سفر سہل تو نہ تھا... قسط 9

سفر سہل تو نہ تھا... قسط 9
سفر سہل تو نہ تھا... قسط 9

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

دیکھو میں نے تمھیں اس لئے آج خاص طور پر کال کی ہے میرے کزن سکندر وہی جن کا میں ذکر کرتی تھی عالمگیر کنوارے وہ آج کل لندن میں ہیں کاروباری مصروفیات کے سلسلے میں ، میں ان کے لئے اچھی سی لڑکیاں ڈھونڈ رہی ہوں   پھر سوچا کہ اچھی سی لڑکی تو ہماری نظروں کے سامنے ہے یعنی کہ تم ۔۔دیکھو یار تم پر کوئی دبائو نہیں پر تم نے کہیں نہ کہیں تو شادی کرنی ہی ہے ایک بار سکندر بھائی سے بھی مل لو "شازیہ زور دیتے ہوئے بولی 
" پر میں ایسا کیسے کر سکتی ہوں میں کسی سے بھی ملنے کے موڈ میں نہیں ۔ابھی چند دن میں پاکستان واپسی ہے بہت کام ہیں مجھے ۔" لاریب نے گویا جان چھڑائی ۔
" دیکھو تم ایسے تو ہر گز نہیں کر سکتی کوئی اگر مگر نہیں ، تم صرف آدھا گھنٹہ نکال لینا کافی ہے بس میں سکندر بھائی کو تمھارا نمبر دے رہی ہوں تم ان سے ایک بار مل کر تو دیکھو کیا پتہ وہ تمھیں پسند ہی آ جائیں " شازیہ نے اتنا اصرار کیا کہ لاریب نے سکندر سے ملاقات کی حامی بھر لی
آج صبح سے ہی وہ بہت سستی کا شکار ہو رہی تھی اور دفتر سے چھٹی کا پلان بنائے بیٹھی تھی ، ناشتہ کر کے ٹی وی پر نیوز دیکھنے لگی تو موبائل کی رنگ ٹون بجنے لگی ۔
ہیلو کہتے ہوئے اس نے ٹی وی کا والیوم کم کیا " جی کون سکندر ؟ اوہ اچھا جی بالکل بالکل شازیہ نے آپ کو ذکر کیا تھا آج تو مجھے گھر پر کافی کام ہے اگر آپ کل کوئی مناسب وقت رکھ لیں تو بہت مہربانی ہو گی ۔۔۔
دوسری طرف سکندر یہ سوچتا جا رہا تھا کہ یہ آواز اس نے پہلے کہاں سنی تھی اس نے یہی سوال لاریب سے بھی کر دیا " مس لاریب مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہماری ملاقات پہلے بھی کہیں ہو چکی ہے ، شاید آپ کی آواز پہلے سے سنی ہوئی لگتی ہے ۔
" شاید لیکن میرا نہیں خیال کہ میری اور آپ کی ملاقات پہلے کبھی ہوئی ہے ۔اصل میں بہت سے لوگوں کی آوازیں بھی ملتی جلتی ہوتی ہیں ہو سکتا ہے آپ کسی اور کی آواز کی ساتھ مکس کر رہے ہوں ۔۔" لاریب نے تھوڑی بے نیازی دکھائی
" چلئیے اس بحث کو چھوڑیے آپ کل کے لئے کوئی وقت اور جگہ کا انتخاب کر لیجئیے جہاں آپ سے بات چیت ہو سکے چاہے مختصر ہی سہی  ۔" سکندر چاہتا تھا کہ بات کو کسی طرح طول دے اور یہ خوبصورت آواز اس کی سماعتوں میں رس گھولتی رہے ۔۔۔لیکن لاریب کو خدا حافظ کہنے کی بہت جلدی تھی سو وہ جلدی ہی فون بند کر گئی   ۔
سکندر اپنے موبائل کو گھورتا ہی رہ گیا ۔۔۔وہ خواتین کی محفل کا رسیا نہیں تھا بلکہ اپنی ریپوٹیشن کا اسے ہمیشہ خیال رہتا ہے لیکن اس لڑکی کی آواز اور انداز میں کوئی خاص بات تھی جو وہ اسی کے متعلق سوچے چلا جا رہا تھا
اگلی شام بہت خوشگوار تھی وہ بہت دل سے لاریب سے ملاقات کے لئے تیار ہوا تھا ، گرے پینٹ سوٹ اس کے دراز قد پر جچ رہا تھا ، ٹائی لگا کر کلون سپرے کیا اور گاڑی کی چابی اٹھا لی ۔۔۔آج اس کا موڈ بہت اچھا تھا اسی وجہ سے وہ ایک پرانا گانا گنگنانے لگا  
پارکنگ میں گاڑی لاک کر کے مڑا ہی تھا تو اسی حسین دلربا کو دیکھا جو اب تک اس کے حواسوں پر چھائی ہوئی تھی " اوہ واہ یہ یہاں کیا کرنے آئی ہوئی ہے ، خیر شکر آج اس کے لئے میں نے کوئی مشکل نہیں بنائی ورنہ پھر جھگڑنے آ جاتی
انہی سوچوں میں گم وہ ریسٹورنٹ میں داخل ہوا ، لیکن ایک خالی ٹیبل پر وہ لڑکی بھی بیٹھی تھی کیا مصیبت ہے اب پھر اس سے ٹاکرا ہو جائے گا اور پتہ نہیں کیا کیا کہے گی ؟
مس ؟ آپ پلیز کسی کا ویٹ کر رہی ہیں شاید؟ اس نے خود ہی آگے بڑھ کر لاریب سے سوال کیا لاریب جی کہہ پھر خود میں مگن ہو گئی
سکندر نے سوچا کہ مجھے کیا نہیں بتانا چاہتی تو مت بتائے مجھے لاریب کو کال کرنی چاہیے ۔۔۔لیکن .. جاری ہے ۔۔  گزشتہ حصہ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں۔ آخری قسط پڑھنے  کیلئے یہاں کلک کریں۔

۔

نوٹ: یہ مصنفہ کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں او ر اس میں پیش کیے گئے تمام نام فرضی ہیں، کسی سے مماثلت محض اتفاق ہوگا۔ 

 ۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -