ٹی ایم اے کوھاٹ میں مفت خوروں کی موجیں 

ٹی ایم اے کوھاٹ میں مفت خوروں کی موجیں 

  

کوھاٹ (بیورو رپورٹ) ٹی ایم اے کوھاٹ میں مفت خوروں کی موجیں‘ ٹی ایم او کوھاٹ کی آشیرباد اور اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کی بند آنکھوں کی وجہ سے درجنوں افراد لاکھوں روپے ماہانہ گھر میں بیٹھ کر تنخواہیں وصول کر رہے ہیں اس حوالے سے ٹی ایم اے کوھاٹ کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ٹی ایم او کوھاٹ کے چند رشتہ داروں سمیت بااثر سیاسی شخصیات کے منظور نظر اور بعض خواتین اہلکار گزشتہ کئی سالوں سے گھر بیٹھے نہ صرف تنخواہیں لے رہے ہیں بلکہ ان کو اگلے گریڈوں میں ترقی دی جا رہی ہے جبکہ بعض ایسے بھی اہلکار ہیں جو طویل عرصے سے گھر میں بیمار پڑے ہونے کے باوجود نہ تو میڈیکل پر گھر بھجوائے جا رہے ہیں اور نہ وہ کسی کام کے قابل ہیں مگر ان کو باقاعدگی سے تنخواہیں مل رہی ہیں جو کہ لمحہ فکریہ ہے اس حوالے سے محکمہ اینٹی کرپشن کو بھی کئی بار مطلع کیا جا چکا ہے مگر اینٹی کرپشن افسران دفتروں سے باہر نکلنا اور فزیکل تصدیق کے بجائے صرف پروانے بھجوانے اور ریکارڈ طلب کرنے تک محدود رہ چکے ہیں واضح رہے اس وقت ٹی ایم اے کوھاٹ کی درجن بھر انکوائریاں اینٹی کرپشن کے پاس سالہاسال سے پڑی ہیں مگر آج تک نہ تو کسی اہلکار کو گرفتار کیا جا سکا اور نہ کسی سے کوئی ریکوری ہو سکی جس کی وجہ کمزور عدالتی اور تفتیشی نظام ہے عوامی حلقوں نے اینٹی کرپشن افسران سے اپیل کی کہ وہ ٹی ایم اے کوھاٹ میں بھرتی مفت خوروں کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے کارروائی کریں جبکہ ٹی ایم او کوھاٹ اور ایڈمن آفیسر بھی اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کریں کیوں کہ اگر اینٹی کرپشن افسران سے وہ خود کو بچا لیں گے مگر اللہ کی عدالت میں ان کو ضرور جواب دینا پڑے گا۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -