ٹرمپ پر فرد جرم کیلئے شہادتیں ناکافی تھیں: رابرٹ میولر

ٹرمپ پر فرد جرم کیلئے شہادتیں ناکافی تھیں: رابرٹ میولر

  

واشنگٹن(اظہر زمان، بیورو چیف) خصوصی تفتیش کار رابرٹ ملر نے وضاحت کی ہے کہ انہوں نے گزشتہ صدارتی انتخابات میں ٹرمپ ٹیم کی روس کیساتھ ساز باز کی جو تفتیش کی تھی اس میں انہیں ٹرمپ پر جرم عائد کرنے کیلئے ناکافی شہادتیں ملی تھیں۔ تقریباً دو سال کی تفصیلی چھان بین کے بعد انہوں نے چار سو صفحات کی رپورٹ اٹارنی نرل کو پیش کر دی تھی، رپورٹ میں صدر ٹرمپ پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ ا ٹا ر نی جنرل پر چھوڑ دیا تھا۔ اٹارنی جنرل ولیم برنے رپورٹ کا کچھ حصہ حذف کر کے کانگریس کے سامنے پیش کیا تو مکمل رپورٹ سامنے لا نے کا مطالبہ شروع ہو گیا۔ کانگریس نے خصوصی تفتیش کار رابرٹ میولر کو شہادت کیلئے طلب کرنے کا بھی ارادہ ظاہر کیا تھا، تاہم انہوں نے رپورٹ پیش کرنے کے بعد خاموش توڑتے ہوئے بتایا ان کی رپورٹ ہی دراصل ان کی شہادت ہے۔ رابرٹ میولر نے یہ بھی اعلان کیا ہے وہ محکمہ انصاف سے مستعفی ہو گئے ہیں اور انہوں نے اپنا دفتر بند کر دیا ہے۔ رابرٹ میولر نے اپنے تازہ بیان میں واضح کیا کہ ان کی تفتیشی ٹیم کیلئے ”آپشن“ موجود نہیں تھی کہ وہ صدارت کے منصب پر فائز ڈونلڈ ٹرمپ پر جرم عائد کر سکے، انہوں نے بڑی احتیاط سے رپورٹ لکھی اور اب انہیں مزید شہادت دینے کی ضرورت نہیں، اگر کانگریس نے پھر بھی انہیں شہادت کیلئے طلب کیا تو وہ رپورٹ میں بیان کردہ حقائق سے تجاوز نہیں کریں گے، مسٹر میولر نے بتایا روس کے انٹیلی جنس افسروں پر جرم عائد ہوا تھا کہ انہوں نے صدارتی ا میدوار ہیلری کلنٹن کی مہم میں استعما ل ہونیوالے کمپیوٹرز اورینٹ ورک کو ہیک کر کے انتخابات پر اثر انداز ہوئے تھے۔ وکی لیکس کے ذریعے یہ معاملہ سامنے آنے پر اس کی تفتیش کیلئے انہیں ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ انہوں نے واضح کیا رپورٹ میں ایسی شہادتیں تو موجود ہیں کہ روس نے ان انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی لیکن کیا انہوں نے ایسا ٹرمپ ٹیم کیساتھ ساز باز کر کے کیا اس کی شہادتیں کافی نہیں ہیں۔

رابرٹ میولر

مزید :

صفحہ اول -