شہنشاہ اکبر کے خلاف شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 57

اولیاء اللہ اور صالحین سے محبت
حضرت سیّد چراغ محمد شاہ قدس سرہ اولیاء اللہ کی محبت کو واجب سمجھتے تھے۔ مشائحنن قادریہ نوشاہیہ کے علاوہ دوسرے سلسلوں کے بزرگوں کا بھی بڑا احترام کرتے تھے۔
حضرت مجدد اعظم نوشہ گنج بخشؒ کے ساتھ تو عقیدت کا یہ عالم تھا کہ جب آپ حضور کا اسم گرامی سنتے تو آپ پر وجد طاری ہو جاتا۔ آپ فرماتے تھے کہ اولیاء اللہ کی محبت اللہ تعالٰی کی محبت اور ان کی عداوت اللہ تعالٰی کی عداوت ہے۔

قسط نمبر 56 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
اہل بیت اطہار سے محبت
آپ کو اہل بیعت پاک علیھم السلام سے انتہائی عقیدت تھی اور سید الشہدا حضرت امام حسین علیہ السلام سے والہانہ عشق تھا۔ عشرہ محرم میں مظلومان کربلا کے فضائی، مناقب اور مصائب بیان کرنا اور سننا آپ کا معمول تھا۔ ہمیشہ نویں اور دسویں محرم کو روزہ رکھتے تھے اور دسویں محرم کو ظہر کے وقت شہدائے کربلا کو ایصال ثواب کرتے اور غربا میں کھانا تقسیم کرتے تھے۔
کرامات و خوارق
حضرت قطب الاقطاب سیّد چراغ شاہ قدس سرہ کے کرامات کا بڑی کثرت کے ساتھ صدور ہوا اور ہزاروں بزرگان خدا آپ کی ذات گرامی سے بہرہ ور ہوئے ہیں۔
سردرد سے نجات
گلاب دین ساکن موضع سسرال نے بیان کیا کہ مجھے عرصہ سے شدید دردِ سر تھا۔ ایک روز میں نے حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر دعا کی التجا کی۔ آپ نے دعا فرمائی تو اس وقت مجھے آرام آ گیا۔
حصولِ اولاد
نیک محمد آف گوند نے بیان کیا کہ میرے گھر میں اولاد نہ تھی۔ ایک روز میں نے قطب الاقطابؒ کی بارگاہ عالیہ میں حاضر ہو کر دعا کی درخواست کی تو آپ نے چنبیلی کا ایک پھول عنایت کیا اور فرمایا کہ اللہ تعالٰی تجھے ایک لڑکا عطا کرے گا چنانچہ حضور کے ارشاد کے مطابق میرے گھر لڑکا پیدا ہوا۔
ایک عجیب تصرف
سائیں جمعہ خاںؒ سے مروی ہے کہ ایک روز حضرت قطب الاقطاب میرے گھر میں جلوہ افروز تھے۔ سردیوں کا موسم تھا۔ میں آپ کو چارپائی کے قریب چٹائی پر لیٹا ہوا تھا جب آدھی رات ہوئی تو آپ اچانک اٹھ کر باہر نکل گئے تو میں لالٹین لیکر باہر نکلا لیکن آپ صحن میں موجود تھے جب میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو آپ چارپائی پر استراحت فرما تھے لیکن جب میں اندر آیا تو چارپائی خالی تھی۔ تین چار دفعہ یہی معاملہ پیش آیا جب میں باہر نکلتا تو آپ اندر نظر آتے اور جب اندر سے باہر جاتا تو صحن میں دکھائی دیتے۔
ایک شتربان کو گستاخی کی سزا
درگاہ عالیہ کے تالاب پر ایک پیپل کا درخت تھا جس کے سائے میں مسافر آ کر بیٹھتے تھے۔ ایک روز عالم نامی ایک شتربان نے اسے کاٹ کر اونٹوں کو کھلانا شروع کر دیا۔ اس روز حضور گھر نہ تھے۔
دوسرے روز بھی شتربان مذکور نے اس کے ڈال کا ٹکر اونٹوں کے آگے ڈال دئیے اس روز حضور گھر میں موجود تھے آپ نے اسے منع کیا لیکن وہ باز نہ آیا بلکہ تمسخر کے انداز میں بولا کہ اس پیپل کے پتے بڑے میٹھے ہیں اور میرے اونٹ بڑی رغبت سے کھاتے ہیں۔
حضور نے فرمایا اس کے پتے میٹھے نہیں کڑوے ہیں۔ شتربان نے آپ کے ارشاد کی کوئی پرواہ نہ کی اور تمام دن اونٹوں کو پیپل کاٹ کاٹ کر کھلاتا رہا لیکن جب عصر کا وقت ہوا تو دونوں اونٹ تڑپ تڑپ کر ہلاک ہو گئے۔
موت کے منہ سے خلاصی
ستار محمد آف گوند نے بیان کیا کہ ایک دفعہ ایک موذی مرض میں مبتلا ہو گیا۔ شدت مرض سے بے تاب ہو گیا اور موت کے آثار نمودار ہو گئے۔ میرے والد کی درخواست پر آپ ہمارے گھر تشریف لائے۔ اس روز میری حالت سخت خطرناک ہو گئی ۔ آپ نے میرے سرہانے بیٹھ کر باآواز بلند تین بار دعا فرمائی۔چنانچہ اسی وقت مجھے صحت حاصل ہو گئی اور میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔
قطب الاقطاب ایک باکمال ہستی تھے۔آپ کی ایک نگاہ سے لوگوں کا بھلا ہوجاتا اور اگر کوئی کینہ و تعصب کا اظہار کرتا تو وہ اپنی بدنیتی کا پھل پالیتا۔اللہ داد ولد محمد کاشم آف موہری نے بیان کیا کہ ایک روز حضرت قطب الاقطاب گھوڑی پر سوار ہو کر کہیں جا رہے تھے۔ جس گھوڑی پر آپ سوار تھے وہ بڑی کمزور اور پستہ تھی۔ ایک سوار آپ کے قریب سے گزرا۔ اس کی گھوڑی بڑی فربہ اور دراز تھی آپ کو دیکھ کر اس نے بطور تمسخر کہا’’ بابا! یہ مادی کس ملک سے منگوائی ہے؟ خیال رکھنا کہیں تمہیں گرا نہ دے۔‘‘
حضرت قطب الاقطابؒ نے یہ سن کر جب اس کیجانب نظر اٹھا کر دیکھا تو سوار مذکور مع گھوڑی منہ کے بل گرا پڑا اور حضور سے خواستگار معافی ہوا۔
علامہ حافظ محمد انور نوشاہی سیالکوٹی نے بیان کیا کہ میں دارالعلوم جامعہ نعیمیہ لاہور میں پڑھتا تھا ۔وہاں یہ دستور تھا کہ ہر جمعرات کو طلبا آپس میں بحث مباحثہ کرتے تھے اور علمی مسائل پر گفتگو ہوتی تھی۔
ایک دفعہ نذیر نامی ایک طالب علم سے میری بحث ہونی تھی، اسے مشہور منطقی حضرت علامہ قاضی غلام محمود ہزاروی نے ایک اعتراض بتایا تھا اور کہا تھا کہ قیامت تک کوئی شخص نحو کا جواب نہ دے سکے گا۔
شرح جامی سے حاصل محصول کی بحث تھی ۔زیر بحث لفظ من تھا ازروائے منطق جزی کلی پر صادق آ سکتی ہے جیسے زید بو ل کر اس سے انسان مراد لیا جا سکتا ہے اور من ابتدائے جزی کیلئے وضع ہے اس قانون کے تحت اسے کسی وقت کلی پر صادق آنا چاہئے جو کہ ابتدا ہے اور اہم ہے لہٰذا لفظ من حرف سے نکل کر اسم بن گیا۔

جاری ہے