دوسرے سیاروں کی مخلوق

دوسرے سیاروں کی مخلوق
 دوسرے سیاروں کی مخلوق

  

آج مختلف علاقوں میں رہنے بسنے والے مختلف رنگ و نسل اور قبائل سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی نسلوں اور تاریخ کے متعلق جو الجھاؤ اور جس طرح کا ابہام موجود ہ ہے، ویساابہام دوسرے سیاروں کی مخلوق کے متعلق اس لئے نہیں ہے کہ یہ حالیہ اور ہمارے سامنے کی حقیقت ہے۔بعض سائنسدان اس حقیقت کو تسلیم کر رہے ہیں۔ہزاروں انسان دوسرے سیاروں کی مخلوق سے اپنے تعلقات یا کم ا ز کم اسے واضح طور پر دیکھنے کی گواہی دینے کے لئے آج بھی اس دنیا میں موجود ہیں۔اب سائنسدان ہماری دنیا میں صرف ا یک آدھ سیارے سے ایک آدھ بار ہی کسی مخلوق کے آنے کی بات نہیں کرتے ان کا خیال ہے کہ مختلف سیاروں سے مسلسل وہاں بسنے والی مخلوق زمین پر آتی جاتی رہی ہے۔ایک خیال یہ بھی ہے کہ دنیا میں اس وقت موجود بہت سے لوگ یا ان کے والدین یا ان کے آباؤ اجدادکسی نہ کسی وقت کسی دوسرے سیارے ہی سے دنیا میں آئے ہیں۔یو ٹیوب پر امریکہ اور یورپ کے بہت سے سنجیدہ اور جہاندیدہ لوگوں کے انٹرویوزموجود ہیں جنہوں نے نہایت ذمہ داری سے یہ کہا ہے کہ وہ ایک سے زائد بار دوسرے سیاروں کی مخلوق سے ملاقات کرچکے ہیں۔بعض لوگ مریخ کے علاوہ مشتری اور زہرہ جیسے ایک سے زائد سیاروں سے آنے والی مخلوق سے اپنی ملاقاتوں کا ذکر پورے ایقان و یقین کے ساتھ کرتے ہیں۔تاہم ہمارے نظام شمسی کے اندر موجود سیاروں میں زندگی موجود ہونے کے متعلق زیادہ تر سائنسدانوں کا خیال یہی ہے کہ مریخ کے علاوہ سیارہ مشتری کے (چا ر میں سے) سب سے چھوٹے چاند یوروپا میں زندگی کے امکانات ہوسکتے ہیں ۔

یونیورسٹی آف ابرڈین کے تحقیقی مجلہ سیارے اور خلائی سائنسPlanetary and Space Science میں شائع ہونے والے ایک تحقیقی مضمون میں دعوی کیا گیا ہے کہ وہ سیارے جو ہمیں محض پتھریلے ویرانے نظر آتے ہیں ان میں بھی سطح زمین کے نیچے زندگی کے تمام لوازمات موجود ہونے کے واضح امکانات ہیں۔یونیورسٹی آف سینٹ اینڈریوکے سکالرز کی ایک ٹیم نے اس تصور کو باطل قرار دیا ہے کہ کائنات میں صرف چند مخصوص قابل رہائش ز ون ہی موجود ہیں۔عمومی سوجھ بوجھ سے یہ جانا جاسکتا ہے کہ جو سیارہ بھی اپنے سورج سے نہ بہت زیادہ دور ہوگا اور نہ بہت زیادہ قریب اس پر زندگی کے بہت زیادہ امکانات موجود ہیں۔ایسے سیارہ پر مائع پانی کی موجودگی بھی ممکن ہے اور زندگی بھی۔ماہرین کی اس ٹیم نے پرانے تصورات کو باطل قرار دیتے ہوئے ایک کمپیوٹر ماڈل پیش کیا ہے جس کے ذریعے کسی بھی سیارے کی سطح سے نیچے کا درجہ حرارت معلوم کیا جاسکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ہماری زمین پر زیر سطح زیادہ سے زیادہ گہرائی میں 5.3 کلومیٹر تک نیچے زندگی برقرار رہ سکتی ہے249 لیکن جن مقامات پر ابھی تک کھدائی نہیں ہوئی ان میں ایسی جگہیں بھی ہو سکتی ہیں جن میں دس کلو میٹر کی گہرائی تک بھی زندگی برقرار رہ سکتی ہے۔اس طرح ان ماہرین نے کہا ہے کہ اپنے کمپیوٹر ماڈل کو استعمال کرتے ہوئے انہوں نے دریافت کیا ہے کہ ہمارے جیسے( کسی بھی ستارے کے گرد گھومنے والے) کسی بھی سیارے پر زندگی کے امکانات کے سلسلے میں اگر ہم اس سیارے کی سطح کے نیچے کی پانچ کلو میٹر تک کی گہرائی کو بھی شامل کرلیں تو زندگی کے قابل پہلے سے چلے آنے والے ماہرین کے تصوراتی زون میں تین گنا اضافہ ہوجائے گا۔اس ماڈل سے واضح ہوتا ہے کہ اگر ہماری زمین سورج سے اپنے موجود فاصلے سے تین گنا زیادہ دوری پر بھی واقع ہو تو پھر بھی زمینی سطح سے پانچ کلو میٹر نیچے ہماری زندگی قائم رہ سکتی ہے۔ماہرین نے کہا ہے کہ اگر ہم سطح زمین سے مزید نیچے پانچ کے بجائے دس کلو میٹر تک جائیں تو اس صورت میں زمین جیسے کسی سیارے پر زندگی کے امکانات چودہ گنا زیادہ ہوجاتے ہیں۔اب تک زندگی کے قابل زون کو مریخ اور اس کے چاندوں تک محدود سمجھا جارہا تھا لیکن کمپیوٹر ماڈل کے نئے تصور کے مطابق اس زون کی وسعت زہرہ اور مشتری تک بڑھ جاتی ہے ۔ان ماہرین کا کہنا ہے کہ جن سیاروں کو ہم تاریک اور زندگی کے ناقابل قرار دے چکے ہیں دراصل ان پر بھی زندگی کے واضح امکانات موجود ہیں ۔ان میں بعض سیارے ہماری زمین سے تین گنا زیادہ بڑے ہیں جن پر سطح زمین سے پانچ کلو میٹر نیچے مائع پانی موجود ہے۔

امریکی خلائی راکٹ اپالو ۔16 جو انسانوں کو خلاء میں لے جانے والا دسواں راکٹ او ر 16 ؍ اپریل 1972ء کو خلا بازوں کے ساتھ چاند کے لئے روانہ ہونے والا پانچواں شٹل راکٹ تھا۔جس کی زمین پر واپسی 24؍ اپریل 1972ء کو ہوئی ۔حال ہی میں امریکی خلائی مرکز ناسا نے اس راکٹ کے خلاء بازوں کے چاند پر اترنے کی ویڈیو جاری کی ہے۔جس کی خبریں آٹھ اگست 2016 ء کے اخبارات میں شائع ہوئی ہیں۔یو ٹیوب پر اس لینڈنگ کی ویڈیو جاری کرنے والوں نے اس موقع پر چاند پر ایک اڑن طشتری اور دوسرے سیاروں کی مخلوق کی موجودگی کی واضح تصویر بھی دکھائی ہے اور کہا ہے کہ ناسا کی طرف سے سرکاری طور پر یو ایف او کے نام سے ویڈیو کے اس حصے کو خفیہ قرار دیا جا سکتا ہے جس میں یہ اڑن طشتری اور دوسرے سیاروں کی مخلوق واضح طور پر موجود ہے ۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ناسا کے علاوہ عالمی سائنسدانوں سے دوسرے تمام لوگ بھی اس سلسلے میں اندھیرے میں ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ ناسا اور دوسرے حکام ان چیزوں اور پراسرار کائنات کے متعلق اس سے کہیں زیادہ جانتے ہیں جتنا کچھ کہ وہ ہمیں بتانے پر رضامند ہیں۔یو ٹیوب پر یہ حصے دکھانے والوں کا دعوی ہے کہ ان کی یہ ویڈیو کسی آفیشل ویڈیو کا حصہ نہیں بلکہ اٹلی کے البرٹو میئر نامی نوجوان خلاء نورد نے یہ حیرت انگیز ویڈیو تیار کرنے کا کارنامہ سرانجام دیا ہے اور دنیا کو دکھانے کے لئے یہ ویڈیو انہیں فراہم کی ہے۔دراصل یہ تصویر زمین پر نصب طاقتور دوربین سے لی گئی ہے جو خوش قسمتی سے امریکی چاند گاڑی کے چاند پر اترنے کے وقت اسی مقام پر فوکس تھی ۔یہ ویڈیو جاری کرنے والوں کا دعوی ہے کہ انہوں نے اس انکشاف

کے ذریعے اس صدی کی اہم ترین خبر دنیا تک پہنچا دی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ اس کرہ ارض کے عام لوگ ایک جبری طور پر طاری کی گئی بے خبری کے غلام بن چکے ہیں ۔وہ لوگ جو کہ دراصل یہاں کرہ ارض پر اس سارے کام کے ذمہ دار ہیں وہ عام لوگوں کو مکمل حقیقت سے آگاہ ہونے کا اہل نہیں سمجھتے ۔لیکن اس ویڈیو جیسے ثبوت اور بہت سے دوسرے شواہد سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایسے بکھرے ہوئے ریکارڈ سے حکومتیں جو نتائج اخذ کررہی ہیں انہیں وہ کئی عشروں سے پردہ راز میں رکھے ہوئے ہیں۔لہذا اب ہمیں خود یہ معلوم کرنا ہوگا کہ حقیقت کیا ہے ۔؟ ہمیں اپنے آپ کو اس سلسلے میں آگا ہ و با خبر کرنے کے لئے خود ہی کام کرنا ہوگا۔انسانی تاریخ میں اہم ترین حقائق پر پردہ ڈالنے کی یہ سب سے بڑی کوشش ہے۔اب اس دنیا میں جھوٹ سے بھی زیادہ ناقابل یقین چیزً سچً ہے۔

قارئین! بعض اوقات حقیقت بھی افسانے سے بڑھ کر دلچسپ اور حیرت انگیز ہوتی ہے۔ہم جانتے ہیں کہ آج کے دور میں حکومتیں ملکی و قو می اور بین الاقوامی تعلقات اور حاکم اپنے ذخائر زر کے سلسلے میں جتنے حقائق عوام کے سامنے لاتے ہیں اس سے کہیں زیادہ خفیہ رکھنے کے حق میں ہیں۔حکومتوں کا سب کچھ اس طرح عوام کے سامنے آجائے کہ انہیں حقائق پر یقین بھی ہو جائے تو شاید دنیا بھر کے لوگ اپنے گریبان چاک کر کے چیختے چلاتے گھروں سے باہر آجائیں ۔

ایک امریکی نوجوان کے ہاتھ روس کے اعلی فوجی و سول حکام، سینئر سفارتکاروں اور خفیہ اداروں کے افسروں کے لئے شائع کی گئی کتاب Race of Aliens(خلائی مخلوق کی نسلیں) لگ گئی جس سے خلاء کے دوسرے سیاروں میں بسنے والوں کے متعلق حیرت انگیز انکشافات ہوئے ہیں۔اس کتاب اور اس میں کئے گئے انکشافات کے متعلق آئندہ کالم میں ذکر کیا جائے گا۔

مزید :

کالم -