامی اقدار کے فروغ کے لئے کوشاں ہے۔جمہوریہ چیچینیا رحمت، وسطیت، بقائے باہمی اور اعتدال کے اقدار پر عمل پیرا ہوکر اور انتہا پسندی ،غلو ،اور نفرت کو مسترد کرکے خوش حالی کے منازل طے کررہاہے۔انہوں نے کہا کہ آج روس کے مسلمان عموماً اور چیچینیا کے خصوصاً اپنے تمام مذہبی ،سماجی اور انسانی حقوق سے لطف اندوز ہورہے ہیں ،جبکہ ایک زمانے تک وہ ان حقوق سے محروم تھے اور انہیں سختی اورپریشانی کا سامنا تھا۔میں دنیا کے تمام مسلمانوں کو یک زبان ہوکر مملکت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کی دعوت دیتا ہوں۔ انہیں اپنے اختلافات تنازعات اور تفرقہ ختم کرنا چاہئے۔آج ہمیں پہلے سے زیادہ اتحاد اور باہم تعاون کی ضرورت ہے۔

کانفرنس کے موقع پر عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ممتاز عالم دین اور پاکستان علما کونسل کے چیئرمین علامہ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کا کہنا تھا کہ اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے،دہشت گردی اور انتہا پسندی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں،دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنا بھی دہشت گردی ہے،دنیا بھر کے مسلمان ارضِ حرمین کے تقدس،دفاع اور سلامتی کے لئے اپنا تن،من اور دھن لٹانے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں،مکہ کانفرنس کا مقصد اسلام کے پیغام امن کو دنیا بھر میں پھیلانا تھا اور سعودی حکومت اور رابطہ عالم اسلامی بڑی حد تک اس میں کامیاب بھی ہوئی ہے،دنیا بھر سے 12سو سے زائد علماو شیوخ اور اہم شخصیات کا مکہ کانفرنس میں شریک ہونا اس کانفرنس کی کامیابی کی غمازی کرتا ہے۔اس کانفرنس کی کامیابی پر سعودی حکومت اور رابطہ عالم اسلامی کی قیادت مبارکباد کی مستحق ہے،پاکستان بھر کے علما اور شیوخ ”اعلان مکہ“ کی مکمل تائید و حمایت کرتے ہیں اور ہم سعودی قیادت کو امت مسلمہ کی بہترین راہنمائی فراہم کرنے اور رابطہ عالم اسلامی کے منظم پلیٹ فارم پر متحد کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -