پاک بھارت مذاکرات کی ناکامی

پاک بھارت مذاکرات کی ناکامی
 پاک بھارت مذاکرات کی ناکامی

  

بھارتی سیاست اور بالخصوص خارجہ پالیسی میں ایک حد تک چانکیا ئی اصولوں کا عمل دخل تو ضرو ر رہا ہے، مگر اب مودی دور حکومت میں ایسا دکھائی دیتا ہے کہ چانکیا کے سا تھ ساتھ قدیم چین کے مفکر اور عسکری دانشور سن تزوکے اس انتہائی مشہور مقولے پر بھی بھرپور طریقے سے عمل کیا جا رہا ہے۔ کہ ’’ اپنے دشمن کو سب سے پہلے پریشان کرو،پھر دھو کہ دو، اور اس کے بعد اس کو حیران کر دو‘‘23اور 24اگست کو پاک بھارت قومی سلامتی کے مشیروں کے مابین مذاکرات سے پہلے بھارت نے جس طرح کی پالیسی اپنا ئی اس سے یہی ثابت ہو تا ہے کہ بھارت مذاکرات سے جان چھڑانے کے لئے کسی جواز کو تلا ش کر رہا تھا اور جب اسے کو ئی معقول جواز نہ ملا تو پھر اس نے انتہائی بھونڈے بہانے کا سہارا لے کر مذاکرات سے اپنا دامن بچا لیا۔بھارتی موقف کے مطابق اوفا معاہد ے کی روشنی میں قومی سلامتی کے مشیروں کے مابین صرف دہشت گردی کے مسئلہ پر ہی بات ہونی چاہئے تھی اور کشمیر کا مسئلہ اس مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں تھا۔بھا رت کے اس موقف کے درست یا غلط ہونے پر بات کر نے سے پہلے اس دوسری شرط کے بھونڈے پن کو دیکھنا ضروری ہے، جس کے مطابق قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز اپنے دورۂ بھارت کے دوران حریت رہنماؤں سے ملاقات نہ کریں۔کیا مودی حکومت سے پہلے کسی بھی بھارتی حکو مت نے اس بناء پر پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا عمل معطل کیا کہ اس کے کسی اعلیٰ عہدیدار نے حریت رہنماؤں سے ملاقات کی ہے؟

1993ء میں حریت کانفرنس کے باقاعدہ وجود میں آنے کے بعد اس کے رہنماؤں کو پاکستان کے قومی دن کے موقع پر نئی دہلی میں پاکستانی سفارت خانے میں دعوت دی جاتی ہے۔پاکستان سے جب بھی کوئی اعلیٰ عہدیدار اور وزیر بھارت کا دورہ کرتا ہے تو حریت رہنماؤں سے ملاقات ان کے معمول کا حصہ ہوتا ہے۔ خود نریندرا مودی کی جماعت بی جے پی کے دورِ حکومت 1998-2004)ء)کے دوران 12 مواقع ایسے آئے جب حریت رہنماؤں نے پاکستان کے حکومتی عہدیداروں سے ملاقات کی۔ پرویز مشرف نے بھی 2001ء کے دورۂ بھارت کے دوران حریت رہنماؤں سے ملاقات کی تھی۔ نومبر2013ء میں حریت رہنماؤں نے سلامتی امور کے مشیر سرتاج عزیز سے بھی ملاقات کی۔ بھارتی حکومت نے کبھی ان ملاقا توں کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ مذاکرات معطل نہیں کئے۔ خود بھارتی حکومتیں بھی خفیہ اور اعلانیہ حریت رہنماؤں سے گاہے بگاہے ملاقاتیں کرتی رہی ہیں۔بی جے پی کے رہنما اور سابق وزیر داخلہ ایل کے ایڈوانی نے بحیثیت وزیر فروری2004 ء میں حریت رہنماؤں سے ملا قات کی۔حریت رہنماؤں سے ایل کے ایڈوانی کی ملاقا توں کا احوال ان کی انگریزی زبان میں لکھی ہوئی سوانح عمری’’میرا مُلک، میری زندگی‘‘ میں بھی ملتا ہے ۔ اِسی طرح سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اور سابق وزیر داخلہ پی چدم برم نے 2006ء کے آغاز میں حریت رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔گزشتہ سال بھی حریت رہنماؤں کے ساتھ پاکستانی ہائی کمشنر کی ملاقات کو ہی جواز بنا کر مذاکرات کے عمل کو معطل کیا گیا، جس سے ایک سال تک پاک بھارت مذاکراتی عمل بالکل معطل رہا، اور اب ایک مرتبہ پھرمذاکراتی عمل کو معطل کرنا انتہائی غیر دانشمندانہ اقدام ہے۔

اب یہاں بنیادی سوال یہی ہے کہ بھارت نے اپنے سابقہ موقف سے انحراف کیوں کیا؟ دراصل نریندر مودی کی اپنی شخصیت تضادات کا شکا ر رہی ہے۔ ان کی مسلم دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی۔اس کے ساتھ ساتھ وہ گجرات کے وزیراعلیٰ کی حد تک کارپوریٹ سیکٹر کے لئے انتہائی کامیاب وزیراعلیٰ ثابت ہوئے۔گجرات ماڈل کے ہی باعث وہ قومی انتخابات میں کا رپوریٹ سیکٹر کے نمائندہ سیاست دان کے طور پر ابھرے۔مودی اپنے ووٹ بینک اور تنظیمی حمایت کے لئے آر ایس ایس اور ہندو ووٹ، جبکہ سرمائے کے لئے کارپوریٹ سیکٹر کے مرہون منت رہے۔ وزیراعظم بننے سے پہلے اپنے انتہائی داغدار ماضی کے با عث مودی کے امریکہ میں داخل ہونے پر بھی پابندی تھی۔شاید اپنے اسی داغ دار ماضی کے دھبوں کو دھونے کے لئے مودی نے پاکستان سمیت دیگر پڑوسی ممالک کو بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر ایسے اشارے دیئے کہ نریندرمودی سرکار بھی واجپائی کی این ڈی اے حکومت 1998-2004)ء)کی ہی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بات چیت کا راستہ اختیا ر کرے گی اور پاک بھارت مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ دوسری طرف پاکستان کی جانب سے بھی اس امید کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ چونکہ ماضی میں بی جے پی اور غیر کا نگرسی ادوار میں پاکستان کو بھارت کے ساتھ معاملات طے کرنے میں قدرے آسانی رہی اِس لئے اس مرتبہ بھی مودی یا بی جے پی حکومت کے ساتھ پاکستان مذاکرات کی ہی راہ پر چلتا ہوا معاملات حل کر نے کی کوشش کرے گا، جبکہ پا کستان کے تقر یباً تمام حلقوں میں اس امر پر بھی اتفاق پایا جاتا تھاکہ کا نگرس کے مقابلے میں بی جے پی پاکستان کو کچھ دینے کی بہتر پوزیشن میں ہوتی ہے، کیونکہ ہندو بی جے پی کو پاکستان کے ساتھ معاملات کے حل میں اس طرح کی مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا کہ جس طرح کی مخالفت سیکولر کا نگرس کو برداشت کرنا پڑتی ہے۔نریندر مودی کی کامیابی کے بعد جب پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے تمام سربراہان کو مودی کی حلف برداری کی تقریب میں مدعو کیا گیا تو اس اقدام کو پوری دُنیا میں سراہا گیا۔

گزشتہ سال مئی میں نواز شریف کے دورۂ بھارت سے پہلے ہرات (افغانستان) میں بھارتی مشن پر حملہ ہوا تو مودی نے پاکستان پر الزام عائد کرنے کی بجائے چُپ سادھے رکھی۔مودی نے وزیراعظم بننے کے بعد جب جولائی میں سرینگر کا دورہ کیا، تو اس دورے میں لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کے با وجود پاکستان کی مذمت کر نے سے گریز کیا گیا۔اس کے ساتھ ساتھ مودی نے بنگلہ دیش ،بھوٹان اور نیپال، جبکہ بھارتی وزیر خا رجہ سشما سوراج نے بھوٹان، بنگلہ دیش اور میانمار کے دورے کر کے یہ تاثر دیا کہ مودی حکومت ترجیحی بنیادوں پر جنوبی ایشیا کے خطے میں امن کے لئے کوشاں ہے۔اسی پس منظر میں جب امریکہ نے مودی کے ماضی کو نظر انداز کرتے ہوئے انہیں گلے لگا لیا تو ان کے اندر کا فاشسٹ ایک مرتبہ پھر باہر آنے لگا۔ مودی جب پاکستان مخالفت میں انتہا پر جانے لگتے تو کارپویٹ سیکٹر اپنے مفادات کے پیش نظر ان کی حما یت سے اپنا ہاتھ اٹھانے لگتا، اور جب وہ کسی حد تک نرمی کا رویہ اختیار کرتے ہیں تو ہندو انتہا پسند ووٹ پاکستان کے حوالے سے اس نرمی کی مخالفت کرنے لگتا ہے۔کارپویٹ سیکٹر اور ہندو انتہا پسند ووٹ مودی کی سیاسی قوت کے دو اہم ترین ستون ہیں، مگر ان دونوں ستونوں کے مابین شدید تضاد پایا جاتا ہے۔ پاکستان کے بارے میں مودی سرکار کی پالیسیوں کے اندر جو تضاد نظر آتا ہے وہ کافی حد تک کا رپوریٹ سیکٹر اور ہندو انتہا پسند ووٹ بینک کے مابین تضاد کا عکاس ہے۔ تاہم یہاں اس حقیقت سے بھی فرار ممکن نہیں ہے کہ بھارتی کارپوریٹ سیکٹر کا ایک دھڑا بھی اب پاکستان مخالفت میں انتہا پسند ہوتا جا رہا ہے۔ بھا رتی میڈیا (جو کارپوریٹ سیکٹر کے تابع ہے) کی پاکستان مخالفت اس بات کا ایک بڑا ثبوت ہے۔اس حوالے سے بی بی سی کی 22اگست کی رپورٹ (بھارت جنگ کی آپشن پر توجہ دے رہا ہے) بھی اہمیت کی حامل ہے کہ جس میں بتایا گیا ہے کہ مودی سرکار بھارتی میڈیا کے چند حصوں کو اپنے ساتھ ملا کر پاکستان کو شدید دباؤ میں لانا چا ہتی ہے۔ حالیہ مذاکرات کی ناکامی پر بھارت کے چند نیوز چینلز کا کردار انتہائی منفی رہا۔ خود بھارت کے غیر جا نبدار صحافی بھی یہ موقف رکھتے ہیں کہ بھارت کے چند نیوز چینلز جس طرح بڑھ چڑھ کر پاکستان کے خلاف ثبوت پیش کرنے میں لگے ہو ئے تھے اس سے عیاں تھا کہ یہ نیوز چینلز بھارتی حکومت سے لائن لے رہے ہیں۔ ایک نیوز چینل نے تو کراچی میں داؤد ابراہیم کے تین بنگلوں کا بھی انکشاف کر دیا۔

اس ساری صورت حال میں ہمیں اپنی حکومت کی غلطی کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔اوفا معاہد ے میں نواز ۔مودی ملا قات کے بعد جو مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا اس کو پڑھ کر لگتا ہے کہ پاکستانی حکومت نے مودی سے ملاقات سے پہلے کو ئی ہوم ورک نہیں کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس مشتر کہ معاہدے میں دہشت گردی کا ذکر کیا گیا،مگر دہشت گردی کی ایک بڑی اہم وجہ،یعنی کشمیر کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اوفا معاہدے کے نقطہ نمبر ایک میں یہ کہا گیا ہے کہ ’’دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں کے مابین نئی دہلی میں دہشت گردی سے متعلق تمام حل طلب ایشوز پر بات کی جائے گی‘‘بہتر ہوتا اگر پاکستان اوفا معاہدے کے اس نقطے میں کھل کر کشمیر کا لفظ شامل کروانے کے لئے بھی اصرار کرتا۔

پاک بھارت تا ریخ شاہد ہے کہ جب بھی کئی باتوں کو جواز بنا کر مذاکرات کے سلسلے کو معطل کیا گیا تو اس سے ہمیشہ امن کو نقصان پہنچا۔یہی وجہ ہے کہ ہر بھارتی حکومت کو وقت گزرنے کے ساتھ اس حقیقت کا احساس ہوا اور اسے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر واپس آنا پڑا۔ برصغیر کا خطہ اب مزید جنگ و جدل کی کیفیت برداشت نہیں کر سکتا۔ اس خطے کی غریبی، افلاس، بھوک ، بیروزگاری اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والی دہشت گردی کے مسائل اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتے جب تک حکمران طبقات سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیرینہ اور حل طلب مسائل مذاکرات کے ذریعے حل نہیں کرتے۔ *

مزید : کالم