امریکی صدر کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کر نا سفارتی دہشت گردی ،اسلامی فوجی اتحاد کا دائرہ اب وسیع کرنا ہوگا: سینیٹر ساجدمیر

قومی

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان سینیٹر پروفیسر ساجدمیر نے امریکی صدر کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کر نے کے اقدام کو سفارتی دہشت گردی قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ نے یہ اقدام اٹھا کر   دراصل مسلمانوں کے خلاف”طبلِ جنگ بجایا گیا ہے، ہم اسے فلسطین میں قیام امن کی کوششوں کے لئے موت کا پروانہ سمجھتے ہیں،امریکہ آگ سے مت کھیلے، امریکی صدر کے اس اقدام کی وجہ سے خطے میں افراتفری اور خانہ جنگی کا خطرہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے خلاف دفاع پاکستان کونسل اور جماعت الدعوۃ کا ملک بھر میں احتجاج، امریکہ و اسرائیل کے خلاف شدید نعرہ بازی

سینیٹر پروفیسر ساجد میر کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینا اسلامی دنیا خصوصا عرب دنیا کے لیے بہت بڑا ا لمیہ ہے، خطے میں قیام امن کے خواہش مند وں کے لیے بہت بڑا دھچکہ ہے، اس اعلان کے بعد خطے میں امن کی کوششوں کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک کو اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہو گا  جبکہ  اسلامی فوجی اتحاد کا دائرہ بھی  اب وسیع کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ سفارتی جارحیت کا بھی راستہ روکنا ہو گا، امریکی صدر نے یہودی لابی کو خوش کیا، ان سے خیر کی کوئی توقع نہیں رہی۔

ڈیلی پاکستان کا یو ٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کے لیے یہاں کلک کریں