مارخور اداس ہیں

مارخور اداس ہیں
مارخور اداس ہیں

  

تحریر: ہدایت اللہ اختر(گلگت)

ہرانسان ہر دم اپنے شکار کی تلاش میں رہتا ہے اور ہرکوئی اپنی حیثیت کے مطابق اپنا شکار دبوچ لیتا ہے۔آپ سمجھ گئے ہونگے میں کیا کہنا چاہتا ہوں۔ پرانے وقتوں کا انسان جنگل میں رہا کرتاتھااور جنگلی جانوروں کا شکار کرکے اپنا پیٹ پالتا تھا ۔آج کا انسان شہر میں رہنے کے باوجود اپنی خوراک اور پاپی پیٹ کے لئے اب بھی ان جنگلی جانوروں کا ہی مختاج ہے۔کسی کو ان جنگلی جانوروں کی کھال چاہئے ہوتی ہے تو کسی کو ان کے سینگ۔ان چکروں میں حضرت انسان نے انسانوں کے ساتھ ساتھ ان جنگلی جانوروں کا بھی جینا دوبھر کردیاہے ۔اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ایک وقت ایسا آئیگا کہ آنکھیں ان جنگلی جانوروں کو دیکھنے کے لئے ترس جائینگی۔چند ایک سال سے پاکستان کے کئی خوشحال لوگ ان علاقوں میں شکار کے لئے آرہے ہیں لیکن ان میں سے اکثر تجاوز کرجاتے ہیں۔

ایک وقت تھا کہ گلگت بلتستان میں فری سٹائل پولو کی طرح جنگلی جانوروں کا شکار بھی فری سٹائل تھا جس کی جو مرضی جس طرح چاہے شکار کھیلتا۔جتنا چاہے جانوروں کو شکار بنائے ۔ شائد اس اصول کو اپناتے ہوئے گلگت میں انسانوں کا شکار بھی عام ہوا۔ یہ تو بھلا ہو فوجی ایکشن پلان کا کہ اب انسانوں کا شکار بند ہوا ہے، کچھ ایسا ہی فوجی ایکشن پلان کمیونٹی لیول پر جنگلی جانوروں پر بھی عائد کیا گیا ہے جس کے باعث اب جنگلی جانوروں نے بھی سکھ کا سانس لیا ہے۔ وہ اس لئے کہ ذبح یا مرنا تو ان کو انسانوں کے ہاتھوں ہی ہے ۔ ان جنگلی جانوروں کا کہنا ہے کہ یہ انسانوں کے مشکور ہیں کہ اب یہ ہمیں گن گن کر نہیں مارینگے۔ جی ہاں کمیونٹی لیول پر جنگلی جانوروں کے شکار کو ایک منظم طریقہ اپنایا گیا ہے۔ نصرت صاحب جو شوٹی گاﺅں کے رہنے والے ہیں انہوں نے ایک تنظیم بنائی ہے جو کارگاہ نالہ میں پاکستان کے قومی جانور مارخور کے شکار کو ایک منظم طریقے سے شکار کرنے کا بندوبست کرتی ہے۔ان ہی کی سرپرستی میں کمیونٹی لیول پر کاگاہ نالے کے پہاڑ وں میں مارخور کے شکار پر پابندی عائد کی گئی ہے اور اگر کسی نے مارخور کا شکار کرنا ہوتا ہے تو باقاعدہ اس کے لئے پہلے درخواست گزارنی پڑتی ہے پھر اس کے بعد ایک پراسس سے گزر کر مارخور کا شکار کیا جا سکتا ہے۔۔یوں مار خور کے شکار سے گاﺅں لیول میں قائم اس تنظیم کو ایک معقول آمدنی بھی حاصل ہوتی ہے جو فلاح و بہبود کے لئے کام میں لائی جاتی ہے۔نصرت صاحب کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصہ میں جس بے رحمی سے مارخور کا شکار کیا گیا اس سے یہ قیمتی جانور پرشان اور اداس ہوکر خوف کا شکار ہوگیا ۔پہاڑوں اور چراگاہوں میں چہل پہل کرنے والے مارخورنظروں سے معدوم کیا ہوئے ان پہاڑوں کی خوبصورتی ہی ختم ہوکر رہ گئی تھی۔

مقامی لوگوں میں بہت کم لوگ ایسے ہونگے جو اتنی طاقت رکھتے ہوں کہ بڑی رقم خرچ کریں البتہ بیرونی ممالک کے شکاری ہر سال گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں مارخور کے شکار کے لئے لاکھوں ڈالر خرچ کرتے ہیں اور مارخور کے شکار سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اس وقت کارگاہ گلگت ، نگر اور سکردو میں ایسی ہی تنظیمں کام کر رہی ہیں جو پاکستان کے قومی جانور مارخور کی نسل کو بڑھاوا دینے کے ساتھ ساتھ اسے ذریعہ آمدن بنانے کے لئے کوشاں ہیں۔

کارگاہ نالے میں تنظیم کے صدر نصرت کے ساتھ گپ شپ کے دوران ان تنظیموں اور شکار سے متعلق بہت ساری باتوں کے علاوہ شکار اور شکاری کے حوالے سے بات چیت ہوئی تو ان کی باتوں سے یہ چند خیالات ذہن میں ابھرے۔ ایک محاورہ ہے ہاتھی مر کر بھی سوا لاکھ کا۔ بالکل اسی طرح مارخور کے متعلق بھی یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔جیسا پہلے ذکر ہوا ہے مار خور پاکستان کا قومی جانور ہے جہاں یہ گلگت سکاؤٹس کے سر کا تاج بنا ہے ویاں یہ آئی ایس آئی کا سرکا ری نشان بھی اس کی بہت ساری تاولیں ہو سکتی ہیں۔ ویسے مارخور کے بارے ایک کہانی بھی بڑی مشہور ہے کہ یہ سانپ کو کھا جاتا ہے۔لہذا جو جانور سانپ کو مارسکتا ہے اسکی حفاظت کرنا ہم پاکستانیوں کی ذمہ داری ہے۔

مزید : بلاگ