گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 66

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ ...
گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 66

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اس سوال پر اب بھی قیاس آرائی ہوتی رہتی ہے کہ مسٹر جناح اگر کچھ وقت کے لئے لارڈ مونٹ بیٹن کو مشترکہ گورنر جنرل کے طور پر قبول کرلیتے تو کیا بات دانشمندانہ نہ ہوتی۔ مسٹر چرچل جنہوں نے لارڈ مونٹ بیٹں کا تقرر کیا تھا۔ انتخابات میں ہار گئے تھے اور انہوں نے وزارت عظمیٰ مسٹر اٹیلی کے حوالے کردی تھی۔ اب جنگ کے بعد پیدا ہونے والے تمام مسائل کا مقابلہ اگر لیبر حکومت کو کرنا پڑا تھا تو کنزرویٹو لیڈر اس صورتحال پر دل میں خوش تھے۔ وہ سوچ رہے تھے کہ اگر لیبر پارٹی ناکام ہوگئی تو کنزرویٹو پارٹی کے لئے حکومت پر قبضہ کرنا اور اسے نسبتاً طویل عرصہ کے لئے برقرار رکھنا کسی قدر آسان ہوجائے گا۔ اقتدار سے علیحدگی کا عرصہ بعض اوقات بہت مفید ہوتا ہے۔ کانگریسی لیڈروں نے اپنی سیاسی جدوجہد کا بیشتر حصہ جیل میں گزارا تھا۔ کنزرویٹو لیڈروں نے یہ عرصہ کلبوں اور اپنے دیہی محلات میں بسر کیا تھا۔ خود مجھ پر یہ گزری کہ جیل میں میرا آٹھ پونڈ وزن صرف 34 دنوں کے اندر بڑھ گیا کیونکہ ایک تو میرے دوست باہر سے نہایت نفیس کھانے بھیجتے رہتے تھے۔ دوسری طرف ورزش ندارد تھی۔ تاہم ذہنی بوجھ بڑا سخت تھا۔ بعض لوگ یہ استدلال پیش کرتے ہیں کہ ہندوستان میں انتقال حکومت کے اس نازک دور میں اگرچرچل برسراقتدار ہوتے تو وہ ایک ڈویژن فوج امن قائم کرنے کے لئے بھیج دیتے۔ اس طرح پاکستان کو نامساعد حالات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ لیکن مسلم لیگی لیڈروں کو بالخصوص ان لیڈروں کو جو ماؤنٹ بیٹن کی عبوری حکومت کے رکن تھے۔

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 65 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

چرچل کا پہلے ہی خاصا تجربہ ہوچکا تھا اور وہ دیکھ رہے تھے کہ ماؤنٹ بیٹن ہندوؤں کی مدد کرتا ہے اور ان کے ساتھ جانب داری سے پیش آتا ہے۔ لہٰذا مسٹر جناح نے پاکستان کے گورنر جنرل کا عہدہ قبول کرکے عین دانش مندی کا ثبوت دیا۔

1946ء میں بہار، کلکتہ اور پنجاب میں جب خونیں فسادات ہوئے تو ماؤنٹ بیٹن کے لئے گاندھی اور نہرو سے یہ بات منوانی آسان ہوگئی کہ پاکستان کی مخالفت ترک کردیں۔ میرا خیال ہے کہ کانگریسی لیڈروں نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہوگا کہ یہ کٹا پھٹا پاکستان جو دو حصوں میں بٹا ہوا ہے اور جس کے دونوں حصوں کے درمیان ہندوستان کے ایک ہزار میل حائل ہیں، زیادہ عرصہ تک قائم رہ سکے گا۔ لائل پور کے ایک سکھ ایڈووکیٹ سردار سمپورن سنگھ نے جو بعد میں ہندوستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر ہوکر لاہور آئے تھے، مجھے بتایا کہ ماسٹر تارا سنگھ نے لائل پور کے سکھوں کے پاس گیانی کرتارسنگھ کو یہ پیغام دے کر بھیجا تھا کہ نقل مکانی نہایت پرامن طور پر کریں کیونکہ انہیں اپنی کھڑی فصلوں کی کٹائی کے لئے چھ مہینہ بعد ہی واپس آنا ہوگا۔

قیام پاکستان کے بعد مشرقی پنجاب میں سکھوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا قتل عام ایک منصوبہ کا حصہ تھا۔ مقصد یہ تھا کہ اس نوزائیدہ مملکت میں لٹے پٹے مسلمان مہاجریں کو دھکیل کر اور جو ہندو یہاں کے کاروباری اداروں اور بنکوں میں کام کررہے ہیں انہیں یہاں سے بلا کر اس ملک کی معیشت تباہ کردی جائے۔

مَیں یہ نہیں مانتا کہ دونوں مملکتوں کے درمیان انتقال آبادی ہجوم در ہجوم تارکین وطن کی خانہ بربادی، ان کا قتل عام اور بے اندازہ مصائب، انگریزوں کی سازش کا نتیجہ تھے یا اُن کی چشم پوشی کی بنا پر یہ تمام خرابیاں پیدا ہوئی تھیں تاہم اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ متعدد انگریز افسروں کا رویہ بڑا عیارانہ اور تلخ تھا۔ بعض نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ہمیں ملک سے نکالنے کا مزہ آخر تم نے چکھ لیا؟ لیکن مجھے اس امر میں کوئی شک نہیں کہ برطانیہ کی حکومت کو یہ اندازہ نہ تھا کہ اس قدر بڑے پیمانے پر کشت و خون کی نوبت آئے گی اور وہ فوج جو ابھی تک ان کے ماتحت تھی اس درجہ بے بس ثابت ہوگی۔ انہیں اگر اندازہ ہوتا تو اقتدار کی منتقلی میں کم سے کم ایک سال کی مہلت لیتے اور اس پر سختی سے اصرار کرتے۔ اس عجلت کا الزام ماؤنٹ بیٹن کو دیا جاتا ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ وہ ہندوؤں کو خوش کرنے اور آزاد ہندوستان کا پہلا گورنر جنرل بننے کا شرف حاصل کرنے کے لئے بے تاب تھے۔

تقسیم کے وقت ہندوستان کی مسلمان اقلیت نے خود کو نہایت کمزور محسوس کیا۔ فوج کے مسلمان دستوں کو ہندوستان کے طول و عرض میں دور افتادہ مقامات پر اور مسلمانوں کی اکثریتی آبادی کے علاقوں سے دور متعین کردیا گیا تھا تاکہ بالفرض آزادی کا اعلان نہ ہو اور حالات کا مقابلہ فوج کو کرنا پڑے تو وہ صورتحال سے نپٹ سکے۔ غیر ملکیوں کے نقطہ نظر سے فسادات کی روک تھام کے لئے مقامی آبادی میں غیر مذہب کے سپاہیوں کی موجودگی زیادہ سود مند تھی۔ یہ مسلمان سپاہی جب پاکستان واپس ہوئے تو ان کے پاس رائفلیں نہیں تھیں اور بعض کے ساتھ تو یہ ہوا کہ جب وہ ٹرین میں سوار ہوکر ہندوؤں کے علاوہ سے گزرنے لگے تو راستے میں ان کا سامان بھی چھین لیا گیا۔ ان سپاہیوں کو بالعموم ریلوے جنکشن پر لوٹا جاتا تھا جہاں وہ پاکستان جانے والی گاڑیوں کا انتظا کرتے تھے۔ بہرحال ان چھوٹے چھوٹے ہتھیاروں کا زیان تو کچھ زیادہ اہم نہ تھا۔

اصل سفاکانہ کارروائی تو یہ ہوئی کہ بھاری فوجی ساز و سامان میں پاکستان کا حصہ طیارے، گولہ بارود کے ذخائر، فوجی گاڑیوں اور اسلحہ ساز فیکٹریاں سب ہندوستان کے قبضہ میں چلی گئیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ انگریزوں نے سبھی کچھ ہندوؤں کو سونپ دیا اور خود ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ اب اس سے کوئی فائدہ نہیں کرنا منصفانہ تقسیم کا الزام سپریم کمانڈ ایف ایم، سرکلاڈ آکنلک کو دیا جائے یا اصل ملزم ماؤنٹ بیٹن کو سمجھا جائے تاہم ایک بات یقینی ہے کہ شعوری یا غیر شعوری طور پر ہر انگریز فوجوں کی اس تقسیم کا مخالف تھا۔ البتہ کلکتہ میں مشرقی کمان کے جنرل ٹکر ان انگریزوں میں شامل نہ تھے۔ ان کے منصفانہ سلوک کی ہر طرف تعریف سننے میں آئی۔

انتقال اقتدار کے طریق کار کی بابت میں نے جو کچھ کہا ہے۔ اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ انگریزوں نے اس برصغیر کے چالیس کروڑ باشندوں کو آزادی دیتے وقت انسانوں کے بے پناہ جذبہ حریت کے احترام کی اور اپنی عاقبت اندیشی کی جو نظیر قائم کی اس کی مثال پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملے گی۔ اگر وہ طاقت کے بل پر یہاں ڈٹے رہنے پر اصرار کرتے تو ہم مدتوں انہیں برصغیر ے نکالنے میں کامیاب نہ ہوتے۔ ان کا یہی وہ حسن سلوک تھا جس نے ایک طویل و عریض اور کٹر مخالف ملک کو دوستوں کی قوم میں بدل دیا حتیٰ کہ انڈین نیشنل کانگریس نے بھی دولت مشترکہ سے نکل جانے کی دھمکی کبھی نہیں دی اور نہ میرا خیال ہے کہ اس طرح کی دھمکی پاکستان دے گا۔ آزاد ملکوں کے آزادانہ میل جول کے فائدے ہمیں خود نظر آرہے ہیں۔ ’’لیلیٰ نے مجنوں کا گھر کیوں نہیں چھوڑا؟‘‘ کیونکہ مجنوں کے گھر میں کوئی دروازہ نہ تھا۔

ویسٹ منسٹر کی کتاب آئین میں دولت مشترکہ کے ہر رکن ملک کو اس ادارہ سیا لگ ہوجانے کی اجازت ہے لیکن وہی ہندوستانی جو رات دن انگریزوں کو برا بھلا کہتے رہتے تھے۔ اب دولت مشترکہ کی رکنیت کی بنا پر اپنے موجودہ منصب سے خوب فائدہ اٹھارہے ہیں۔ اس سے مجھے ایک ایسے کسان کی ماں کی حکایت یادآتی ہے جو خاردار جھاڑی میں گرگئی تھی۔ جب کسی راہگیر نے یہ خبر کسان کو پہنچائی تو وہ بولا ’’مَیں اپنی ماں کو خوب جانتا ہوں۔ اس نے جھاڑی میں ضرور شہد کا چھتہ دیکھ لیا ہوگا۔‘‘

جس طرح ہم آزاد ہوئے تھے، اسی طرح ایک کے بعد دوسری نو آبادیات آزاد ہورہی ہیں۔ انگریزوں نے نو آبادیات کی خود مختاری کے اس عمل میں رکاوٹ نہیں ڈالی بلکہ اس عمل کو تیز تر کیا ہے کیونکہ وہ جس علاقہ کو بھی چھوڑ کر گئے ہیں وہاں ان کے تجارتی مفادات، ان کی تہذیب اور ان کی زبان سبھی پھل پھول رہی ہے۔(جاری ہے )

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 67 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : فادرآف گوادر