امریکہ آزاد فلسطینی ریاست کے موقف سے دستبردار

اداریہ


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ فلسطین اسرائیل تنازعے کا واحد حل دو ریاستوں کا قیام نہیں، ان کا کہنا تھا کہ امریکہ، اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن لانے کیس کام کے لئے تیار ہے، لیکن امن معاہدہ آخر کار اسرائیل اور فلسطینیوں کو خود ہی طے کرنا ہو گا۔ صدر ٹرمپ نے یہ بات اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ واشنگٹن میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔ انہوں نے امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا اور کہا کہ ایسا ہونا چاہئے،لیکن اِس حوالے سے ابھی بہت سا کام کرنا باقی ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اُنہیں یقین ہے کہ وہ امن ممکن ہے جس کی بات ایک عرصے سے کی جا رہی ہے۔انہوں نے نیتن یاہو سے بھی کہا کہ وہ فلسطینی علاقوں میں مزید یہودی بستیاں نہ بسائیں اور اس کے بدلے میں فلسطینیوں کو یہ مشورہ دیا گیا کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کر لیں، تنظیم آزادئ فلسطین (پی ایل او) کی مجلسِ عاملہ کی ایک رکن نے کہا ہے کہ یہ پالیسی کوئی ذمہ دارانہ حکمت عملی نہیں اور اِس سے امن کا مقصد حاصل نہیں ہو گا۔
امریکہ اوسلو معاہدوں کے بعد سے فلسطین کے مسئلے کا حل اور امن کا قیام اسرائیل کے ساتھ ساتھ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام میں دیکھتا رہا ہے اور یکے بعد دیگرے آنے والے صدور نے اِس پالیسی کو جاری رکھا۔ ربع صدی سے زیادہ عرصے کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ امریکہ نے فلسطین کی آزاد ریاست کے تصور سے دستبرداری کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے اور فلسطینیوں کی اشک شوئی کے لئے نیتن یاہو سے کہا ہے کہ وہ فلسطینی علاقے میں مزید یہودی بستیاں نہ بسائیں۔ سلامتی کونسل نے صدر اوباما دَورکے آخری ایام میں ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں اسرائیل کو اِن بستیوں کی تعمیر سے روکا تھا لیکن یہودی ریاست کے وزیراعظم نے ہٹ دھرمی کی اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے اس قرارداد کو مسترد کر دیا تھا اور صدر اوباما پر زبردست نکتہ چینی کی تھی کہ اُن کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے یہ قرارداد منظور ہو گئی۔
اِس دوران ٹرمپ صدر منتخب ہو چکے تھے اور انہوں نے اپنے اسرائیلی دوستوں کو تسلی دی تھی کہ وہ اُن کے چارج سنبھالنے کا انتظار کریں، جونہی صدر ٹرمپ نے عہدہ سنبھالا (20جنوری2017 ء) اسرائیل نے یہودی بستیوں کی تعمیر کا اعلان کر دیا۔ صدر ٹرمپ نے آتے ہی نیتن یاہو کو دورۂ امریکہ کی دعوت دی اب اُن کے دورے کے دوران اسرائیل کو دو ریاستی فارمولے سے امریکہ کی دستبرداری کا تحفہ دیا گیا ہے اور بزعم خویش یہ بہت بڑی دانشوری دکھائی گئی ہے کہ ضروری نہیں مشرقِ وسطیٰ میں امن فلسطینی ریاست کے قیام سے ہی ہو یہ اس کے بغیر بھی ممکن ہے اور یہودی بستیاں تعمیر نہ کرنے کے اسرائیلی وعدے کے جواب میں فلسطینیوں کو اسرائیل کو تسلیم کر لینا چاہئے۔
صدر ٹرمپ کی اِس ’’سادگی‘‘ پر کس کا دِل مر جانے کو نہیں چاہے گا، جو امریکہ لگ بھگ تین عشروں تک امن کا قیام آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے اندر دیکھتا رہا اس کے صدر پر اچانک القا ہوا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام سے تو امن قائم نہیں ہو گاالبتہ اگر فلسطینی یہودی ریاست کو تسلیم کر لیں تو امن قائم ہو جائے گا۔ لگتا ہے امریکی صدر اسرائیل کی محبت میں تمام حدود و قیود پھلانگ کر ہی اِس عجیب و غریب نتیجے پر پہنچے ہیں اب تک اسرائیل کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہی فلسطینی ریاست قائم نہیں ہو سکی اور کئی امریکی صدور کو اِس بات کا رنج رہا کہ امریکہ اصولی طور پر اس تصور کا حامی ہونے کے باوجود اِس سلسلے میں عملاً کچھ نہیں کر سکا یا یوں کہہ لیں کامیاب نہیں ہوا۔ اقوام متحدہ اور بہت سے یورپی ممالک بھی مشرقِ وسطیٰ میں امن کا قیام آزاد فلسطینی ریاست کی صورت میں دیکھتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتوینو گونیرش نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے دو ریاستی حل کے لئے سب کچھ کیا جانا چاہئے۔اگر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے خیال میں دو ریاستی حل ہی امن کے قیام کا ضامن ہے تو اُنہیں اس سلسلے میں عالمی برادری کے تعاون سے عملی اقدامات کرنے چاہئیں اور یہ معاملہ سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی دونوں ایوانوں میں زیر بحث لانا چاہئے۔ سلامتی کونسل میں تو شاید امریکہ ویٹو کا حق استعمال کر کے اس کا راستہ روک دے لیکن جنرل اسمبلی کو پیش رفت کرنا ہو گی۔
ایسے محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیل یہودی بستیوں کی تعمیر کو دباؤ کے حربے کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے اور فلسطینیوں کو مجبور کر کے اسرائیل کو تسلیم کرانے کی راہ ہموار کرنا چاہتا ہے،لیکن بظاہر اس امر کا کوئی امکان نہیں کہ فلسطینی اس نامعقول تجویز پر رضا مند ہو جائیں گے۔کیا صدر ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ دو ریاستی حل سے دستبردار ہو کر وہ فلسطینیوں کو کوئی ایسا لالی پاپ دینے میں کامیاب ہو جائیں گے، جس کی وجہ سے فلسطینی ریاست قائم ہوئے بغیر امن بھی ممکن ہو سکے؟ یہ شاطرانہ چال جو بظاہر فلسطینیوں کو مطمئن کرنے کے لئے چلی گئی ہے جلد ہی ناکام ہو جائے گی اس چال سے صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو تو خوش کر دیا ہے اور نیتن یاہو نے یہ کہہ بھی دیا ہے کہ یہودیوں کا صدر ٹرمپ سے بڑھ کر کوئی خیر خواہ نہیں، لیکن اس سے امن کے قیام میں بہرحال کوئی مدد نہیں ملے گی۔ اسرائیل اگر امن چاہتا ہے تو1967ء کی جنگ سے پہلے کی سرحدوں پر واپس چلا جائے اور فلسطینی علاقے میں آزاد فلسطینی ریاست کا حق تسلیم کر لے اس کے بغیر مشرقِ وسطیٰ میں امن کا قیام خواب و خیال ہی رہے گا۔
نیتن یاہو کی موجودگی میں صدر ٹرمپ نے لگے ہاتھوں ایران نیو کلیئر ڈیل کی بھی ایک بار پھر بھد اڑا دی ہے اور کہا ہے کہ یہ بدترین معاہدہ تھا، چونکہ صدر ٹرمپ اس سارے معاملے کو اسرائیلی عینک سے دیکھتے ہیں اِس لئے اُنہیں یہ معاہدہ ایک آنکھ نہیں بھاتا، حالانکہ ایران کا یہ معاہدہ صرف امریکہ کے ساتھ نہیں،پانچ دوسرے ترقی یافتہ ممالک بھی اس میں فریق ہیں،لیکن اسرائیل کو چونکہ یہ معاہدہ منظور نہیں اور اس نے ہر ممکن جتن کر کے دیکھ لیا تھا کہ یہ معاہدہ نہ ہو،لیکن صدر اوباما اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور انہوں نے کانگرس کے یہود نواز ارکان کی مخالفت کے باوجود ایران کے ساتھ یہ معاہدہ کر لیا۔ اسرائیل اس کا اِس لئے مخالف ہے کہ ایران مشرق وسطیٰ میں غاصب ریاست کو ہمیشہ آڑے ہاتھوں لیتا ہے اور اس کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کا ناقد ہے۔ ایرانی قیادت تو اسرائیل کو صفحۂ ہستی سے نابود کرنے کی بات بھی کر چکی ہے غالباً اس کا بدلہ لینے کے لئے وہ امریکی صدر پر دباؤ ڈال کر یہ معاہدہ بھی ختم کرانا چاہتے ہیں،لیکن اس سے اور کچھ ہو نہ ہو امن کی کوئی خدمت نہیں ہو گی اور مشرقِ وسطیٰ پہلے کی طرح دہکتا رہے گا۔