تبدیلی آئی ہے ، تبدیلی آئے گی ؟ 

تبدیلی آئی ہے ، تبدیلی آئے گی ؟ 
تبدیلی آئی ہے ، تبدیلی آئے گی ؟ 

  

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قومی انتخابات مکمل ہوگئے ۔ تحریک انصاف اس وقت وطن عزیز کی سب سے بڑی پارٹی بن کر سامنے آئی ہے ، دوسری پوزیشن مسلم لیگ (ن) کی جبکہ تیسری پوزیشن پاکستان پیپلز پارٹی کی ہے۔ اب اقتدار کی منتقلی میں کوئی امر مانع نہیں ہے کیونکہ دوسری اور تیسری سیاسی پارٹیوں نے کسی حد تک با امر مجبوری قومی اسمبلی میں بیٹھنا قبول کر لیا ہے۔ اس وقت جیتنے والی پارٹی پی ٹی آئی کے لئے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اسے ثابت کرنا ہے کہ وہ ایجی ٹیشن اور الزام لگانے والی پارٹی نہیں بلکہ کام کرنے اور قومی خدمت کرنے والی پارٹی ہے۔ اس سے قبل جناب عمران خان یہ کہہ کر بچ جاتے تھے کہ الزام لگا نا تو میرا کام ہے اب صفائی آپ دیتے رہیں۔ انہیں یہ بھی بتانا ہے کہ وہ اعلیٰ مورال کے حامی ہیں اور جب وہ ہارے تھے اور ’ن‘ لیگ اگرچہ اس پوزیشن میں تھی کہ KPKمیں حکومت بنا سکتی پھر بھی جناب نواز شریف نے حکومت سازی کا حق PTIکو دے دیا۔ 

عمران خان کی اولین تقریر بہت متوازن اور ایک سنجیدہ پیغام لیے ہوئے تھی لیکن کیا الیکٹیبلز اور پارٹی کے اندر غیر سنجیدہ جوشیلا عناصر انہیں کسی ذمہ دارانہ متعین راستے پر چلنے دے گا۔ یہ اب ان کا امتحان ہے۔ اب دوسرے ایجی ٹیشن کریں گے اور انہیں صبر کا دم بھرنا ہوگا۔ تبدیلی آگئی ہے اور یہ تبدیلی ان کی تقریر سے ظاہر ہے۔ 

ان کی اولین تقریر میں جس طرح ہمارے دوستوں چین اور سعودی عرب و ایران کا ذکر کیا گیا ہے وہ قابل ستائش ہے۔ چین کا سی پیک جاری ہے۔ اس معاملے میں پورے جوش و خروش لیکن ذمہ داری اور پاکستانی مفادات کی حفاظت کو سامنے رکھتے ہوئے کام کرنا ہوگا۔ وہ تمام پروجیکٹ جو ’ن ‘ لیگ نے شروع کیے تھے وہ مکمل کرنا چاہیں اور وہاں کسی منفی انداز کو اپنا کر وطن عزیز کی معیشت کا بھر کس نہیں نکالنا چاہیے۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان توازن و بھائی چارہ برقرار دکھنا ہوگا۔ جہاں تک افغانستان کے لئے سرحدیں کھولنے کا تعلق ہے یہ ضیاء الحق مرحوم کی خواہش کا نئے سرے سے اجراء ہے ۔ اس کام کے لئے انھیں ضیاء لیگ کو ساتھ ملانا چاہیے اور ایک دفعہ پھر مزید تین چار ملین افغانوں کو خوش آمدید کہنے کے لئے تیار رہنا ہوگا۔ گویا کہ ان کی حکومت کا یہ دور مکمل ہونے تک چھ سات ملین افغان اسلامی بھائی چارے یا خان صاحب کی محبت کے نتیجے میں ہمارے مستقل مہمان بن چکے ہوں گے۔ جوکہ متواتر ہر قسم کی جارحانہ کارروائیاں ہمارے وطن کے اندر کرتے رہیں گے۔ یہاں بے چارے جنرل راحیل شریف صاحب کی ساری جدوجہد اور ہیروازم پر پانی پھرجائے گا۔

خان صاحب نے امریکا اور بھارت کا بھی خیال رکھا اور کشمیر کا بھی ذکر کیا۔ خان صاحب کا یہ بیان کہ اگر بھارت ایک قدم آگے بڑھائے گا تو ہم دو قدم آگے بڑھائیں گے بہت اہم تھا۔ کیونکہ ایسے ہی ’’ دو قدم ‘‘ آگے بڑھانے کے نتیجے میں مسلم لیگ (ن) مجبور ہوگئی کہ بغیر ’ن‘ کے انتخابات لڑے اور نون تو نون بلکہ بہت سارے دوسرے راہنماؤں کو بھی الزامات اور جیلوں کی سیر کرنا پڑگئی۔ اگرچہ عمران خان اس سے قبل مودی سے ملاقات کی چکے ہیں لیکن انہوں نے اس وقت کشمیر کا ذکر نہ کیا تھا۔ کیونکہ اس وقت وہ آزاد تھے اور ’’ جو بھی چاہیں وہی کریں ‘‘ پر عمل کر رہے تھے اور تب ان کا ہر عمل دودھ سے دھویا ہوا تھا۔ لیکن اب دوسری صورتحال ہے اب ان پر نظر رکھی جائے گی۔ ان کے ہر قدم کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا اور تنقید بھی سامنے آئے گی۔ بدقسمتی یا خوش قسمتی سے خان صاحب نے اپوزیشن میں رہتے ہوئے ایک تبدیل شدہ سیاسی کلچر روشناس کرایاہے۔ اب انہیں خود بھی اس کلچر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تبدیلی آگئی ہے اور اب اس تبدیلی کا انھیں خود بھی سامنا کرنا پڑے گا۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت اگلے پانچ سال کے لئے کس کے ہاتھوں میں ہوگی یہ تو جلد معلوم ہوجائے گا۔ تاہم اس معاملے میں بہت سارے مضامین پڑھنے کے بعد راقم کو سب سے سادہ اور واضح انداز میں جناب ہارون الرشید صاحب کا کالم باخبر لگا۔ ہارون الرشید صاحب ایک منجھے ہوئے صحافی کھلاڑی ہیں اور نہ صرف پی ٹی آئی بلکہ بہت سارے طاقتور اداروں کے اندر کی خبریں بھی رکھتے ہیں۔ پھر وہ حلقہ روحانیات میں بھی کافی سرگرم ہیں بلکہ انہوں نے عمران خان کو بھی اس راہ میں لگانے کے لئے کافی کوششیں کیں۔ جو بھی ہوا جیسا بھی نتیجہ نکلا تاہم ان کا کالم ’’ الفاظ نہیں عمل‘‘ اپوزیشن اور حکومت سب کو پڑھنا چاہیے ۔ خاص طور پر عمران خان کو ضرور پڑھنا چاہیے۔ ہارون صاحب کو ہمیشہ یہ گلہ رہا کہ ہمارے راہنما خاص طور پر نواز شریف کچھ پڑھتے نہیں ۔ اب انہیں اندازہ ہوجائے گا کہ تبدیل شدہ حکومت میں کون کون پڑھتا ہے اور کون کتنا دانشور ہے۔ ہارون صاحب کا یہ پیراگراف بہت غور کے قابل ہے۔ 

’’ کرکٹ میں ضرور لیکن سیاست میں عمران خان اپنی محدودات کو بھی نہ سمجھ سکا۔ 23سال کی عملی سیاست کے باوجود اب بھی اسکا سیاسی ادراک کم ہے۔ مشیر ادنیٰ تھے خود غرض یا سطحی‘‘ اللہ کر کے ہارون صاحب کا یہ اندازہ سامنے نہ آئے بلکہ اب عمران خان سیاسی ادراک بھی خوب کریں اور ان کی ٹیم بھی خوب مضبوط ہو۔ جہاں تک عمل اور نیت کا مسئلہ ہے ہم خاں صاحب کی نیت پر شک نہیں کرتے۔ اگرچہ وہ ہمیشہ پہلے ایک نیت کر کے ایک بیان دیتے پھر عملی کچھ دوسرا کر کے پھر اسکے لئے ایک نیا بیان دے دیتے۔ لیکن اب امید کامل ہے کہ وہ’’پہلے تول پھر بول‘‘ولاے فارمولے پر عمل کریں گے۔ 

۔

نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزید : بلاگ