دیکھئے یہ فلمی دنیا کب تک چلتی ہے!

دیکھئے یہ فلمی دنیا کب تک چلتی ہے!
 دیکھئے یہ فلمی دنیا کب تک چلتی ہے!

  

عید کے بعد کرونا بڑھا ہے یا نہیں بڑھا ہے، لوگوں کا حوصلہ ضرور بڑھ گیا ہے۔ عید شاپنگ کے لئے بازار کیا کھلے، لوگوں کا ’جھاکا‘ کھل گیا اور اب وہ کرونا کو موت نہیں، ایک بیماری سمجھتے ہیں جس سے لڑا جا سکتا ہے۔ ہمارا خوف ہماری طاقت بن گیا ہے، ہم گھروں سے نکل آئے ہیں، اب ہمیں کرونا بھی نہیں ڈرا سکتا ہے۔

اب یہ بات عام سننے کو مل رہی ہے کہ میرا کرونا ٹیسٹ مثبت آگیا ہے، میں نے اپنے آپ کو گھر میں آئسولیٹ کرلیا ہے، آپ مجھ سے ملے تھے اس لئے آپ بھی ٹیسٹ کروالیں۔ پھر اگر کہیں کوئی موت واقع ہوتی ہے تو جتنے شک بھرے انداز میں پوچھا جاتا ہے کہ کہیں کرونا سے تو نہیں ہوئی، متوفی کے گھر والے اس سے زیادہ یقین کے ساتھ انکار کرتے ہیں جس کے بعد خوب دل کھول کر تعزیت کا فریضہ سرانجام دیا جاتا ہے۔

لگتا ہے کہ لوگوں کو یقین آگیا ہے کہ کرونا لاعلاج ہے اس لئے اس سے بھاگنے کی بجائے اسے بھگایا جائے۔ سوشل ڈسٹینس کی بجائے روزگار کی فکر کی جائے۔ عید سے دو دن قبل کراچی میں طیارے حادثے نے کرونا کا خوف ختم کردیا اور پاکستانی ’مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہوگئیں‘ کی عملی تصویر بن گئے، وہ کرونا سے سہمے ہوئے تھے، انہیں 97انسانی جانوں کے زیاں کا دکھ دیکھنا پڑگیا کیونکہ ٹی وی چینلوں نے اس واقعے کو اتنی بار دہرایا کہ دو دن بعد روٹین کی بات لگنے لگی اور اب عید کے بعد حکومت لاک ڈاؤن کے موڈ میں ہے اور نہ ہی عوام، ایسے میں کرونا کرے تو کیا کرے، خاص طور پر جب کہ اس سے واقع ہونے والی اموات کی شرح بھی دو فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر کرونا کے خلاف چلائی جانے والی مہم کا اثر الگ سے ہو رہا ہے، لوگوں کا یقین ان فوٹیجز(Footages) پر زیادہ ہے جن میں کرونا کو حقیقت کی بجائے افسانہ بتایا جاتا ہے، لوگ شدومد سے ایک دوسرے کے ساتھ ایسے لنک شیئر کرتے ہیں اور بضد ہوتے ہیں کہ وہ تو پہلے ہی کہتے تھے کہ کرونا کچھ نہیں ہے، یہ سب دنیاکی آبادی کم کرنے کی ایک سازش ہے۔ کبھی کبھی تو دل چاہتا ہے کہ سوشل میڈیا کی دنیا میں جا بسیں، بس ٹک ٹاک بناتے رہیں، دکھاتے رہیں اور ہر طرح کے دیکھنے سے آنکھیں بند کرلیں۔

ایک وقت تھاکہ گلی محلوں میں ٹین کے ڈبے پر کالا کپڑا ڈال کر فلم چلانے والا بچوں میں مقبول ہوتا تھا، اب وہی بچے بڑے ہوگئے ہیں اور انہوں نے سوشل میڈیا پر دوبارہ سے اس شوق کو پورا کرنا شروع کردیا ہے، وہ کرونا پر بھی فلمیں بنا رہے ہیں اور اپنی خواہشوں، آرزوؤں، تمناؤں اور خوابوں کو فلما کر لوگوں کو الجھائے ہوئے ہیں، لگتا ہے کہ ہم ایک نئی دنیا کا آغازکرنے جا رہے ہیں جس کی بنیاد ہمارے وہ خواب ہیں جو ہم نے سوشل میڈیا پر سجائے ہوئے ہیں، آج کے نوجوان کتابوں کے دنیا سے آگے نکل آئے ہیں اور جو سوچتے ہیں اسے فلمالیتے ہیں، ساری دنیا ایک فلم بن گئی ہے جس کے دیکھنے والوں کی تعداد ہر نئے پیدا ہونے والے بچے کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے، کرونا فلمی دنیا کے ہتھے چڑھ گیا ہے، اس کی درگت بن کر ہی رہے گی۔

ذرا تصور کیجئے کہ اگر لوگوں کے پاس موبائل فون کی سہولت نہ ہوتی اور انٹرنیٹ کنکشن کے ذریعے وہ ایک دوسرے سے جڑے نہ ہوتے تو کیا ہوتا، یقینا اموات کی تعداد سے اس دوگنی ہوتی جو کہ اب ہے، موبائل فونوں نے ہماری زندگیوں میں انقلاب برپا کردیا ہے، ہم نے موت کو شکست دی ہو یا نہ دی ہو، موت کے خوف کو شکست دے دی ہے، سوجھنے والوں کو ایسی ایسی سوجھتی ہے کہ انسان لمحے بھر کو سب کچھ بھول کر اس انوکھے پن میں کھوجاتا ہے جو سوشل میڈیا کی فلمی دنیا پر چل رہا ہوتا ہے، ایک سے ایک نئی ایک بات، ایک سے ایک نیا پہلو، اور پہلو بھی کہ وہ کہ جس سے انسان کی ڈھارس بندھ جائے، وہ خوفزدہ ہونے کی بجائے مسکرانے بلکہ کھلکھلا کر ہنسنے پر مجبور ہو جائے! موت پر ہنسنے کا حوصلہ سوشل میڈیا نے دیا ہے، لوگ اس حوصلے کو کھونا نہیں چاہتے ہیں، ان کے پاس موبائل فون ہوں تو وہ روزِ قیامت کا بھی سامنا کرلیں گے کیونکہ سوشل میڈیا نے انہیں احساس دلایا ہے کہ کرونا کے پھیلاؤ پر ایک خاص انداز میں سوچنے والے وہ اکیلے نہیں ہیں، ہر کوئی ان کی طرح سوچ رہا ہے، اس لئے بہتر ہے کہ کرونا کے ساتھ جینے کا ڈھنگ سیکھا جائے، اپنے ہی خوف پر ہنسا جائے اور اسی دنیا میں ایک نئی دنیا بسالی جائے، دیکھئے یہ فلمی دنیا کب تک چلتی ہے!

مزید :

رائے -کالم -