جناب چیف جسٹس کی خدمت میں گزارشات

جناب چیف جسٹس کی خدمت میں گزارشات
 جناب چیف جسٹس کی خدمت میں گزارشات

  

لاہور کے ایک ایڈیشنل جج صاحب اور ایک سنیئر وکیل کے درمیان لڑائی میڈیا میں خبر بنی ہے۔ خبر کے مطابق جھگڑا ایک ضمانت کے کیس پر ہوا۔ محترم جج صاحب نے ملزمان کی ضمانت منسوخ کر دی تھی جس کا وکیل صاحب کو غصہ تھا۔ بات تصادم تک جا پہنچی۔ ضمانت منسوخ کرنا یا نا منظور کرنا جج صاحب کا حق ہے۔ جس پر غصہ ایک وکیل کو زیب نہیں دیتا۔ ماتحت عدلیہ میں وکلا اور جج صاحبان کے درمیان تنازعات اور لڑائیاں یا تصادم کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن یہ بات بھی حقیقت ہے کہ اب تک عدلیہ کے ذمہ داران اور وکلا کے نمائندے اس کے سدباب کا کوئی راستہ نہیں ڈھونڈ سکے ہیں۔ حالیہ واقعہ کے بعد بھی عدلیہ اور وکلا کے ذمہ داران نے ماضی کی مٹی پاؤ پالیسی کو جاری رکھا ۔ سنا جا رہاہے کہ معاملہ کو دبانے کی پالیسی جاری ہے۔ مزاحمت کی بجائے مفاہمت کی پالیسی جاری ہے۔ عدلیہ کے ذمہ داران جج صاحب کو ٹھنڈا کر رہے ہیں اور وکلا کے نمائندے اپنے وکیل کو ٹھنڈا کر رہے ہیں۔ لیکن یہ ایک افسوسناک امر ہے۔

جج اور عدالت کا تقدس کسی بھی صورت پامال نہیں ہو نا چاہئے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر کوئی جج انصاف اور عدلیہ کا تقدس پامال کر بھی رہا ہو تب بھی اس جج اور اس کی عدالت کاتقدس پامال نہیں ہو نا چاہئے۔ یہ چیف جسٹس صاحب کا فرض ہے کہ وہ عدلیہ کے تقدس اور عدالت کے تقدس کو ہر حالت میں برقرار رکھیں۔ اگر عدلیہ اور عدالت کا تقدس قائم نہیں رہے گا تو ملک میں عدلیہ کا احترام ختم ہو جائے گا۔ توہین عدالت کا قانون اسی لئے بنایا جاتا ہے کہ ملک میں عدلیہ کا احترام برقرار رہے۔ یہ حقیقت ہے کہ پنجاب کی ماتحت عدلیہ کے پاس توہین عدالت کے اختیارات نہیں ہیں۔ ماتحت عدلیہ کا جج جب یہ سمجھتا ہے کہ اس کی عدالت کی تو ہین ہوئی ہے تو وہ خود کوئی کاروارئی نہیں کر سکتا بلکہ ایک ریفرنس بھیجنے کا محتاج ہے۔ایک عمومی تاثر یہ ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اور عدلیہ کے ذمہ داران ماتحت عدلیہ کی جانب سے آنے والوں ریفرنسز کو اچھا نہیں سمجھتے۔ اسی لئے ماتحت عدلیہ کے ججز بھی ایسے ریفرنس بھیجنے سے اجتناب ہی کرتے ہیں۔

ایک رائے تو یہ ہے کہ اصل عدلیہ ماتحت عدلیہ ہے۔ ٹرائل یہاں ہو تا ہے۔ تمام مقدمات کی ابتدائی سماعت یہاں ہو تی ہے۔ مقدمات سالہا سال یہاں ہی پھنسے رہتے ہیں۔ عوام میں ماتحت عدلیہ کا تاثر ہی ٹھیک نہیں۔ سہولیات کا فقدان بھی ماتحت عدلیہ میں ہی ہے۔ گندی عدالتیں اور ٹوٹا فرنیچر ۔سب ماتحت عدلیہ کی ہی نشانیاں ہیں۔ بلا شبہ ہائی کورٹ کی عدالت میں پہنچ کر عدالت کا احترام کرنے کو دل کرتا ہے اور ماتحت عدلیہ کی عدالت میں پہنچ کر ایک تاثر ابھرتا ہے کہ یہاں کیا انصاف ہو گا۔ آواز لگانے والا، ریڈر سب ہی برا تاثر دیتے ہیں۔ برآمدے اور راہداریاں گندے۔ ہر طرف ایک برا ماحول ہی نظر آتا ہے۔ ایسے میں توہین عدالت کے اختیارات بھی ماتحت عدلیہ کے پاس نہ ہونے سے ماتحت عدلیہ ایک ایسی عدلیہ ہے جس کا کوئی دانت نہیں۔ جو اپنی عزت کا تحفظ نہیں کر سکتے وہ عام آدمی کو کیا انصاف دیں گے۔ جو جج اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی پر کوئی ایکشن نہیں لے سکتا وہ اپنے فیصلے پر عمل کیسے کروائے گا۔ اسی لئے ماتحت عدلیہ کے حکم امتناعی کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ ماتحت عدلیہ کے سمن کو بھی سنجیدہ نہیں لیا جاتا۔ وکلا بھی ماتحت عدلیہ کو سنجیدہ نہیں لیتے۔

چیف جسٹس منصور علی شاہ نے عدلیہ میں احتساب کا ایک عمل شروع کیا ہے۔ جس میں ان ججز کے خلاف کاروائی بھی شامل ہے جن کی شہرت اور کارکردگی ٹھیک نہیں۔ لیکن یہ بات بھی حقیقت ہے کہ جناب چیف جسٹس نے عہدہ کا حلف اٹھاتے وقت اپنی ترجیحات بیان کرتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ کسی بھی جج کے ساتھ عدالتی امور نبٹاتے ہوئے بدتمیزی برداشت نہیں کریں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ لاہور ہائی کورٹ کو اس واقعہ کو ایک ٹیسٹ کیس بنانا چاہئے تا کہ آئندہ ایسے واقعات نہ ہوں۔

یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ ضمانت کے مقدمات میں قانون بہت مبہم ہے۔ بلکہ ایک عمومی تاثر یہ بھی ہے کہ ضمانت میں جج کی ذاتی مرضی اور سوچ کا زیادہ عمل دخل ہے جبکہ قانون کا عمل دخل کم ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اسی وجہ سے ضمانت کے مقدمات میں سائل کو بھی اس بات کا حساس ہو تا ہے کہ کیس کا فیصلہ وکیل کی شکل اور نامور ہونے سے اس کے حق میں ہو سکتا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے جج پر بھی ایک کیس کے حوالہ سے یہ الزام ہے کہ ایک کیس میں انہوں نے پہلے ضمانت مسترد کی بعد میں صرف وکیل تبدیل ہونے کے بعد اسی کیس میں ضمانت منظور کر لی۔

اس سب کے ساتھ میری رائے یہ بھی ہے کہ نوے فیصد ضمانت کے مقدمات ماتحت عدلیہ اور اعلیٰ عدلیہ پر بوجھ ہیں۔عدلیہ کو اس بوجھ سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہئے۔ اس سے عدلیہ کا ٹائم ضائع ہو تا ہے۔ نوے فیصد مقدمات میں ضمانت دینا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہونی چاہئے۔ دوران تفتیش پولیس اور دیگر تفتیشی اداروں کو ملزم کو از خود ضمانت دینی چاہئے۔ جب تک ملزم کے خلاف ثبوت نہیں تو ضمانت اس کا حق ہے۔ ضمانت کا مقدمہ عدالت میں تب جانا چاہئے جب تفتیش میں ثبوت مل جائیں۔یہ ماننا چاہئے کہ ابھی ضمانت کے مقدمات تفتیش کی راہ میں بھی رکاوٹ ہیں۔ عدلیہ کو ملزمان کی بے وجہ گرفتاری پر تفتیشی اداروں کے خلاف کاروائی کرنی چاہئے تا کہ بے وجہ گرفتاریاں ختم ہوں۔ یہ معلوم ہو کہ صرف ایف آئی آر کا ندراج گرفتاری کا جواز نہیں بن سکتا۔ ابھی تو ادھر ایف آئی آر درج ہو ادھر ضمانت کے لئے وکیل کے دفتر پہنچنا ضروری ہے۔ چاہے ایف آئی آر جھوٹی ہی ہو۔

آجکل عدلیہ میں اصلا حات کا عمل جاری ہے۔ ضمانت کے قانون، ضمانت کے مقدمات، ضمانت کے دائرہ اختیار، ضمانت میں ججز کی مرضی، تفتیشی افسر کے دائرہ اختیار سب میں اصلاحات ضروری ہیں۔ اس سے عدلیہ پر بے وجہ مقدمات کا بوجھ بھی کم ہوگا۔

مزید :

کالم -