کلام اقبال (شرح بال جبریل)غزل نمبر:5

کلام اقبال (شرح بال جبریل)غزل نمبر:5
کلام اقبال (شرح بال جبریل)غزل نمبر:5

  

کیا عشق ایک زندگی مستعار کا

کیا عشق پائدار سے ناپائدار کا

وہ عشق جس کی شمع بجھا دے اجل کی پھونک

اس میں مزا نہیں تپش و انتظار کا

مری بساط کیا ہے، تب و تاب یک نفس

شعلے سے بے محل ہے الجھنا شرار کا

کر پہلے مجھ کو زندگی جاوداں عطا

پھر ذوق و شوق دیکھ دلِ بے قرار کا

کانٹا وہ دے جس کی کھٹک لازوال ہو

یارب، وہ درد جس کی کسک لازوال ہو

بال جبریل کی یہ پانچویں غزل ہے جس کے پانچ اشعار ہیں۔ اس کا مرکزی موضوع دنیا کی ناپائیداری۔ فلسفہ بقا و فنا اور رب کائنات کی ابدی طاقت و قوت کا اظہار بھی ہے جو تمام قوتوں کااصل مالک ہے۔

ایسامحسوس ہوتا ہے کہ ان مذکورہ اشعار کا قرآنی محرک دوسری آیات کے علاوہ درج ذیل آیات میں سے ماخوذ ہے۔

فرمان الہٰی ہے:(ترجمہ)’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، دنیا کی ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے۔ اللہ کی ذات کے سوا ہر چیز فانی ہے۔ بقا صرف اللہ کی ذات کو حاصل ہے۔‘‘

دوسری جگہ فرمان باری تعالیٰ ہے:(ترجمہ)’’جتنے ذی روح ہیں سب پر فنا قائم ہو گی اور ایک رب ذوالجلال کی ذات ہی باقی رہے گی۔‘‘

ایک اور جگہ فرمایا:ترجمہ’’جو کچھ تمہاری ملکیت ہے وہ ختم ہو جائے گا اور جو کچھ اللہ کی ملکیت ہے وہی باقی رہے گا۔‘‘

ان آیات کے تناظر میں شاعر مشرق کی پرواز تخیل کی اصل کو پہچانیے۔ علامہ پہلے شعر میں فرماتے ہیں:

کیا عشق ایک زندگی مستعار کا

کیا عشق پائدار سے ناپائدار کا

زندگی مستعار۔ مستعار کا مطلب ہے ادھار مانگی ہوئی زندگی، ادھار مانگی ہوئی چیز خواہ کچھ بھی ہو اس کا مالک ادھار دینے والا ہی ہوتا ہے اور وہ اس بات کا بھی پورا حق رکھتا ہے کہ جب چاہے اپنی دی ہوئی چیز کی واپسی کا مطالبہ کر دے۔ اس کے مطالبے پر اس چیز کا لوٹانا ضروری ہوتا ہے کیونکہ اس چیز پر حق ملکیت اس کا ہوتا ہے جس نے وہ چیز کسی کو دے رکھی ہو۔

علامہ کہتے ہیں کہ دنیا میں رہتے ہوئے اس زندگی کے ہم مالک نہیں ہیں بلکہ یہ زندگی ایک امانت ہے جو ہمیں ادھار ملی ہے۔ اس کا اصل مالک اللہ تعالیٰ ہے وہ جس وقت چاہے فرشتہ اجل بھیج کر اس زندگی کی واپسی کا مطالبہ کر دے تو اس وقت انسان کا زندگی پر حق ملکیت ختم ہو جاتا ہے اور موت کا چونکہ انسان کو پتہ نہیں کہ کس وقت آ جائے لہٰذا اس دنیا میں رہتے ہوئے انسان عشق کی لذتوں سے شناسا ہو ہی نہیں سکتا۔

عشق کا مزہ تو حیا ت جاودانی ہی میں ہے۔ یہ حیات جاودانی انسان کو آخرت ہی میں حاصل ہو سکے گی۔ اس کے برعکس اللہ کی ذات مستقل ہے۔ ہمیشہ رہنے والی ہے۔ وہ حیی ہے قیوم ہے ۔ لا یموت ہے۔ آیت الکرسی میں ارشاد ربانی ہے:(ترجمہ)

’’اللہ وہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود ہے ہی نہیں، وہ زندہ اورقائم بالذات ہے۔ اس کی زندگی مستقل ہے۔ اتنی مستقل کہ اسے نیند تو درکنار کبھی اونگھ بھی نہیں آتی۔‘‘

جو ذات اتنی مستقل، اتنی پائیدار ہو بھلا اس کے ساتھ ایک انتہائی ناپائیدار زندگی کی کیفیت رکھنے والا انسان کیا محبت و عشق کر سکتا ہے۔ انسان کو دنیا میں صفت دوام حاصل نہیں لہٰذا انسان دنیا میں عشق حقیقی کا شناسا ہو ہی نہیں سکتا۔دنیا میں رہتے ہوئے ہر قسم کی محبت بھی فانی، عشق بھی فانی۔

انسان کو عشق حقیقی کی لذت اس وقت حاصل ہو سکتی ہے جب انسان کو دوامی زندگی حاصل ہو جائے۔ یہ صفت قیامت کے دن جنت میں داخل جانے کے بعد ہی حاصل ہو گی۔

علامہ ایک اور جگہ فرماتے ہیں:

عشق بتاں سے ہاتھ اٹھا اپنی خودی میں ڈوب جا

نقش و نگار دیر میں خون جگر نہ کر تلف

اقبال شارح قرآن ہیں اور اپنے اشعار و افکار میں قرآن کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اس بات کا برملا اعلان بھی فرماتے ہیں جو ان کے مختلف اشعار میں واضح ہے۔اسی حوالے سے فانی انسان کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ جب ہم فانی دنیا میں قائم بالذات رب کے عشق کی لذت سے آشنا نہیں ہو سکتے تو دنیا کی فانی چیزوں کے ساتھ محبت و عشق میں گرفتا ر ہو کر محبت کے مزے کیسے لوٹ سکتے ہیں۔ دنیا کا عشق بھی فانی۔ عاشق بھی فانی اور معشوق بھی فانی ہے۔

خواہ وہ مادی ہو خواہ مادی جسم ہی رکھتا ہو سب پر فنا ہے۔ لہٰذا فانی اجسام سے عشق سوائے دھوکے کے کچھ نہیں۔مال و دولت بھی فانی۔ عہدہ و منصب بھی فانی اور عشق بتاں بھی فانی توان فانی جذبوں کے عشق میں الجھ کر ہم اپنی زندگیوں کو برباد کیوں کریں۔اگلے شعر میں اس کیفیت کی مزید وضاحت ہے۔

وہ عشق جس کی شمع بجھا دے اجل کی پھونک

اس میں مزا نہیں تپش و انتظار کا

بھلا وہ عشق کاہے کا عشق ہے جس کی لو موت کی صرف ایک پھونک سے بجھ کر رہ جائے کیونکہ عشق تو ذاتی تپش اور انتظار کے مجموعے سے رنگ پکڑتا ہے۔ اجل کی پھونک تو آناً فاناً تپش اور انتظار کو ختم کر کے رکھ دیتی ہے۔ لہٰذا عشق کی گرمی دنیا میں رہتے ہوئے پیدا ہی نہیں ہو سکتی۔

الفت کا تب مزہ ہے کہ ہوں وہ بھی بے قرار

دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی

یہ کیفیت دنیا کی زندگی میں تو ممکن ہی نہیں ہے۔

تیسرے شعر میں علامہ سوالیہ انداز میں شکوہ کے طور پر فرماتے ہیں:

مری بساط کیا ہے، تب و تاب یک نفس

شعلے سے بے محل ہے الجھنا شرار کا

اس دنیا میں رہتے ہوئے انسان کی بساط ہی کیا ہے۔ صرف ایک سانس یا چند سانسیں یعنی زندگی ماہ و سال کی طوالت کے لحاظ سے کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہو۔ اس کی نسبت اُخروی زندگی کے ساتھ بس ایک دو سانس کی سی ہے۔دوسرے مصرعہ میں اسی نسبت تناسب کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: شعلہ آگ کے بڑے بگولے کو کہتے ہیں۔ شعلے کے مقابلے میں بھلا چنگاری کی کیا حقیقت ہے، کچھ بھی نہیں۔

اگر ایک چنگاری شعلہ کے مقابل کھڑی ہو تو بھلا کیا کر سکتی ہے۔ یہ تو ایسے ہی ہے جیسے چیونٹی پہاڑ سے ٹکرانے کی کوشش کرے تو اپنا ہی نقصان کرے گی کہ پہاڑ کا تو کچھ بھی نہ بگڑے گا۔اسی شعر کے تناظر میں اگلے شعروں میں علامہ ایک محبت بھرا مطالبہ اور اپنی دلی خواہش کا اظہار کرتے ہیں:

کر پہلے مجھ کو زندگی جاوداں عطا

پھر ذوق و شوق دیکھ دلِ بے قرار کا

اے اللہ! اگر تو مرا ذوق و شوق اور میرے دل میں چھپی ہوئی شوق لقا کا اندازہ کرنا چاہتا ہے تو مجھے بھی جاودانہ زندگی عطا کر،پھر تجھے پتہ چلے گا کہ میرا دل کس قدر تمنائے لقا رکھتا ہے۔ اس کے اندر کتنی تمنا، کتناشوق و محبت اور کتنی تڑپ موجود ہے اور میرا دل کس قدر تجھے ملنے کی تمنا اور آرزو رکھتا ہے۔آخری شعر میں دعائیہ انداز ہے اور اللہ سے ایسی تڑپ ایسا درد اور سوز حاصل کرنے کی آرزو کی گئی ہے جو مستقل طور پر مجھے شوق لقا کی چبھن پیدا کرتا رہے۔ فرمایا:

کانٹا وہ دے جس کی کھٹک لازوال ہو

یارب، وہ درد جس کی کسک لازوال ہو

اے اللہ! میرے دل میں ایسا کانٹا پیدا کر دے کہ جس کی چبھن میرے دل کو مسلسل بے قرار رکھے۔ تڑپاتی رہے اور میں ہمیشہ تیری یاد میں زندگی بسر کرتا رہوں۔ اسی خواہش اور اسی تمنا کا اظہار علامہ صرف اپنے لیے نہیں بلکہ ہر مسلمان کے لیے طلب کرتے ہیں۔ فرمایا:

یا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے

جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دے

مزید :

کالم -