’نئے سال حکومت مخالف تحریکیں چلیں گی ، حکمرانوں کیلئے مشکل وقت ہوگا لیکن ۔ ۔ ۔ ‘ ستارہ شناسوں نے اپنی پیشن گوئی کردی

’نئے سال حکومت مخالف تحریکیں چلیں گی ، حکمرانوں کیلئے مشکل وقت ہوگا لیکن ۔ ۔ ...
’نئے سال حکومت مخالف تحریکیں چلیں گی ، حکمرانوں کیلئے مشکل وقت ہوگا لیکن ۔ ۔ ۔ ‘ ستارہ شناسوں نے اپنی پیشن گوئی کردی

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) تحریک انصاف کی حکو مت کو ڈیڑھ سال کا عرصہ ہونے کو ہے ، اس ڈیڑھ سال میں حکومت کو ایک مارچ کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ بھی بخوبی اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا، اب ستارہ شناسوں نے پیشن گوئی کی ہے کہ نئے سال میں حکومت مخالف تحریکیں چلیں گی ، حکمرانوں کیلئے مشکل وقت ہوگا لیکن ایسا نہیں ہوگا کہ حکومت چلی جائے ۔

ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے آسٹرالوجر علی محمد خان نے کہا ہے کہ 2020میں اپوزیشن کی مختلف تحریکیں چلیں گی، 21جون کو سولر ایکلپس کے بعد جولائی میں ایکلپس لگ رہا ہے، کنجنشن ہوگا ، یہ حکومت کے لئے ٹف ٹائم ہوگا، بالخصوص چھ جون کو اکلپس لگ رہا ہے، وہ بھی وزیراعظم عمران خان صاحب کے لیے اچھا نہیں لیکن حکومت چلی جائے ایسا بھی نہیں ہوگا۔

ٹیرو کارڈ ریڈر عالیہ نذیر کاکہناتھاکہ گورنمنٹ اور اپوزیشن کے لئے برابر کا سال ہے، ٹگ آف وار ہے اوراس میں بالآخر گورنمنٹ سروائیو کر جائے گی،اچھا سال عوام کے لیے ہے۔ عوام کے لئے بہت ساری چیزیں ایسی آئیں گی جو انہوں نے پہلے نہیں دیکھیں، جن کے بارے میں ہم نے سوچا بھی نہیں ۔2020ءاچھا سال ثابت ہونے والا ہے، پہلے عوام کے لئے، پھر عمران کے لئے ، پھر اپوزیشن کے لیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرا خیال ہے کہ اپوزیشن والے تھک جائیں گے ، مزید اپوز نہیں کرسکیں گے۔

آسٹرالوجرسامعہ خان کاکہناتھاکہ نہیں نہیں، ، عوام ابھی کمر کس کے رکھیں، مجھے ابھی کوئی ریلیف کی خبر نظر نہیں آتی، مجھے ابھی کوئی اکانومی کا نعرہ جو لگ رہا ہے، کوئی ابھی ای سی جی کی طرح فلیکچویشن ہے حالات کنٹرول میں نظر نہیں آتے۔ مجھے اکانومی کرائسس، میں نے 18 والے آثار دکھائی دیتے ہیں، 2018ءمیں ہی کہا تھاکہ 19 والا سال بدترین ہمارا اکانومی کرائسس کا ہوگا لیکن اللہ کرے کہ ہم کھڑے رہنے کے قابل ہوجائیں، یہ ہماری پانچ سے چھ مہینے کی جنگ اور ہے، میرا تو اپنے عوام کے لئے ہے کہ بس کمر کس کے رکھیں، یہ ضرور ہے کہ ملک کو یہ سال بھی بدلے گا لیکن اتنی جلدی نہیں بدلے گا۔

کیا 2020ءمیں نواز شریف صاحب دوبارہ جیل کی ہوا کھائیں گے، یا آزاد پنچھی نظر آتے ہیں؟ کے جواب میں آسٹرالوجر سامعہ خان نے کہا ہے کہ 24جنوری کے بعد نواز شریف کا ستارہ مزید سختی سے باہرآرہاہے، مجھے یہ امکان دکھائی نہیں دیتا کہ وہ دوبارہ جیل میں ڈالے جائیں گے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب 11 اگست 2019 گزرا تھا تو میں نے یہ کہا تھا کہ اب ان کے مزیددباﺅ کا خطرہ ختم ہوگیا ، ان کو ریلیف ملنے میں دیر ہورہی ہے، ریلیف ان کو ملے گا، اور ان کو مل جانا ہے، میں کوئی ن لیگ کی حمایت میں بیان نہیں دے رہی تھی بلکہ میں نے ان کی نااہلی کی بھی پیشن گوئی کی تھی ۔

ٹیرو کارڈ ریڈر عالیہ نذیر کاکہناتھاکہ بڑے میاں صاحب 2020ءمیں پاکستان آتے نظر نہیں آرہے ،مجھے یہ لگتا ضروری ہے، وہ تو واپس نہیں آئیں گے بلکہ مریم ان کے پاس چلی جائیں گی، چھوٹے میاں صاحب پاکستان آئیں گے اور پارٹی کو سنبھالیں گے ۔ ستاروں یا واٹس ایپ کے کہنے کے بارے میں سوال پر عالیہ نذیر نے کہا کہ میرا واٹس ایپ مجھ سے پوچھتا ہے بتاتا نہیں، صرف یہ لگتا ہے کہ مریم اپنے ابا کے پاس چلی جائیں گی، ان کے ابا جی بھی شاید وہاں سے امریکہ چلے جائیں گے،پاکستان وہ آتے نظر نہیں آتے، چھوٹے میاں صاحب آکر پارٹی کو لیڈ کریں گے، وہ بھی جیل میں جاتے مجھے دکھائی نہیں دیتے۔

آسٹرالوجر علی محمد خان کا کہناتھاکہ 5نومبر کے بعد نوازشریف کے ستارے اچھے ہورہے تھے اور وہ بیرون ملک بھی چلے گئے، آگے بھی ان کے معاملات بہتر ہوتے نظر آرہے ہیں۔آئندہ سال بہت اہم ترین سال ہوگا،دو بڑے ستارے علم نجوم میں یعنی مشتری اور زحل، یہ دونوں اپنے اپنے گھر میں ہوں گے۔ اس کے بعد ان کا ایک گریٹ کنجنشن ہوگا، 21 دسمبر کو جو ہر 20 سال بعد ہوتا ہے، جودنیا کے لیے اچھا نہیں ہوتا لیکن میاں صاحب کے لئے کو ئی خطرہ نظر نہیں آتا کہ وہ دوبارہ جیل میں جائیں، یا کچھ ایسی چیز ہو، انفیکٹ وہ واپس بھی نہیں آئیں گے۔

ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سامعہ خان نے کہا ہے کہ ’ اللہ نہ کرے میں خود کو کہہ رہی ہوں میری پیش گوئی غلط ہو جائے لیکن ملک کو بہت خطرات ہے، اندر سے بھی اور باہر سے بھی حتی کہ انڈیا کے بھی حالات خراب ہونے جا رہے ہیں ،اللہ نہ کرے اللہ نہ کرے، غزوہ ہند کا سفر شروع ہو جائے۔وہ کیا 2020میں پاکستان انڈیا میں جنگ کا خطرہ ہے ؟کا جواب دے رہی تھیں‘۔

ہم نیوز کے اسی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ٹیروکارڈ ریڈر عالیہ نذیر نے موقف اپنایا کہ مجھے یہ لگتا ہے کہ جنگ نہیں ہوگی لیکن 2020میں حالات کشیدہ رہیں گے ، جنگ انڈیا پاکستان میں نہیں ہوگی، یہ کشمیر کے لیے فیز شروع ہو ا ہے جو سَن 2023 تک ختم ہو جائے گا لہٰذا اس فیزمیں انڈیا اور پاکستان کے حالات کشیدہ رہیں گے، جنگ نہیں ہے البتہ یہ ضرور ہے جنگ انڈیا اور چائنہ میں ہو سکتی ہے، مجھے لگتا ہے چین کی وجہ سے ہماری جان چھوٹی رہے گی۔

آسٹرالوجر علی محمد خان نے کہا کہ جنگ تو نہیں ہوگی،21جون کو ایک کلپس لگ رہا ہے جو پاکستان کے تیسرے خانے میں لگے گا، مئی جون میں بھارت کوئی ایڈونچر کرے گا اور یہ میری پیشن گوئی ہے ، جون ، جولائی، اگست تین مہینے ہیں، انڈیا کوئی ایڈونچر کر سکتا ہے لیکن میں کہتا ہوں کوئی فیئر وار ہوتی ہے جیسے 65میں ہوئی تھی یا 71میں ہوئی تھی یا 48میں ہوئی تھی ایسی کوئی وار نہیں ہوگی لیکن کچھ ایڈونچر کرے گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ 21جون کے بعد انڈیا لیکن جو اُس کا اپنا وجود بہت خطرے میں ہے، ابھی جو کلپس لگ رہا ہے 10,11جنوری کا کلپس انڈیا کیلئے خطرناک ہے،سُپر پاور کے لیے بہت خطرناک سال ہے اور ہوسکتاہے کہ اس کے صدر کو بھی اتاردیاجائے ۔

یہ تمام باتیں درست ہونے کی امکانات کے بارے حاضرین نے کہاکہ ستر سے اسی فیصد ایکوریسی کے امکانات ہوتے ہیں۔اس کے 100فیصد درست نہ ہونے کی ایک وجہ لوگوں کی تاریخ پیدائش کا مسئلہ ہوتاہے جو کسی جگہ پر تقریر کرتے ہوئے اپنی عمر کچھ بتاتے ہیں اور اگلی جگہ پر کچھ، اسی طرح کئی دیگر چیزیں بھی آڑے آتی ہیں۔

اس سے قبل عالیہ نذیر نے کہاکہ آئندہ سال قومی سطح پر الیکشن نہیں ہوگا، بلدیاتی الیکشن ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ’مجھے یہ لگتا ہے پلس مائینس، رلتے ڈلتے عمران خان کی حکومت 2020 کوکراس کر لے گی ،ستمبر سَن2021تک عمران خان کی حکومت جائے گی اورابھی تک میرے کارڈ یہ کہتے ہیں اُس سے پہلے یہ والے الیکشنز نہیں ‘۔

2020میں الیکشن ہونے یا نہ ہونے کے سوال پر آسٹرالوجسٹ محمد علی خان نے کہاکہ یہ 2020کا سال بہت اہم سال ہے، اس سال ٹوٹل چھ گرہن لگیں گے جس میں دو سولر کلپس ہو نگے اور چار لیونر کلپسس ہونگے اور جو پاکستان کا زائچہ ہے وہاں کوئی بھی possibility نظر نہیں آتی کہ کوئی کلپس ایسی جگہ لگا ہو کہ اسمبلیاں ٹوٹ جائیں اور نئے الیکشن ہوں ، نئی گورنمنٹ بنے یا نئی تبدیلیاں آئیں ۔

آسٹرالوجر سامعہ خان نے کہاکہ تھوڑا سا ماضی میں جانا چاہوں گی، اس بات کے لیے1991میں 11اگست کو ایک سولر اکلپ گرین لگا تھاجس میں کراچی میں اندھیرا ہو گیا تھا اور میں وثوق سے ایک بات کہتی ہوں ،تب وہ میری پہلی سیاسی پیش گوئی تھی اور آج شاید آخری پیش گوئی بیان کروں گی اور اس کے بعد میں ریٹارمنٹ کی طرف جانے لگی ہوں ،اُس وقت میں کہا کہ نواز شریف صاحب کی بھاری مینڈیٹ کی گورنمنٹ تھی ان کے ایک منسٹر تھے جمالی جو کہ میرے پاس آئے اور میں نے انہیں کہا کہ آپ کی گورنمٹ کو بہت خطرہ ہے ،وہ کہنے لگے ،دو تہائی اکثریت ہے، میں نے کہا کہ جو 11اگست والا گرہن ہے یہ اس گورنمنٹ کے لیے خطرے کا اشارہ ہے،

اُس کے بعد 2000میں 5سے7ستاروں کی گلیکسی اجتماع ،گیدرنگ ایک ہی گھر میں تھی ،اسی طرح آج کے دن 2019 میں جب یہ ختم ہورہا ہے اور جب یہ شروع ہوگا 2020اسی طرح 5سے7ستاروں کا اجتماع ایک ہی گھر کے اندر ہے اُس کے بعد آپ نے دیکھا 911 کا واقعہ ہوا اور دنیا ایک وارزون کی کیفیت میں گئی، Americaنے عراق پر اٹیک کر دیا،اسی طرح کی صورتحال ہے،ستاروں کا احوال جب میں نے پڑھنا شروع کیا تب سے اس سال بھی چھ گرہن لگنے جا رہے ہیں، اندرونی اور بیرونی طور پر 2020 کو تیزی سے تبدیلیوں کا سال کہوں گی ، تبدیلیاں آئیں گی اور تبدیلیوں والا سال ہے سیاسی اکھاڑ پجھاڑ ہے، پاکستان ہی کیا دنیا میں تبدیلیوں والا سال ہے انڈیا کے حالات بگڑتے ہوئے دیکھیں گے ۔انہوں نے کہاکہ ہمیں جو پھر سے سپنہ دیکھایا جا رہا ہے یہ ترقی کا سال ہے مجھے تو ستاروں میں ترقی کا ایسا کوئی موڈ نظر نہیں آرہا۔

مزید : لائف سٹائل /مخفی علوم /سیاست


loading...