اگلے مالی سال کیلئے وفاقی اخراجات کے تخمینے کوحتمی شکل دیدی گئی،دفاع کیلئے پندرہ فیصد اضافی رقم

اگلے مالی سال کیلئے وفاقی اخراجات کے تخمینے کوحتمی شکل دیدی گئی،دفاع کیلئے ...
اگلے مالی سال کیلئے وفاقی اخراجات کے تخمینے کوحتمی شکل دیدی گئی،دفاع کیلئے پندرہ فیصد اضافی رقم

  

اسلام آباد(این این آئی) وزارت خزانہ نے اگلے مالی سال کے لیے وفاقی اخراجات کے تخمینے کو حتمی شکل دے دی ہے جس کے تحت 171 ارب روپے کی رقم پنشن اور ریٹائرمنٹ کی مد میں دی جانے والی سہولتوں کےلئے 627ارب روپے کی رقم دفاعی خدمات اور 313ارب روپے سبسڈیز اور متفرق اخراجات کےلئے مختص کی گئی ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق دفاعی خدمات کےلئے مخصوص کی جانے والی رقم جاری مالی سال کے بجٹ میں مختص کی گئی رقم 545 ارب سے پندرہ فیصد زیادہ ہے۔اسی کے ساتھ ساتھ 33 ارب روپے کی رقم سول آرمڈ فورسز کی تشکیل کےلئے مختص کی جارہی ہے یعنی جاری سال کے دوران مختص کی گئی رقم انتیس ارب روپے کی رقم سے چار ارب روپے مزید شامل کیے گئے۔یاد رہے کہ یہ فرنٹیئر کانسٹیبلری کےلئے6.3ارب روپے ¾پاکستان کوسٹ گارڈ کےلئے ایک اعشاریہ پانچ ارب روپے، پاکستان رینجرز کےلئے آٹھ اعشاریہ سات ارب روپے اور وزارت داخلہ کے لیے مختص کیے گئے 8.7 ارب روپے کی رقم کے علاوہ ہوں گے۔جبکہ ایئرپورٹ سیکورٹی فورس کو 3.66 ارب روپے کی رقم دی جائے گی۔سبسڈیز اور متفرق اخراجات کی مد میں 313 ارب روپے کی رقم مختص کی جارہی ہے، یہ جاری سال میں مختص کی گئی رقم 465 ارب روپے کی رقم سے بتیس اعشاریہ سات فیصد کم ہے۔ عمر رسیدہ بزرگوں کو دی جانے والی پنشن اور ریٹائرڈ افراد کی پنشن کا تخمینہ ایک سو اکہتر اعشاریہ دو ارب روپے لگایا گیا ہے، جاری سال مخصوص کی گئی رقم 129 ارب روپے تھی، جس میں اس سال بتیس اعشاریہ پانچ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔امداد ی رقوم، گرانٹ اور صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان دیگر ایڈجسٹمنٹ کےلئے رقم کا اندازہ 87.4 ارب روپے لگایا گیا ہے جو اس سال جاری کی گئی رقم 84.3 ارب روپے سے تین اعشاریہ چھ فیصد زیادہ ہے۔کابینہ کے اخراجات میں اٹھارہ فیصد کا اضافہ تجویز کیا گیا ہے اور کیبنٹ ڈویژن کےلئے مختص کی جانے والی رقم کو تقریبا 43 فیصد تک بڑھا کر چار اعشاریہ سات ارب روپے تک کردیا گیا ہے۔ کیبنٹ ڈویژن کے دیگر اخراجات کی مد میں کیا جانے والے اضافہ تقریبا چھ اعشاریہ پانچ ارب روپے تک ہوگا۔جوہری توانائی کی مد میں مختص کی جانے والی رقم کو سترہ فیصد بڑھا کر چھ اعشاریہ تین ارب روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ دارالحکومت کی انتظامیہ کو دی جانے والی رقم میں 56 فیصد تک اضافہ کرکے چودہ ارب روپے فراہم کرنے کی تجویز ہے۔کامرس ڈویژن کے لیے مجوزہ رقم پانچ ارب روپے میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔لیکن مواصلات کے شعبے کے لیے مخصوص رقم میں آٹھ فیصد تک اضافہ کرکے چھ اعشاریہ چھ بلین تک کرنے کی تجویز ہے۔فنانس ڈویژن کےلئے چھبیس فیصد کا اضافہ تجویز کی گیا ہے اور مختص رقم اٹھارہ اعشاریہ دو چھ ارب روپے تک کی جارہی ہے، منصوبہ بندی کمیشن کےلئے رقم گیارہ فیصد تک کم کرکے چھیانوے کروڑ اسی لاکھ تک کی جارہی ہے۔ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو دی جانے والی رقم کو بڑھا کر 39 ارب روپے تک کرنے کی تجویزدی جارہی ہے، جاری سال میں یہ رقم 32 ارب روپے تھی پاکستان پوسٹ کےلئے رقم میں اضافہ کرتے ہوئے 12.8 سے اسے پندرہ ارب روپے کیا جارہا ہے۔قومی اسمبلی کےلئے 2.5 ارب روپے، جبکہ سینٹ کےلئے ایک اعشاریہ تین پانچ ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں ۔وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کےلئے چودہ ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے، جاری سال میں یہ رقم بارہ اعشاریہ پانچ ارب روپے تھی۔حکومت نے اگلے سال کےلئے ترقیاتی بجٹ کا تخمینہ تقریبا 450 ارب روپے تک لگایا گیا ہے، جاری سال میں یہ 360 روپے تھا۔

مزید :

بجٹ ۲۰۱۳ -