شہباز شریف کی گرفتاری کے سیاسی مضمرات

شہباز شریف کی گرفتاری کے سیاسی مضمرات

  

لاہور کی احتساب عدالت نے مسلم لیگ(ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف کو چودہ روز کے جسمانی ریمانڈ پر نیب کے سپرد کر دیا،اُنہیں پیر کے روز نیب نے لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت قبل از گرفتاری میں مزید توسیع نہ ملنے پر گرفتار کیا تھا، شہباز شریف کو لاہور ہائی کورٹ نے 3جون کو عبوری ضمانت قبل از گرفتاری دی تھی،جس میں 28ستمبر تک توسیع ہوتی رہی۔ مسٹر جسٹس سردار احمد نعیم اور مسٹر جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل ڈویژن بنچ نے درخواست مسترد کرنے کا زبانی فیصلہ دیا تو شہباز شریف کے وکلاء نے درخواست واپس لینے کی استدعا کی، جسے منظور کرتے ہوئے فاضل بنچ نے درخواست واپس لئے جانے کی بنا پر خارج کر دی۔عدالت میں وکلا کے علاوہ شہباز شریف نے خود بھی دلائل دیئے اور کہا کہ وہ حلف دینے کے لئے تیار ہیں کہ نیب نے انہیں کہا کہ آپ سے تفتیش مکمل ہو چکی ہے،اُن کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات سے پہلے میری زبان بندی کے لئے مجھے گرفتار کرنا چاہتے ہیں،عدالت نے استفسار کیا کہ احتساب عدالت میں فردِ جرم عائد ہو چکی؟جس پر شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ ابھی کارروائی جاری ہے،ریفرنس کی کاپیاں تقسیم ہو چکی ہیں،جس کے بعد فرد جرم عائد ہونا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزراء کی طرف سے شہباز شریف کو جیل بھیجنے کے دعوے کئے جا رہے ہیں۔

شہباز شریف کو آمدنی سے زائد اثاثے اور منی لانڈرنگ کے اس کیس میں ابھی پہلی بار ہی ضمانت قبل از گرفتاری ملی تھی، تو نیب نے اعلان کر دیا تھا کہ ضمانت منسوخ ہوتے ہی شہباز شریف کو گرفتار کر لیا جائے گا،اس کے بعد سماعت کی مختلف تاریخوں میں انہیں توسیع ملتی رہی تاہم ہر پیشی پر ہائی کورٹ کے باہر معمول کے مطابق ان کی گرفتاری کی تیاری مکمل تھی، لیکن گرفتاری کی نوبت پیر کے روز آئی، مخالف سیاسی جماعتوں کی اے پی سی کے بعد یہ خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اب اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوں گی، پہلی گرفتاری شہباز شریف کی ہوئی ہے تو آصف علی زرداری نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب ہم سب اندر ہوں گے، مولانا فضل الرحمن کو بھی نیب نے طلب کر رکھا ہے،دیکھیں ان کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے،اِس سے پہلے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو سندھ ہائی کورٹ نے ضمانت قبل از گرفتاری دیتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ شاہد خاقان عباسی کے خلاف نیب ریفرنس کا مقصد ان کی زبان بند کرنا ہے، فیصلے میں کہا گیا ”ضمانت قبل از گرفتاری میں یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ تفتیش بدنیتی پر مبنی ہے،دیکھنے میں آیا ہے کہ شاہد خاقان عباسی موجودہ وفاقی حکومت پر کھلم کھلا تنقید کرتے ہیں۔ خواجہ برادران کے کیس میں سپریم کورٹ بھی یہ کہہ چکی ہے کہ نیب صرف یک طرفہ کارروائی کر رہا ہے۔عدالت نے نیب پراسیکیوٹر اور تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ اکثریتی پارٹی کے خلاف اب تک کتنے ریفرنس فائل کئے جا چکے ہیں،لیکن نیب حکام اور پراسیکیوٹر اس سوال کا جواب نہیں دے سکے“ اعلیٰ عدالتیں بار بار ایسے ریمارکس دے چکی ہیں کہ تفتیش کے مرحلے میں گرفتاری غیر ضروری ہے۔سندھ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں خواجہ برادران کے کیس کا حوالہ بھی دیا ہے،جس میں سپریم کورٹ کے ججوں نے سخت ریمارکس بھی دیئے ہیں،لیکن اِن فیصلوں اور ریماکس کے باوجود گرفتاریاں جاری ہیں۔ شہباز شریف کی تازہ گرفتاری بھی اس کی مثال ہے اِس سے پہلے اُنہیں 5اکتوبر2018ء کو آشیانہ ہاؤسنگ سکیم اور بعد میں رمضان شوگر ملز کیس میں گرفتار کیا گیا تھا،دونوں کیسوں میں لاہور ہائی کورٹ نے شہباز شریف کو 17فروری 2019ء کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا،آشیانہ ہاؤسنگ سکیم میں ایل ڈی اے کے سابق چیئرمین احد ملک کے خلاف بھی ریفرنس واپس لیا جا چکا ہے۔

عام خیال یہ ہے اور کئی وفاقی وزراء بار بار یہ بات کہتے رہتے ہیں کہ نواز شریف اور شہباز شریف کے سیاسی خیالات میں مطابقت نہیں ہے، شہباز شریف اپنے بڑے بھائی کے برعکس مفاہمت کی سیاست چاہتے ہیں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مسلم لیگ(ن) دوحصوں میں بٹ جائے گی، ایک حصہ نواز شریف کی سیاست کرے گا اور شہباز شریف کی قیادت میں نئی مسلم لیگ بن جائے گی،لیکن اگر واقعی ایسا ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ کیا شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد مفاہمت کا جذبہ باقی رہے گا یا نہیں؟مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے تو کہہ دیا ہے کہ شہباز شریف کو اِس لئے گرفتار کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے بڑے بھائی کا ساتھ چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے۔اس کے باوجود ”نون“ اور ”شین“ کے پانی کی مدھانی جاری ہے۔

اپوزیشن جماعتیں حکومت پرالزام لگاتی ہیں کہ احتساب کے نام پر انتقام لیا جا رہا ہے،اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف تو مقدمات بنائے جا رہے ہیں، لیکن جن معاملات کا تعلق حکومت سے ہے، اُن پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔حکومت کا موقف اگرچہ یہ ہے کہ شہباز شریف کی گرفتاری سے اس کا کوئی تعلق نہیں،اگر ایسا ہے تو وزیر کس بنیاد پر اس کی پیش گوئیاں عرصے سے کر رہے تھے؟یہ بات  لائق توجہ ہے کہ احتساب کے ادارے کا سارا زور اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاریوں پر ہی کیوں ہے، جومقدمات بنے ہیں وہ صرف اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف ہی کیوں بن رہے ہیں۔ حکومت کے جو سکینڈل سامنے آ رہے ہیں اُن میں کسی کی گرفتاری کیوں نہیں ہو رہی اور یہ معاملات آگے کیوں نہیں بڑھ رہے، ان پر اچانک مٹی کیوں ڈال دی جاتی ہے۔ ایک وفاقی وزیر اور اُن کے بھائی کے خلاف تحقیقات شروع کی گئی تھیں وہ روک لی گیئں۔ مالم جبہ، ملین ٹری سونامی اور بی آر ٹی پشاور کے معاملات پُراسرار طور پر دبا دیئے گئے،یہاں تک حکمران جماعت کے خلاف فارن فنڈنگ کی جو تحقیقات ہو رہی ہے اس میں بھی تاخیر کی جا رہی ہے یہ الزام ایک ایسے شخص نے لگایا ہے جو پارٹی کا بنیادی رکن اور بہی خواہ ہے۔ یہ تمام امور اِس امر کی شہادت دیتے ہیں کہ احتساب یک طرفہ اور سلیکٹڈ ہے۔ اگر یہ احتساب بلاتفریق ہو رہا ہوتا تو حکومتی پارٹی کے جو لوگ گرفتار ہوئے تھے چند ہفتوں کے بعد انہیں کلین چٹ تو نہ مل جاتی،اِس لئے اپوزیشن اگر شہباز شریف کی گرفتاری کو اے پی سی کا نتیجہ قرار دیتی ہے تو اس میں کچھ نہ کچھ صداقت تو ہو گی۔

نیب میں سیاسی رہنماؤں کے خلاف جو مقدمات چل رہے ہیں اُن میں ابھی تک دو فیصلے ہوئے ایک فیصلہ کرنے والے جج بھی یہ تسلیم کر چکے کہ اُن پر فیصلے کے لئے دباؤ تھا ان کی وڈیو بھی بہت کچھ کہہ رہی ہے، وہ اب برطرف بھی ہو چکے،لیکن فیصلہ برقرار ہے جو پورے عدالتی نظام پر سوالات اٹھا رہا ہے، ایسے فیصلے اگر عدالتوں ہی میں زیر بحث ہوتے تو بھی ایک بات تھی،لیکن جس طرح ملزموں کا میڈیا ٹرائل ہو رہا ہے وہ اپنی جگہ محل ِ نظر ہے۔ وزراء کی ٹیمیں میڈیا پر عدالتی فیصلوں پر من پسند تبصرے کرتی ہیں، کوئی دوسرا ان پر اظہارِ خیال کرے تو اُنہیں پسند نہیں آتا اور فوراً  ”توہین، توہین“ کا راگ الاپنے لگتے ہیں،اس طرزِ عمل نے یہ فضا پیدا کر دی ہے کہ حکومت اپوزیشن کو چوروں اور ڈاکوؤں کا ٹولہ کہہ رہی ہے اور اپوزیشن جماعتیں حکومت کو سلیکٹڈ اور دھاندلی کی پیداوار قرار دے رہی ہیں، نتیجہ یہ ہے کہ سیاسی تقسیم کی خلیج بہت بڑھ گئی ہے اور آنے والے دِنوں میں اس میں کمی آتی محسوس نہیں ہوتی۔

مزید :

رائے -اداریہ -