پاکستان کو چین کی مدد حاصل ، اب امریکہ اسلام آباد کا محتاج ہے : مائیکل موریل

پاکستان کو چین کی مدد حاصل ، اب امریکہ اسلام آباد کا محتاج ہے : مائیکل موریل

نیو یارک(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) امریکی سی آئی اے کے سابق سربراہ مائیکل موریل نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی امداد بند یا کم کر کے اس پر دباو نہیں ڈالا جا سکتا کیونکہ امریکہ کا پاکستان پر ناجائز دباو کا حربہ کارگر نہیں ہو گا البتہ اس دباو سے امریکہ کو نقصان پہنچ سکتا ہے پاکستان کو نہیں کیونکہ پاکستان امریکی امداد سے آزاد ہو چکا ہے۔ چین جیسے دوست کی امداد اسے حاصل ہے اور امریکہ پاکستان کی فضا ئی اور زمینی راستوں کامحتاج ہے جس کے تعاون کے بغیر یہ جنگ امریکہ جیت نہیں سکتا۔سی آئی اے کے سابق قائم مقام سربراہ مائیکل موریل نے ایک حالیہ انٹرویو میں صدر ٹرمپ کی تقریر پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا پاکستان کو ہم کس قدر پالیسی میں تبدیلی پر آمادہ کر سکتے ہیں کہ وہ طالبان کی حمایت سے کنارہ کش ہو جائے تاہم ایران اور روس کی امداد سے طالبان میں ایک نئی قوت پیدا ہو چکی ہے ان میں نظریاتی عنصر ایسا ہے جسے شکست دینا ناممکن ہے وہ ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ صدر ٹرمپ کی پالیسی واضح نہ ہی انہوں نے کوئی پلان دیا ہے کہ کتنی فوج بھیجی جائیگی اور اس کا رول کیا ہو گا جبکہ انہوں نے افغان حکومت کے کردار کی بھی وضاحت نہیں کی۔انہوں نے افغانستان سے امریکی فوج کے مکمل انخلاء کی مخالفت کرتے ہوئے کہا طالبان کیلئے اس سے آسانیاں پیدا ہوں گی تاہم انہوں نے یہ بھی کہا اگر امریکی افوا ج کی زمین پر موجودگی میں اضافہ ہوتا ہے تو طالبان کی کارروائیوں سے امریکی فوجیوں کے تابوت پہنچنے پر امریکہ میں سیاسی عدم استحکام پید ا ہو سکتا ہے۔ طالبان کے اثر و رسوخ کو روکنے کیلئے افغان حکومت کی کرپشن کے خاتمے اور افغان فوج کی کارکردگی بہتر بنانا ہو گی ۔ ا مر یکہ اگر ہارے نہ بھی تو جنگ جیت نہیں سکتا۔ طالبان کی جنگ نظریاتی ہے۔ ایران اورروس کی پالیسیوں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ پاکستان پر دباوکارگر نہیں ہو گا وہ امریکی امداد سے آزاد ہو چکا ہے اور ماضی میں بھی امریکہ امداد بند کر کے دیکھ چکا ہے لہٰذا طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے اس کا سیاسی حل تلاش کرنا ہو گا۔انہوں نے افغانستان میں نیٹو اور امریکی افواج کے کمانڈرجنرل نکلسن کے انٹرویو کا بھی حوالہ دیا جس میں انہوں نے بھی افغان مسئلے کے سیاسی حل پر زور دیا ہے۔ کمانڈر کا بھی خیال ہے کہ مذاکرات کے ذریعے ہی مسئلہ حل ہو گا اور طالبا ن کو بھی یہ احساس ہے کہ وہ جنگ جیت نہیں سکتے۔

مائیکل موریل

مزید : علاقائی