پی ایس ایل، پاکستان کی جیت

پی ایس ایل، پاکستان کی جیت
پی ایس ایل، پاکستان کی جیت

  


لاہور اور کراچی میں ہونے والے پی ایس ایل کے میچ اپنے پیچھے خوشگوار یادیں چھوڑ گئے۔اگرچہ فائنل میچ اسلام آباد یونائیٹڈ نے جیتا، لیکن اصل میں پی ایس ایل کے کامیاب انعقاد اور ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کے باعث پاکستان کی فتح ہوئی۔

ملک کا کوئی طبقہ ایسا نہ تھا جس نے اس ایونٹ کی پذیرائی نہ کی ہو۔ نو برس قبل سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد سے ہمارے کھیل کے میدان ویران تھے۔

کوئی بھی ٹیم پاکستان آ کر کھیلنے کو تیار نہ تھی۔ موجودہ حکومت نے یہ کریڈٹ اپنے نام کیا اور عالمی کھلاڑیوں کو پاکستان لانے اور کرکٹ کو دوبارہ عوام کے درمیان عام کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔

لاہور میں ہونے والے ایک سیمی فائنل میچ میں جب بارش کی وجہ سے گراؤنڈ گیلی تھی اور میچ تاخیر کا شکار تھا تو فوج کے ہیلی کاپٹر نے گراؤنڈ کو سکھانے کے لئے دیر تک گراؤنڈ کے چکر لگائے۔

اس سے یہ ثابت ہو رہا تھا کہ کھیل کے میدان کو آباد کرنے میں ہمارے تمام ادارے انتہائی سنجیدہ ہیں اور ہر قسم کی رکاوٹ کا مقابلہ کرنے کو تیار ہیں۔

اس سلسلے میں چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی بھی مبارکباد کے مستحق ہیں جن کی کاوشوں کی وجہ سے انٹرنیشنل کھلاڑی پاکستان میں آنے کو تیار ہوئے۔ دراصل عالمی کھلاڑیوں کو جس اعتماد کی ضرورت تھی وہ اعتماد انہیں پاکستانی حکام نے مہیا کیا۔

صدر وزیراعظم وزرائے اعلیٰ آرمی چیف سیاسی و مذہبی جماعتیں این جی اوز اور تمام نجی و سرکاری تنظیمیں پی ایس ایل کے کامیاب انعقاد کے لئے کوششیں کرتی دکھائی دیں۔پی ایس ایل کی وجہ سے ملک میں عوامی جوش و جذبہ دیدنی تھا۔

جب چیئرمین نجم سیٹھی نے یہ اعلان کیا کہ آئندہ برس پی ایس ایل کے آدھے میچ پاکستان میں ہوں گے تو یہ سن کر تو پاکستانیوں کے دل خوشی سے جھوم اٹھے۔

وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور خوشیاں مناتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور ایک دوسرے کو مبارکبادیں دینے لگے۔ وزیرمملکت مریم اورنگزیب نے درست کہا کہ پی ایس ایل کے انعقاد سے دراصل پاکستان کی جیت ہوئی ہے۔

پی ایس ایل کا انعقاد کوئی آسان کام نہ تھا۔ دہشت گردی کی وجہ سے ملک میں سکیورٹی کے خطرات موجود تھے۔ دہشت گرد ایسے ایونٹس کو نشانہ بنا کر بہت زیادہ توجہ اور فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں ،تاکہ دنیا کو یہ پیغام دے سکیں کہ پاکستان تو کھیل اور کھلاڑیوں کے لئے بھی غیر محفوظ ملک ہے۔

بم دھماکے ہوتے ہیں اور وہاں جانا خطرے سے خالی نہیں۔ وہ بیرونی حکومتوں اور سرمایہ کاروں کو یہ باور کرانے میں ناکام ہو گئے کہ پاکستان ایک دہشت گرد ملک ہے اور یہاں امن نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔

دہشت گردوں کے اس پلان پر ہماری حکومت اور سکیورٹی فورسز نے پانی پھیر دیا اور انتہائی ذمہ دارانہ کردار ادا کرتے ہوئے ملک کو دوبارہ امن کا گہوارا بنا دیا۔ پاکستان جیسے ملکوں کے لئے یہ جنگ جیتنا آسان نہ تھا۔

ایک طرف امریکہ کا یہ دباؤ بڑھ رہا تھا کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف مزید کارروائی کرے دوسری طرف بھارت را کے ذریعے مذموم کارروائیاں کرنے میں مصروف تھا۔

ایسے میں سول اور ملٹری تعاون کی وجہ سے پاکستان نے امریکہ کی ہر دھمکی کا مقابلہ کیا اور را کو ایسا سبق سکھایا کہ آئندہ اسے بلوچستان یا دیگر علاقوں میں کارروائی کے بارے میں سوچنے کی بھی ہمت نہیں ہو گی۔

کراچی میں پی ایس ایل کے فائنل کا انعقاد اس ایونٹ کی سب سے بڑی کامیابی تھی۔ کراچی ایک عرصے سے آگ اور خون کی بارش میں جل رہا تھا‘ جہاں ٹارگٹ کلنگ بھتہ خوری اغوا اورد ھماکے روزانہ کا معمول بن چکے تھے اورسرمایہ کار منہ موڑ رہے تھے وہی کراچی آج دوبارہ روشنیوں کا شہر بن چکا ہے۔ یہاں پھر سے سرمایہ کار واپس آ رہے ہیں۔

اب یہاں کوئی بھی زبردستی دکانیں بند نہیں کراتا۔ ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کا بھی مکمل خاتمہ ہو چکا ہے اور اب کسی کو یہ خوف لاحق نہیں رہا کہ وہ گھر سے نکلے گا تو واپس آ سکے گا یا نہیں۔ یہ خوف اب ختم ہو چکا۔ اب کراچی کی سڑکیں دوبارہ آباد ہو چکی ہیں۔

کراچی کی طرف کوئی میلی آنکھ کی طرف نہیں دیکھ سکتا۔کراچی میں پی ایس ایل ہونے کی وجہ سے کراچی کے لوگوں کا حکومت پر اعتماد بڑھا۔ انہوں نے جوق در جوق فائنل میچ دیکھا۔

فیملیز بلا خوف گھروں سے نکلیں اور اپنے ملک کا مثبت چہرہ دنیا کو دکھانے کے لئے فائنل میچ میں شریک ہوئیں۔ یہ جوش و جذبہ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ پاکستانیوں کو کوئی دہشت گرد شکست نہیں دے سکتا۔

پاکستان تیزی سے ترقی کرتا ہوا ملک بن گیاہے۔ یہ دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہونے جا رہا ہے۔ سی پیک کی وجہ سے تو اس کی معیشت کو چارچاند لگنے والے ہیں۔

پاک چین دوستی نے خطے کا چہرہ ہی تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ اب امریکہ بھی ہمیں دبانے سے پہلے دس مرتبہ سوچتا ہے۔ بھارت بھی اپنی اوقات میں آ چکا ہے۔

یہ ساری کرامات ہماری جمہوری حکومت کی کامیابیوں کا ثمر ہیں۔ ملک میں جمہوریت کا دوردورہ ہے۔ سٹاک ایکسچینج کے نئے ریکارڈ بن رہے ہیں۔

یہ سب دنیا کے لئے حیران کن ہے، کیونکہ یہ وہی ملک ہے جو تین سال قبل تک دہشت گردی کی زد میں تھا۔ کوئی دن نہ جاتا تھا جب ملک کے کسی حصے میں کوئی دھماکہ نہ ہوتا تھا۔

لوگ اپنے کاروباری کی وجہ سے پریشان تھے۔ بچوں کے سکول جانے کے دوران دھڑکا لگا رہتا تھا۔ ایسے میں حکومت نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائی کا فیصلہ کیا۔ اس کے پیچھے پوری قوم کھڑی ہوگئی۔

سب نے مل کر فیصلہ کیا کہ ملک کو دہشت گردی کی لعنت سے پاک کر کے چھوڑیں گے۔ اس جنگ میں ستر ہزار پاکستانی شہید ہو چکے ہیں۔ اربوں کا مالی نقصان الگ سے اٹھانا پڑا ہے ۔ اس کے باوجود ہماری قوم نے ہمت نہیں ہاری۔

وہ اپنی جمہوری حکومت اور حکمرانوں کے شانہ بشانہ چلتی رہی۔ آج انہی کوششوں کا ثمر ہے کہ ملک میں کھیلوں کے میدان پھر سے آباد ہو رہے ہیں۔ کاروبار اور معیشت پھر سے ترقی کر رہی ہے۔ دنیا بھر بڑھ رہے ہیں کے میڈیا میں پاکستان کے حوالے سے امیدا افزا اور خوش کن خبریں پیش کی جا رہی ہیں۔

پہلے پاکستان کا نام آنے پر لوگ خوفزدہ ہو جاتے تھے ۔ اب پاکستان پھر سے دنیا کی نگاہوں کا مرکز بن چکا ہے۔ ہر کوئی یہاں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے۔ چین جیسے ترقی یافتہ ترین ممالک نے بھی دوستی اور معاشی اقدامات کے لئے پاکستان کو ہی منتخب کیا۔

کامیابی کا سہر احکمرانوں اور عوام کے سر ہے جنہوں نے مل جل کر اس ملک کو مضبوط بنانے اور پاکستان کے پرچم کو بلند کرنے میں اپنا اپنا کردار ادا کیا۔ پی ایس ایل کی وجہ سے پاکستان کا نام روشن ہوا ہے۔ امید ہے یہ سلسلہ یونہی جاری رہے گا ۔

مزید : رائے /کالم