درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 30

آدم خور

دوسرا بین فرق شیر اور بور بچے میں شکار کیے ہوئے جانور کو کھانے کا طریق ہے۔شیر اپنے شکار کی دم گوشت کھانے سے پہلے کتر کر پھینک دیتا ہے،بوربچہ ایسا نہیں کرتا۔شیر اپنے شکار کے پچھلے حصے یعنی دم کے نیچے اور دونوں رانوں کے بیچ سے کھانا شروع کر تا ہے۔اس کے برعکس چیتا اپنے شکار کو سینے کے پاس سے چیر کر کھانا شروع کر تا ہے۔
جو بوربچے انسانی آبادیوں کے قریب رہتے ہیں،وہ قدوقامت میں چھوٹے ہوتے ہیں اور نہایت ہوشیار، بے حد چالاک، نڈر اور سخت مضر ت رساں سمجھے جاتے ہیں۔رات کو گاؤں میں پھرنا، گھروں میں داخل ہونا، احاطے کی دیواریں کو دنا، بطخوں اور مرغیوں کے ڈربے ٹٹولنا، کتوں کو اٹھا لے جانا، ان ہی کے کرتوت ہیں۔ان سے بڑے یعنی متوسط قامت کے بوربچے وہ ہیں جو کھلے جنگلوں میں رہتے اور عام طور پر بکریوں یا شکار گاہوں کے محفوظ ہرنوں اور چھوٹی موٹی گایوں بھینسوں پر گزارہ کرتے ہیں۔ہوتے تو یہ بھی خطرناک ہیں مگر گھروں میں نہیں گھستے اور نہ گاؤں کی گلیوں میں گھومتے ہیں۔

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 29  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
میرے ایک پڑوسی دوست کے بنگلے کا احاطہ آٹھ فٹ اونچا تھا۔ ان کے بارہ قاز، ایک مہینے کے اندر اندر بوربچہ ہڑپ کر گیا۔انہی دنوں میرے دو پالتو کتے اور دو بکریاں بھی غائب ہوئیں۔پنجوں کے نشان سے انکشاف ہوا کہ ان جرائم کا ذمے دار کوئی بوربچہ ہے۔میں نے کئی بار چاندنی راتوں میں ایک محفوظ جگہ بیٹھ کر اس کا انتظار کیا۔آخر ایک رات وہ مارا گیا۔اس کا قد صرف چار فٹ دس انچ اور بائیس انچ اونچا تھا۔ دم کی لمبائی اکتیس انچ ۔اس کا چھوٹا قدر وقامت ہی اس قدر پھرتیلے ہونے کا سبب تھا۔ میرے پاس ایک زبردست اونچے قدکا نہایت زور آور مسٹیف کتا پلا ہوا تھا۔ایک روز میں نے اوسط قامت کے بوربچے کو اپنے احاطے کے کنارے صبح چار بجے کے قریب کھڑے دیکھا۔میرے پلنگ سے اس کا فاصلہ تیس گز سے زیادہ نہ تھا۔ غالباً وہ میرے کتے پر داؤ لگانے کی فکر میں تھا۔اگر میں اٹھتا تو بھاگ جاتا۔اس لیے میں نے لیٹے لیٹے اپنے مسٹیف کتے کو چٹکی بجا کر ہوشیار کر دیا جو میرے پلنگ سے تین چار قدم پر سو رہا تھا۔کتے کے کھڑے ہوتے ہی بوربچہ بھاگا کتے نے پیچھا کیا۔ روشنی نہ تھی اس لیے مجھے پتا نہ چل سکا کہ بوربچہ کتنی تیز گیا مگر یہ یقینی ہے کہ دو سو گز تک کتے کے ہاتھ نہ آیا۔آگے پہاڑ شروع ہو جاتا تھا،وہیں پتھروں میں غائب ہو گیا ہو گا۔
اسی پہاڑ کا واقعہ ہے کہ میرے اور فوجی رسالے کے پانچ کتوں نے ایک بوربچے کا تعاقب کیا۔ ان کتوں کو رسالے کے ایک دفعدار اپنے ساتھ خرگوشوں کے شکار پر لے گئے تھے۔ ان میں دو انگلش ہاؤنڈ اور دو بخارے شامل تھے۔انہوں نے چند چھلانگوں ہی میں اس بوربچے کو جالیا۔وہ پتھر سے کمر لگا کر کھڑا ہو گیا۔ کسی کتے کی مجال نہ ہوئی کہ قریب جا سکے۔اسکے بعد بل ٹیرئیر اور رسالے کے کتے پہنچ گئے اور گھیرا ڈال کر سب نے حملہ کرنا اور بھونکنا شروع کر دیا۔
دفعدار صاحب کے پاس توڑے دار بندوق تھی اور اس میں آپ نے چھرے بھر رکھے تھے۔دوسرے کتوں کی نسبت بل ٹیرئیر بوربچے کے زیادہ قریب تھا۔ دفعدار کو معلوم تھا کہ چھروں کا فائر کرنے سے کوئی فائدہ نہ ہو گا۔ انہوں نے سوچا کہ میرے بنگلے میں آئیں اور رائفل لے جاکر فائر کریں۔ان کا بیان ہے کہ وہ بمشکل چار پانچ قدم وہاں سے ہٹے ہوں گے کہ بوربچے نے زبردست حملہ کیا۔ کتے بھی دم دبا کر پیچھے ہٹے۔درندے نے غضب ناک ہو کر رسالے کے کتوں میں سے ایک کی کمر پکڑ کر اوپر اٹھایا اور اس چار فٹ اونچے پتھر کے پیچھے لے گیا جس سے چند لمحے قبل کمر لگائے کھڑا تھا۔وہاں اس کی گوی تھی۔اس میں کتے کو لے کر گھس گیا۔ دفعدار یہ سب ماجرا دیکھ رہے تھے۔بھاگتے ہوئے وہاں پہنچے تو گوی کے منہ پر سب کتوں کو بھونکتے پایا۔ گوی کا منہ تنگ تھا۔ دفعدار نے پتھروں سے اسے بند کر دیا۔ ایک دو آدمی اور آگئے۔سب نے مل کر خوب پتھر ٹھونسے اور کتوں کو لے کر واپس آگئے۔
میں اس وقت بنگلے پر نہ تھا۔ مجھے بریگیڈ آفس میں ٹیلی فون کیا گیا لیکن میرے آتے آتے دو گھنٹے لگ گئے۔بندوقیں اور رسالے والوں کا ایک جم غفیر لے کر میں وہاں پہنچا۔پتھر ہٹے ہوئے تھے۔خیال گزرا کہ درندہ نکل گیا مگر پتھر باہر کی طرف پڑے ہوئے تھے اور معلوم ہوتا تھا کہ کسی نے باہر سے پتھر ہٹائے ہیں۔پہلے تو سوچا کہ شاید بکریاں چرانے والے لونڈوں نے یہ حرکت کی ہے۔پھر جو سامنے تھے انہیں بلاکر پوچھا۔پتا چلا کہ دوسرا بوربچہ ان کی نظروں کے سامنے پتھروں کو پنجوں اور منہ سے ہٹا کر اندر گھسا ہے۔حیرت بھی ہوئی اور خوشی بھی۔پتھروں کے چاروں طرف گھوم پھر کر دیکھا۔کہیں دوسری طرف نکلنے کا راستہ نہ تھا۔خوب گھاس اور پتے جمع کر کے اس پر تیل اور دیسی بارود چھڑکا، پھر آگ دکھا دی۔بارود اور تیل کی وجہ سے گھاس اور پتے سب مشتعل ہو گئے۔ہم سب ایک طرف تیار کھڑے ہو گئے مگر بوربچہ نہ نکلا۔پھر پتے اور گھاس جمع کی گئی اور دوبارہ وہی عمل کیا گیا مگربے سود۔چار مرتبہ کوشش کے بعد دفعدار اور چند دوسرے لوگوں نے گوی کے منہ میں گھاس بھر کر اسے بانسوں سے خوب اندر کی طرف دھکیلا۔تھوڑا سا بارود پتوں پر ڈالا اور بارودہی کا ایک موٹا فلیتہ بنا کر گوی کے دہانے میں بڑے بڑے پتھر اڑا دیے۔ایسے کہ اگر درندہ نکلنا بھی چاہے تو نہ نکل سکے۔ فلیتے کو آگ دی گئی اور جب اندر کے پتے باروجود اور تیل کی وجہ سے بھر بھر جلنے لگے تو سب نے ہرے کا نعرہ لگایا اور واپس آگئے۔(جاری ہے )

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 31 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں