درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 44

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 44
درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 44

  

چڑیوں کی چوں جوں اور جھینگروں کی آواز نے جنگل کے اس حصے میں خاصا شور پیدا کر دیا تھا۔ یہ آواز کبھی رک جاتی اور کبھی مختصر وقفوں کے بعد دوبارہ شروع ہو جاتی۔میں نے مری ہوئی گائے کی طرف نظر دوڑائی اور وہیں سے بالکل اس کے اوپر درخت پر بنے ہوئے مچان کو دیکھا۔میرا دل بیٹھ گیا۔ گارے دوہو چکے تھے اور ان کے درمیان اسّی گز کا فاصلہ تھا۔مچان صر ف ایک گارے کے لیے بنایا گیا تھا اور وہ زمین سے بمشکل نو دس فٹ اونچا ہو گا۔اس کا مطلب یہ کہ شیراگر جست کرے تو مچان کو ایک ہی ہلے میں نیچے گرا سکتا ہے۔میں نے اندازہ کیا تو پتا چلا کہ کوے کے گھونسلے کی طرح بنا ہوا یہ مچان زیادہ مضبوط بھی نہیں ہے اور مشکل ہی سے میرا وزن سہارسکے گا۔اب یہی ایک راستہ باقی تھا جس پر چل کر کامیابی سے ہمکنار ہونے کا امکان نظر آتا تھا لیکن اس میں سراسر جان جانے کا خطرہ بھی تھا کہ میں مچان پر بیٹھ جاؤں اور شیر کی آمد کا انظار کروں،کیونکہ بہرحال اس کا اس طرف آنا لازمی تھا۔

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 43  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

دوگارے کرنے کے باوجود اسے ابھی تک پیٹ بھرنا نصیب نہیں ہوا اور وہ یقیناً بھوک سے بے تاب ہو کر موقعے کی تلاش میں ہو گا مگر سوال یہ تھا کہ پہلے وہ کس گارے پر جائے گا؟گائے کی طرف یا بچھڑے کی طرف؟موجودہ انتظام کے تحت اسے گائے کی طرف آنا چاہیے تھا تاکہ میں مچان پر سے گولی چلا سکوں۔شیر کو گھیر کر گائے کی طرف لانے کے لیے ضروری تھا کہ بچھڑے کو گھسٹ کر گائے کے پاس لایا جائے۔بچھڑا نہایت وزنی تھا اور درختوں کے نیچے پڑے ہوئے خشک پتوں اور شاخوں میں اسے گھسیٹ کر مردہ گائے کے پاس لانا میرے لیے سخت آزمائش کا مقام تھا لیکن مرتا کیا نہ کرتا۔ ہانپ ہانپ کر بچھڑے کی لاش گھسیٹتا رہا،حتیٰ کہ بدن پسینے سے تر ہو گیا۔۔۔اس فرض کی انجام دہی میں مجھے جس مہلک خطرے سے گزرنا پڑا۔آج سوچتا ہوں تو اپنی اس حماقت پر ہنسی آجاتی ہے۔اپنی اس حرکت سے میں شیر کو براہ راست دعوت دے رہاتھا کہ وہ اس مداخلت بے جا پر جھلا کر فوراً حملہ کرے لیکن زندگی کے دن ابھی باقی تھے شیر یا تو فی الحقیقت وہاں موجود نہ تھا یا تھا تو دانستہ آگے نہ آیا۔بہرحال بچھڑے کو مردہ گائے کے پہلو تک گھسیٹ لانے میں کامیاب ہو گیا۔ میں نے مزید احتیاط کی اور بچھڑے کی ایک ٹانگ گائے کی ٹانگ سے باندھ دی۔اس کے بعد اپنا جھولا مچان پر پھینکا اور پھر خود درخت پر چڑھ کر اطمینان سے بیٹھ گیا۔

بچھڑے کو گھسیٹنے کی شدید مشقت اور تھکن کے باعث میں حددرجہ نڈھال ہو چکا تھا اور میرے اعصاب کو سکون کی ضرورت تھی،چنانچہ میں نے سگریٹ سلگایا۔ میرا طریقہ یہ ہے کہ درندے کی انتظار میں مچان پر بیٹھتے وقت سگریٹ یا نگار کبھی نہیں پیتا، کیونکہ اس کا ننھا سرخ جلتا ہوا سرادرندے کو تاریکی میں دور سے نظر آجاتا ہے لیکن اس موقع پر میں صبر نہ کر سکا۔ شاید اس لیے کہ میں نے تھوڑی دیر پہلے جو حرکتیں کی تھیں،وہ خطرناک سے خطرناک درندے اور بھوک سے بے تاب شیر کو بھی مجھ سے دور رکھنے کے لیے کافی تھیں۔کوئی درندہ،شکاری کی ان احمقانہ حرکتوں کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ پس مجھے اطمینان تھا کہ میں صبح تک مچان پر یونہی بیٹھا اپنی قسمت کو روتا رہوں گا۔

رات کی تاریکی اور سناٹے میں درندہ کی قوت سامعہ،شامہ اور باصرہ اتنی تیز ہو جاتی ہے کہ اسے ا لفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔اپنے انہی فطری ہتھیاروں کے باعث وہ عرصہ دراز تک خوں ریز سرگرمیوں میں مشغول رہتا اور شکاریوں کو پریشان کرتا ہے اور کسی طرح ہاتھ نہیں آتا۔اب کوئی معجزہ ہی ہوتا جو شیر اس قدر شور کے بعد اس طرف آجاتا اور فرض کیجیے وہ آجائے،تب بھی شیر اتنا بے وقوف نہیں کہ وہ جانوروں کی لاشیں پاس پاس پڑی دیکھ کر خطرے کی بو نہ سونگھے۔وہ پیٹ بھرنے کے بجائے وہاں سے رفوچکر ہو جائے گا۔

رات کاجل کی طرح سیاہ اور ڈراؤنی تھی اور تاریکی اتنی کہ قریب کھڑے ہوئے درخت بھی اس کا ایک حصہ بن گئے تھے۔آسمان پرستاروں کی قندیلیں روشن تھیں لیکن ان کی مدھم روشنی جنگل کے لیے بے کار ثابت ہو رہی تھی۔بہت دیر بعد خفیف سی روشنی پتوں اور شاخوں سے بچتی بچاتی زمین تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔میں بدستور مردہ گائے اور بچھڑھے پر نظریں جمائے،اپنی جگہ بے حس و حرکت بیٹھا تھا۔ گائے کی لاش ایک مختصر سے سفید نقطے کی مانند دکھائی دے رہی تھی۔

معاًیوں احساس ہوا، جیسے کوئی ذی روح کچھ فاصلے پر موجود ہے اور حالات کا جائزہ لے رہا ہے۔جنگل میں مدت تک گھومنے پھرنے اور درندوں کے ساتھ شب و روز دو دو ہاتھ کرنے کی وجہ سے میرے اندر خاص حس ابھرآئی تھی اور یہ حس اشارہ کرتی تھی کہ خطرے کی گھڑی سر پر آن پہنچی اور اس سے نمٹنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔

میں نے ابھی ابھی شیر کی تین بڑی صلاحیتوں کا ذکر کیا ہے جو اس کی حفاظت کے لیے قدرت نے ودیعت کی ہیں۔سمجھ لیجیے کہ ایک خاص حس قدرت نے انسان کو عطا کر دی ہے اور اس طرح اپنی یخششوں کا توازن بگڑنے نہیں دیا۔انسان اور خصوصاً شکاری کی چھٹی حس حقیقتاً اسے ان گنت حادثوں اور خطروں سے بچاتی ہے۔میرے اعصاب نے پھر یری لی اور بیدار ہو گئے۔میں نے فوراً سگار بجھا دیا اور رائفل ہاتھ میں سنبھال لی۔میں جانتا تھا کہ جلد یا بدیرشیر کی چمکتی ہوئی آنکھیں اس کی موجودگی کا سراغ فراہم کر دیں گی۔اس لیے پلک جھپکائے بغیر گائے کو دیکھ رہا تھا۔ اگرچہ شیر کے ظاہر ہونے کی کوئی واضح علامت سامنے نہ آئی تھی مگر دل کہتا تھا کہ وہ قریب ہی موجود ہے۔میں نے احتیاطاً دائیں بائیں طرف سے مچان کا جائزہ لیا۔دیکھنے میں تو خطرناک اور کمزور نظر آتا تھا لیکن حقیقت میں مضبوط اور محفوظ تھا اور ضرورت سے زیادہ کشادہ بھی،البتہ جھانکل کی تپوار پریشانی کا باعث بن سکتی تھی۔کہیں بہت گھنی، کہیں چھدری اور خوفناک حد تک غلط۔

شک تھاکہ شیر یقیناً اسے شبہے کی نظر سے دیکھے گا اور اگر وہ کسی دوسرے احمق یا بغیر لائسنس شکار کھیلنے والے شکاری کے ہاتھوں زخمی ہو چکا ہے،تب تو بہت زیادہ چوکنا اور ہوشیار ہو جائے گا۔ مردہ گائے کا سفید دھبا مجھ سے تقریباً نو دس فٹ کے فاصلے پر اندھیرے میں صاف نظر آرہا تھا۔ اب مجھ پر خوف سوار ہونے لگا کہ اگر شیر زخمی ہونے کے باعث خونخوار نکلا تو اسے مچان تک پہنچنے کے لیے لمبی چوڑی چھلانگ لگانے کی ضرورت نہ پڑے گی۔ وہ نہایت آسانی سے اپنا اگلا دایاں پنجہ اوپر بڑھا کر مجھے مچان سے کھینچ سکتا ہے۔میں نے سوچا مچان چھوڑ کر درخت کی کسی اونچی شاخ پر چڑھ جاؤں۔بلا سے شیر مرے یا نہ مرے، جان توبچ جائے گی۔ ممکن ہے یہ حماقت کر بیٹھتا مگر فوراً ہی کسی غیبی آواز نے میرے کان میں کہا۔خبردار جہاں بیٹھے ہو،وہیں چپکے رہو۔ذرا ہلے جلے اور موت نے ٹینٹوادبایا، چنانچہ میں مچان ہی پر دبکا رہا۔گردونواح میں دور دور تک خشک پتے بکھرے ہوئے تھے اور مجھے اپنی سماعت پر اتنا تو بھروسہ تھا کہ ا گر شیر گارے پر آیا تو اس کے چلنے سے جو آواز پیدا ہو گی، وہ میرے کانوں تک ضرور پہنچ جائے گی۔(جاری ہے )

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 45 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

آدم خور -