کاغذات نامزدگی میں تبدیلیاں درست یا غلط؟ الیکشن سے پہلے تعین ضروری : جسٹس عائشہ اے ملک

کاغذات نامزدگی میں تبدیلیاں درست یا غلط؟ الیکشن سے پہلے تعین ضروری : جسٹس ...

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے 2018 ء کے انتخابات میں ارکان اسمبلی کے لئے کاغذات نامزدگی میں تبدیلی کے خلاف درخواست پر وفاقی حکومت کے وکلا ء کو تحریری جواب اور بحث کے لئے آخری موقع دے دیاہے۔جسٹس عائشہ اے ملک نے شہری حبیب اکرم کی درخواست پر سماعت کی جس میں کاغذات نامزدگی میں تبدیلی کو چیلنج کیا گیا ہے، سماعت کے دوران وفاقی حکومت کے وکیل جواب داخل کرانے او مہلت کی استدعا کی ،عدالت نے وفاقی حکومت کی استدعا منظور کرتے ہوئے مزید وقت دے دیا، جسٹس عائشہ اے ملک نے واضح کیا کہ انتخابات سے پہلے اس بات کا تعین کرنا ہے کہ کاغذات نامزدگی میں لی جانے والی تبدیلیاں درست ہیں یانہیں ،درخواست گزار کے وکیل اور الیکشن کمیشن کے وکیل نے اپنے اپنے دلائل مکمل کر لئے ہیں، درخواست گزار کے وکیل نے نکتہ اٹھایا کہ پارلیمنٹ کو امیدواروں کے کاغذات نامزدگی بنانے کا اختیار ہی نہیں اور قانون کے تحت کاغذاتِ نامزدگی کے فارم بنانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، وکیل نے نشاندہی کی کہ پارلیمنٹ نے الیکشن کمیشن کے اختیارات استعمال کئے، درخواست گزار نے افسوس کا اظہار کیا کہ نئے کاغذات نامزدگی کے تحت جرائم پیشہ افراد بھی الیکشن لڑ سکتے ہیں ،یوٹیلیٹی بلز کا نادہندہ شحض انتخابات میں حصہ لے سکتا ہے اور دوہری شہریت کے حامل شحض کو بھی الیکشن لڑنے کی اجازت ہوگی ،وکیل نے استدعا کی کہ کاغذات نامزدگی کے فارم میں تبدیلوں کو آئین کے منافی قرار دے کر کالعدم کیا جائے، درخواست پر مزید کارروائی آج 30مئی کوہوگی۔

جسٹس عائشہ

مزید :

علاقائی -