جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر74

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر74
جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر74

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

میں نے گاڑی سے نیچے اتر کر اسے لاک کیا اور ادھر ادھر دیکھنے لگا۔

’’اندر آجاؤ پریتم!‘‘ رادھا دروازہ کھولے کھڑی تھی۔ میں اس کے پیچھے اندر داخل ہوگیا۔ ہر شے اسی طرح پڑی تھی۔ سامنے وہی کچا کمرہ تھا جہاں مجھے کالی داس نے بے پناہ اذیت میں مبتلا کر دیا تھا۔ میں خاموش سے رادھا کے پیچھے چلتا کمرے میں داخل ہوگیا۔ دن کے اجالے کے باوجود کمرے میں تاریکی تھی۔ دھوپ سے آنے کی وجہ سے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ میں کچھ دیر دروازے میں کھڑا آنکھوں کو اندھیرے سے ہم آہنگ کرتا رہا۔ رادھا نے اپنا خوبصورت ہاتھ ہلایا اس کے ساتھ ہی کمرے میں روشنی پھیل گئی جو چاروں طرف سے آتی محسوس ہو رہی تھی۔ کمرے کا ماحول آج بھی ویسا ہی تھا۔ رادھا بڑی تمکنت سے چلتی کمرے میں بچھی واحد چارپائی پر بیٹھ گئی۔

’’یہاں آجاؤ میرے پاس‘‘ اس نے کہا۔ تنہائی میں اس کا قرب مجھے پاگل بنا رہا تھا۔ میں نے بمشکل اس کے سراپے سے نظریں ہٹا کر کمرے کا جائزہ لیا۔

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر73  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’پریم۔۔۔‘‘ اس نے بانہیں وا کر دیں۔

’’آؤ میری بانہوں میں سما جاؤ‘‘ آنکھوں میں پیار کی جوت لیے وہ میری منتظر تھی۔

’’رادھا! میں تم سے کہہ چکا ہوں ہمارے مذہب میں غیر محرم مرد عورت کا تعلق حرام ہے۔ اگر تم س مقصد کے لیے مجھے لائی ہو تو میں واپس جا رہا ہوں۔‘‘ میں نے بمشکل دل پر جبر کرکے کہا۔ میرے انکار پر اس کی آنکھیں سرخ ہوگئیں۔ کچھ دیر وہ غصے کی کیفیت میں مجھے دیکھتی رہی پھر ٹھنڈی سانس اس کے منہ سے خارج ہوگئی۔

’’یدی !کوئی دوجا رادھا کی آگیا کا پالن کرنے سے منع کرتا تو رادھا کا شراپ اسے نشٹ کر دیتا۔ پرنتو رادھا اپنے پریمی کو کشٹ نہیں دے سکتی‘‘ اس کا لہجہ شکست خوردہ ہوگیا۔ میرے انکار نے اسے دکھی کر دیا تھا۔ میں جانتا تھا وہ ہر بات برداشت کر سکتی ہے میری بے اعتنائی نہیں لیکن توبہ کرنے کے بعد ان خرافات سے بچنا چاہتا تھا۔

ہم دونوں میں اپنی سوچوں میں گم تھے کہ باہر سے کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ آنے والا ایک نہایت خوبرو نوجوان تھا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی بہت وجاہت عطا فرمائی ہے لیکن وہ جوان بھی کچھ کم نہ تھا۔ اسنے آتے ہی پہلے رادھا کے سامنے ہاتھ جوڑ کر ماتھے سے لگائے پھر میری طرف مڑا۔

’’پرنام مہاراج‘‘ اس نے گھمبیر آواز میں کہا۔ مجھے اور توکچھ نہ سوجھا بس سر ہلا کر اسکے سلام کا جواب دے دیا۔

’’یہ پرتاب ہے جیسے میں تمرے بن بیاکل رہتی ہوں ایسے ہی پرتاب بھی میرے نام کی مالا جپتا رہتا ہے‘‘ رادھا نے مسکرا کر کہا۔

میں نے حیرت سے دیکھا نوجوان کی بڑی بڑی سحر انگیز آنکھوں میں اداسی تھی۔ رادھا کی بات سن کر اس کا سرجھک گیا۔ مجھے حیرت ہوئی رادھا نے پہلے اس کا ذکر کبھی نہ کیا تھا۔ وہ رادھا کے سامنے اس طرح ہاتھ باندھے ادب سے کھڑا تھا جیسے غلام ملکہ کے سامنے۔ بسنتی بھی رادھا کی تابعدار تھی لیکن اس نے کالی داس کے ساتھ مل کر اسے دھوکہ دیا تھا۔ اگر وہ میری حوصلہ افزائی نہ کرتی تو شاید میں اتنا آگے نہ بڑھتا۔ ہر چند کہ قصوروار میں بھی تھا لیکن بسنتی کی نیت میں شروع دن سے فتور تھا۔ بقول اس کے وہ مجھے دیکھتے ہی بے اختیار ہوگئی تھی۔ رادھا غور سے میری جانب دیکھ رہی تھی۔

’’کس و چار میں گم ہو پریمی!‘‘ اس نے بڑے پیار سے پوچھا ۔ نوجوان کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ ماتھے پر پڑنے والے بل اس کی ناگواری کو ظاہر کر رہے تھے۔ جاپ پر جانے سے پہلے رادھا میرے دل کا حال جان لیتی تھی لیکن اب شاید وہ اس پر قادر نہ رہی تھی۔ اس لئے وہ مجھ سے پوچھ رہی تھی کہ میں کیا سوچ رہا ہوںَ اس بات کو جانچنے کے لیے میں نے یونہی کہا۔

’’میں کالی داس کے بارے میں سوچ رہا تھا۔‘‘

’’اس دھشٹ کے نشٹ ہونے میں بہت تھوڑا سمے رہ گیا ہے جس یدھ کی شروعات اس پاپی نے کی تھی میں اس کا انت کردوں گی۔‘‘ اس کا حسین چہرہ یک بیک قہر ناک ہوگیا۔ آنکھوں میں آگ کے الاؤ روشن ہوگئے۔ اس نے جوان کی طرف دیکھا

’’پرتاب ! جانتا ہے میں نے اس سمے تجھے کس کارن بلایا ہے؟‘‘

’’نہیں دیوی جی! پرنتو تم جو آگیا بھی ہو گی پرتاب اپنا جیون دان کرکے بھی اس کا پالن کرے گا۔‘‘ اس کے لہجے میں رادھا کے لیے پیار کا سمندر موجزن تھا۔

’’میں اسی پل بسنتی کو یہاں دیکھنا چاہتی ہوں‘‘ اس نے حکم کے منتظر پرتاب سے کہا۔

’’جو آگیا دیوی جی‘‘ اس نے سر جھکایا اور غائب ہوگیا۔

’’یہ سب لوگ تمہیں دیوی کیوں کہتے ہیں؟‘‘ میں نے رادھا کی طرف دیکھا۔

’’میں ان کی دیوی جو ہوں‘‘ اس نے سادہ لہجے میں کہا۔

’’میرے کہنے کا مطلب ہے کیا وہ تمہارے غلام ہیں؟‘‘

’’سنسار کے سارے منش رادھا کے داس ہیں اور رادھا تمری داسی‘‘ ایک بار پھر اس کی آنکھوں میں نشہ چھا گیا۔ خود میرے دل کی حالت بھی عجیب ہو رہی تھی۔ ساتھ بیتے لمحات کے تصور نے خون کی گردش بڑھا دی۔ اس کی سحر کار آنکھوں سے بمشکل اپنا دھیان ہٹا کر میں نے دوسری طرف دیکھا۔ رادھا کے ہونٹوں پر مسکراہٹ گہری ہوگئی۔

’’ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’میں تو تمہیں ایسے ہی دیکھا کرتی ہوں کوئی نئی بات ہے؟‘‘ اس کے ساتھ ہی وہ اٹھ کر میرے قریب آگئی۔ دل کی دھڑکن اسی کا نام جپنے لگی۔ ایمان ڈونوا ڈول ہونے لگا۔ بے اختیار میرا دل چاہا اسے اپنی بانہوں میں سمیٹ لوں۔ وہ مجھ سے کچھ فاصلے پر آکر بانہیں پھیلا کر کھڑی ہوگئی۔ قریب تھا کہ میں اس کی جانب کھچتا چلا جاتا کہ پرتاب ظاہر ہوگیا۔ اس کے چہرے پر ندامت تھی۔

ضرور پڑھیں: خدا کا جواب

’’بسنتی کہاں ہے؟‘‘ رادھا نے کڑی نظروں سے پرتاب کو گھورا۔

’’دیوی اس کی رکھشا کالی داس کر رہا ہے‘‘ پرتاب نے جھجکھتے ہوئے بتایا۔

’’کیا میں یہ سمجھوں تیرے پریم میں کھوٹ ہے؟‘‘ رادھا کی سرد آواز کمرے میں گونجی۔

’’ی۔۔۔یہ۔۔۔بات نہیں دیوی!‘‘ پرتاب بری طرح گڑ بڑا گیا۔

’’میں نے اسے لانے کی اوشکتا کی تو کالی داس کے بیر میرے آڑے آگئے ۔مجھے تھوڑا سمے دو میں اسے اوش یہاں کھینچ لاؤں گا‘‘ اس نے بڑے یقین سے کہا۔

’’ٹھیک ہے جاؤ۔۔۔پرنتو دھیان رہے یہ تیری پریکشا(آزمائش) ہے یدی تو اس میں سپھل نہ ہوا تو من میں میرے پریم کا دھیان بھی نہ لانا‘‘ اس کی بے اعتنائی سے پرتاب کا چہرہ دھلے ہوئے لٹھے کی طرح سفید ہوگیا۔

’’دیوی! ایسا انیائے نہ کر ، نہیں تو تیرا یہ داس جیوت نہ رہے گا‘‘ پرتاب تڑپ کر بولا۔

’’میں کچھ نہیں جانتی مجھے کیول بسنتی چاہئے ابھی‘‘ رادھا نے بڑی بے مروتی سے کہا۔

’’جو آگیا دیوی‘‘ اس نے دونوں ہاتھ جوڑے اور دوبارہ غائب ہوگیا۔ اس کے آنے سے ایک فائدہ ہوا تھا کہ رادھا پر جو محبت کا بھوت سوار ہوا تھا وہ اتر گیا۔ اس کا موڈ بگڑ چکا تھا۔ دوبارہ چارپائی پر بیٹھ کر وہ سوچوں میں گم ہوگئی۔

تقریباً دس منٹ ہم دونوں اسی حالت میں بیٹھے رہے۔ رادھا نے دوبارہ میری طرف بڑھنے کی کوشش نہ کی تھی۔ خود سے کیا عہد بچ جانے پر میں نے شکر ادا کیا۔ رادھا پرتاب کی ناکامی پر بری طرح جھلائی ہوئی تھی۔ اچانک کمرے کا دروازہ ایک دھماکے سے کھلا اور پرتاب بسنتی کو کاندھے پرلادے لے آیا۔ اس کے چہرے اور جسم پر لگے زخموں کے نشانات سے لگ رہا تھا وہ کسی درندے سے نبرد آزما رہا ہے۔ کاندھے پر لدی بے ہوش بسنتی کو اس نے کسی بوری کی طرح کچی زمین پر پھینک دیا۔

وہ فتنہ گر ایک بار پھر میرے سامنے تھی۔ ساتھ بتائے پل میری آنکھوں میں لہرا گئے۔ آج تک میرا جتنی لڑکیوں سے تعلق رہا تھا۔ رادھا سمیت بسنتی ان سب پر سبقت لے گئی تھی۔ رادھا کا چہرہ چمکنے لگا۔ اس نے پرتاب کے زخموں پر سرسری نظر ڈالی۔

’’ٹھیک ہے پرتاب! تم جا کر سرسوتی دیوی کا وہ جاپ کر لو جو میں نے تمہیں بتایا تھا اور ہاں’’پرولنگی‘‘ بوٹی کا جل پی لینا‘‘ اس نے کسی بوٹی کا نام لیا۔ پرتاب کی آنکھوں کی اداسی بڑھ گئی ۔وہ شاید رادھا کی نظر التفات کی توقع کر رہا تھا۔ مجھے اس پر ترس بھی آیا لیکن اس وقت تو خود میرا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔ اگر بسنتی رادھا کو سب کچھ بتا دیتی تو شاید وہ مجھے بھی سزا دیئے بغیر نہ رہتی۔ ہر چند کہ اسے مجھ سے عشق تھا پر کیا پتا اس جن زادی کا موڈ کب بدل جاتا؟ پرتاب بوجھل قدموں سے باہر نکل گیا۔(جاری ہے)

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر75 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : رادھا