کیا پنجاب واقعی دہشت گردوں کی safe haven نہیں؟

کیا پنجاب واقعی دہشت گردوں کی safe haven نہیں؟
کیا پنجاب واقعی دہشت گردوں کی safe haven نہیں؟

  

تحریر: شاہدنذیرچودھری

پنجاب میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت غیر اعلانیہ آپریشن تو جاری ہے اور اب تک پچاس ہزار کے قریب ایسے افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے جو تحریر و تقریر کے ذریعے یا کسی اور طریقہ سے مذہبی انتہا پسندی کی تحریک پیدا کرتے رہے ہیں اور انکی اشتعال بازیوں کے باعث کوئی جنونی قانون کو اپنے ہاتھ میں لیکردہشت گردی کاارتکاب کرسکتا ہے۔لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ پنجاب کے وزیر قانون راناثنااللہ خان اس معاملے میں پنجاب کودہشت گردوں کا safe haven نہیں سمجھتے،وہ کسی بھی بڑے آپریشن کے لئے اپنا سر انکار میں ہلا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پنجاب میں سندھ،بلوچستان اور کے پی کے طرز کے آپریشن کی ضرورت نہیں ہے۔یہاں کوئی نو گو ایریاز نہیں نہ ہی پنجاب دہشت گردوں کے لئے safe haven اور نہ کوئی نیٹ ورک ہے۔ انہوں نے حالیہ پریس کانفرنس کے دوران یہ تو اعتراف کرلیا ہے کہ انٹیلی جنس بنیادوں پر دہشت گردوں کو مانیٹر کیا جاتا اور فوج سمیت دیگر ادارے بھی ضرورت کے مطابق آپریشن کرتے ہیں اور اس حوالے سے 8200 سکیورٹی اہلکار فرائض ادا کررہے ہیں جبکہ ایک ہزار کے قریب مشتبہ دہشت گرد پکڑے جاچکے ہیں۔انہوں نے گلشن اقبال سانحہ پر جے آئی ٹی بنانے کا بھی اعلان کیا ہے۔رانا صاحب کی پریس کانفرنس سے یہ بات پھر سامنے آگئی ہے کہ وہ پنجاب میں اعلانیہ کسی بڑے آپریشن کی ضرورت محسوس نہیں کرتے ۔حالانکہ ان کے موقف سے بین السطور تحفظات کی بھی سمجھ آجاتی ہے کہ وہ کسی معاملہ کی وجہ سے ہچکچا رہے ہیں لیکن انکی ہچکچاہٹ کی نوعیت ذاتی ہے تو پھر بھی مفر نہیں،اگر اس میں قومی تحفظات کا کوئی سوال ہے تو اس پر بھی ایک جے آئی ٹی بنالینی چاہئے تاکہ اس میں یہ فیصلہ کیا جاسکے کہ کیا پنجاب واقعی دہشت گردوں کے لئے safe haven نہیں اور نہ یہاں ان کا کوئی نیٹ ورک ہے۔غیر سرکاری اور بسا اوقات سرکاری حوالہ جات سے بھی یہ بات سامنے آچکی ہے کہ پنجاب میں دہشت گردی کی بنیادکافی مضبوط ہے ۔پنجاب پاکستان کی رگ جاں ہیں اور اس وقت ملکی خزانہ میں زیادہ تر شیئرنگ پنجاب سے ہورہی ہے جو دہشت گردی اورکرپشن کی فضا کے باعث کافی حد تک کم ہے۔بی بی سی کے مطابق پاکستان کے صوبہ پنجاب میں گزشتہ ایک برس میں دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے پانچ قوانین میں ترامیم کی گئیں اور انسدادِ دہشت گردی فورس کا قیام عمل میں لایا گیا۔اس دوران 48,600 مقدمات قائم کیے گئے جبکہ 53 ہزار افراد کو مختلف جرائم کی پاداش میں گرفتار کیا گیا۔اس وقت پنجاب میں رہنے والے 54,600 کے قریب افغان مہاجرین کی بائیومیڑک تصدیق جبکہ 13,782 مدارس کی جیو ٹیگنگ کی جاچکی ہے۔

کے پی کے ،کے بعد پنجاب میں افغان مہاجرین اور مدارس کی تعداد دوسرے صوبوں سے زیادہ ہے لہذا یہاں امن اور دہشت کے بارے میں پیدا ہونے والے تحفظات بے معنی نہیں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اور سکیورٹی ادارے کئی سال سے یہاں بڑے آپریشن کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ان حالات میں وزیر قانون کاطرز عمل ابہام پیدا کرتاہے لہذاسوال پیدا ہوتے ہیں کہ

٭وزیر داخلہ چودھری نثار نے گزشتہ سال انکشاف کیا تھا کہ پنجاب میں 95 دہشت گرد گروپس کارروائیاں کررہے ہیں ،کیایہ کام safe haven یا نیٹ ورک کے بغیر ہوسکتا ہے ،وہ وفاقی وزیر داخلہ کے بیان سے عیاں ہونے والی حقیقت کو کیسے جھٹلا سکتے ہیں؟

٭کیا وہ یہ کہناچاہتے ہیں کہ پنجاب میں مذہبی بنیادوں پر دہشت گردی کرانے والے عناصر کا کوئی وجود نہیں ہے؟

٭کیا انہیں یہ علم نہیں ہے کہ پنجاب کے وزیر داخلہ کرنل شجاع خانزادہ کو شہید کرنے والوں کا تعلق پنجاب کی ایک کالعدم تنظیم سے ہے؟

٭ کیا وہ اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ پنجاب میں بالخصوص جنوبی پنجاب کے علاوہ لاہور،فیصل آباد،گوجرانوالہ،سیالکوٹ میں کالعدم تنظیموں کے ارکان اورانکے سہولت کاروں کو گرفتار نہیں کیا گیا؟

٭رانا صاحب پر کالعدم تنظیموں کے سربراہوں کے ساتھ تعلقات میڈیا کی زینت بن چکے ہیں اور اسکے بعد کئی ایسے فسادیوں کو ہماری فورسز نے مقابلوں ماربھی دیا ہے ،کیا وہ ان تنظیموں کے مقاصد اور انکے نیٹ ورک کی حقیقت سے انکار کرتے ہیں؟حزب اختلاف سمیت دیگر سیاسی رہ نما ومیڈیابھی یہ سنگین الزامات لگاچکا ہے کہ پنجاب حکومت کے وزرا کے کالعدم تنظیموں کے ساتھ تعلقات ہیں،اگر وہ غلط بیانی سے کام لیتے ہیں تو حکومت الزامات عائد کرنے والوں کے منہ بند کیوں نہیں کرتی۔

پنجاب میں دہشت گرد عناصر کے خلاف رینجرزہی نہیں یہاں کے کرپٹ مافیا کے خلاف نیب بھی گرینڈ آپریشن کرنا چاہتیہے ۔لیکن نیب کو ان وزیروں ، مشیروں اور انکے بروکرز تک رسائی کی راہ میں حکومت کے بااثر لوگ دباو¿ ڈال رہے ہیں۔یہ بات سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ پنجاب میں کرپشن کی گنگا پر بیٹھے پنڈت کیا کیا کررہے ہیں۔اور درحقیقت یہ کون لوگ ہیں جنہوں نے پنجاب میں ”بروکرز“کی خدمات حاصل کررکھی ہیں۔ عدلیہ کے ریمارکس، تحقیقاتی اداروں اورمیڈیا کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ پنجاب کے صنعتکاروں،تاجروں اورسرمایہ کاروں کو جن نان سٹیٹ ایکٹرز کی جانب سے دھمکیاں ملتیں اور انہیں بلیک میل کیا جاتا ہے وہ کون ہیں اورجو عناصر سرکاری دفاتر کے ریکارڈز پر قبضے کرکے تبدیلیاں کراتے اور سرکاری و غیر سرکاری زمینوں پر قبضے کراتے ہیں انکے پیچھے کون ہیں؟لہذاجو وزیر مشیر اور بااثرلوگ کام اور تحفظ کے لئے سرمایہ کاروں سے کمیشن کے نام پر بھتے لیتے اور پنجاب میں سسٹم کی بالا دستی کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرکے عوام کو حقوق اور ملک کو ترقی کے حق سے محروم کرتے ہیں....ایسے بدقماشوں کے خلاف آپریش کی سخت ضرورت ہے اور یقنیاً میرٹ اور ترقی کا کلمہ پڑھنے والے وزیراعلٰی کی بھی یہی منشا ہونی چاہئے۔

مزید :

بلاگ -