سٹریٹ فائٹرکی ان کہی داستان، تینتالیسویں قسط

زیادہ وائڈ بال دینے کے عدالتی سوال پر وسیم اکرم نے کہا کہ میں ویسے بھی زیادہ وائڈ بال دیتا ہوں کیونکہ جب مخالف پر اٹیک کیا جائے گا تو یقیناً وائڈ بال بھی آسکتا ہے تاہم یہ الزام غلط ہے کہ میں جان بوجھ کر وائڈ بال پھینکتا تھا اور میں اتنا ماہر بھی نہیں ہوں کہ جان بوجھ کر ایسا کروں۔بنگلہ دیش کے224سکور بنانے کے باوجود ہمارا خیال تھا کہ ہم آسانی سے میچ جیت جائیں گے ویسے ان میچوں میں شروع میں ہماری بیٹنگ زیادہ نہیں چلی لیکن سپر سکس کے بعد ہی بیٹنگ چلتی ہے یہ کہنا درست نہیں کہ سلیم ملک وغیرہ تیار ہی نہیں تھے اس کے باوجود انہیں کھلایا گیا۔ وسیم نے کہا کہ انضمام الحق اور اظہر محمود کے رن آؤٹ ہونے میں کوئی بری نیت نہیں تھی بلکہ یہ صرف مس ججمنٹ کی وجہ سے ہوا۔

بتالیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
جسٹس بھنڈاری نے کہا کہ سرفراز نواز نے کہا تھا کہ بنگلہ دیش کے ساتھ میچ سے پہلے ہی وہاں قائم بیٹنگ شاپس پاکستان کے ہارنے کی باتیں کررہی تھیں آخر وہ ایک ایسے معاملہ پر کیوں بیٹنگ کررہے تھے کہ ایک بچہ پہلوان کو چت کر دے گا۔ وسیم اکرم نے کہا کہ سب الزامات لگاتے ہیں ثبوت کوئی نہیں دیتا۔ کمیشن اس بارے میں کچھ کرے۔ایسے ماحول میں کھلاڑی کیسے اچھا کھیل پیش کریں آج میں کمیشن کے روبرو کسی کا نام لئے بغیر اورکوئی ثبوت دئے بغیر اس پر الزام لگا دوں توکل اخبارات میں خبریں شائع ہوں گی۔ اس سے اس کھلاڑی اور اس کے خاندان کی عزت اور سکون تو برباد ہو گیا۔عدالت نے کہا کہ کمیشن اسی لئے یہ انکوائری کررہا ہے کہ اگر ٹیم پر میچ فکسنگ کے الزامات درست نہیں تو پھر کھلاڑیوں کو کلیئر کرکے ہمیشہ کے لئے یہ باب بند کر دیا جائے اور اگر کسی کے خلاف ثبوت ہے اور خواہ وہ کتنا ہی بڑا کھلاڑی ہے اسے نکال باہر کیا جائے۔
کمیشن نے کہا ماجد خان جیسے ذمہ دارشخص نے بھی کمیشن کو بیان میں کہا کہ ہماری ٹیم بک چکی تھی اور آپ نے بھی بیان دیا کہ ہم اپنے بھائیوں سے ہارے ایسی باتیں دوسرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔
وسیم اکرم نے کہا کہ میں بھی اس ہوٹل میں تھا۔ لابی میں کسی نے مجھے یہ نہیں کہا کہ ہم بنگلہ دیش سے کیوں ہارے ہیں؟ صرف ماجد خان اور سرفراز نواز کو ہی لوگوں نے کیوں یہ کہا۔ویسے ماجد خان اچھا آدمی ہے مگر میرا اس کے بارے نقطہ نظر مختلف ہے ۔پاکستانی ٹیم کو چلانا بڑا مشکل کام ہے۔
وسیم نے کہا بطور کپتان ہار جیت میرے لئے گیم کا حصہ ہے ۔بنگلہ دیش ٹیم بھی مسلمان ہے اور اگر میں نے یہ کہہ بھی دیا کہ ہم اپنے بھائیوں سے ہارے ہیں تو کیا ہوا۔ ایک سوال پر وسیم اکرم نے کہا کہ میں احسان مانی کو جانتا ہوں۔ وہ بڑے اچھے آدمی ہیں ۔میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں کہ احسان مانی اور ڈالمیا میچ فکسنگ کرتے ہیں یا نہیں۔بھارت کے ساتھ میچ کے حوالے سے عدالتی سوالوں کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ بھارت کے ساتھ میچ کھیل نہیں بلکہ جنگ ہوتی ہے ۔گراؤنڈ میں پاکستانی اور بھارتی شہریوں کا شور ہی لے ڈوبتا ہے۔پاکستان کی ٹیم دباؤ میں بہت کم ’’چیز‘‘ہوتی ہے۔ وسیم اکرم نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین بھی آئے دن بدلتے رہتے ہیں۔ ان کے ساتھ پوری انتظامیہ اور کپتان بھی بدل جاتے ہیں۔ ہمارے پاس کوئی سائنٹیفک طریقہ نہیں البتہ دعا کرکے جاتے ہیں قبول ہو جائے تو جیت کر آتے ہیں نہ قبول ہوتو ہار کے آتے۔
اس پر کمیشن نے کرکٹ بورڈ کے وکیل سید اصغر حیدر سے کہا کہ وہ اس نکتہ کو نوٹ کرکے متعلقہ حکام سے بات کریں۔اگر بورڈ کے چیئرمین کی اس طرح آئے دن تبدیلی ہوتی رہے گی تو پھرتو یہ ایڈہاک ازم ہی ہے۔
اصغر حیدر نے عدالت سے کہا کہ کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا تقرر قانون کے مطابق 3سال کے لئے ہوتا ہے مگر ہمارے یہاں کوئی بھی اپنی میعاد پوری نہیں کرتا۔ اس پر عدالت نے کہا کہ ہمارے ملک میں یہی کچھ ہو رہا ہے اسی لئے ادارے پنپ نہیں سکتے۔
عدالتی استفسار پروسیم اکرم نے کہا کہ جسٹس قیوم کمیشن نے انہیں3لاکھ روپے جرمانہ کیا تھا جس کے خلاف کرکٹ بورڈ کے روبرو اپیل دائرکی گئی ہے۔ایک سوال پر وسیم اکرم نے کہا کہ احتساب بیورو نے بھی میچ فکسنگ کے حوالہ سے تحقیقات کیں۔مجھے بھی بلایا گیا ۔میرے اثاثے وغیرہ چیک کئے مگر کچھ نہیں ملا۔ایک سوال پر وسیم نے کہا کہ بنگلہ دیش سے میچ کے موقع پر حکومت کا ٹیم پر کوئی دباؤ نہیں تھا۔ کمیشن نے وسیم اکرم سے سوال کیا کہ کمیشن کو بتایا گیا ہے کہ آپ کے اثاثے آپ کی آمدن سے زیادہ ہیں۔اس پر وسیم اکرم نے کہا کہ میں عدالت کے روبر و اپنے اثاثوں اور ٹیکس کی دائیگی کا تمام ریکارڈ پیش کرنے کو تیارہوں ۔میرا ذریعہ معاش صرف کرکٹ ہے میچ کھیلنے، کاؤنٹی کھیلنے اورسپانسر کمپنیوں سے مجھے کافی آمدن ہے۔وسیم اکرم نے کہا بے بنیاد الزامات لگانے کے رجحان کو ختم کرنے کے لئے اخبار والے عوام کی تربیت کر سکتے ہیں اس پر عدالت نے کہا ہمارے ملک میں قانون موجود ہے کہ اگر کوئی غلط الزام لگائے تو اس کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا جائے۔ میں آپ کو تجویز کروں گا کہ آپ لوگ اپنے اوپرالزامات لگانے والوں کے خلاف ضرور دعوے دائر کریں۔
وسیم ا کرم نے کہا کہ ہمارے پرانے ساتھی ہی ہم پر الزامات لگاتے ہیں اگر ایسے الزامات لگانے بند کر دیئے جائیں تو ہماری ٹیم دنیا کی بہترین ٹیم ہو گی کیونکہ یہ کھیل جسمانی سے زیادہ ذہنی مشقت کا کھیل ہے۔عدالت نے وسیم اکرم سے کہا کہ وہ اپنی تحریری تجاویز کمیشن کو فراہم کریں۔
جسٹس کرامٹ بھنڈاری کمیشن کی کارروائی جاری تھی کہ عالمی کرکٹ تنظیم نے وسیم اکرم کو اس کی شاندار خدمات پر ’’سر‘‘ کا خطاب دینے کا فیصلہ کیا لیکن اس کا انحصار کمیشن کی رپورٹ پر ہوگا۔اگر کمیشن نے وسیم اکرم کو مشکوک اور سزا وارکرکٹر ڈکلیئر کیا تو ممکن ہے اسے’’سر‘‘ کا خطاب نہ ملے۔ لیکن وسیم اکرم کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ وہ’’سر‘‘ کاخطاب حاصل کرنے کے لئے بہت زیادہ’’محنت‘‘ کررہا ہے۔اس نے جسٹس قیوم کے فیصلے کے خلاف بورڈ میں اپیل کر دی ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ اپنی معصومیت کی سند حاصل کرنے کے بعد عالمی کرکٹ تنظیم سے یہ خطاب وصول کرنے میں حق بجانب ہو گا۔بورڈ اس کی اپیل پر کیا فیصلہ کرتا ہے اس بارے میں ماہرین کرکٹ کا کہنا ہے کہ بورڈ بہرحال جسٹس قیوم کی انکوائری اور فیصلے کو کالعدم قرار نہیں دے سکتا۔
جسٹس کرامٹ نذیر بھنڈاری نے کم و بیش ایک سال کی عدالتی تحقیق کے بعد جولائی2002ء میں وسیم اکرم کو ہر طرح کے الزامات سے بری کر دیا۔اس مقدمہ سے باعزت نجات حاصل کرنے کے بعد اس کا حق بن گیا ہے کہ اسے’’سر‘‘کا خطاب دیا جائے۔

جاری ہے۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

دنیائے کرکٹ میں تہلکہ مچانے والے بائیں بازو کے باؤلروسیم اکرم نے تاریخ ساز کرکٹ کھیل کر اسے خیرباد کہا مگرکرکٹ کے میدان سے اپنی وابستگی پھریوں برقرار رکھی کہ آج وہ ٹی وی سکرین اور مائیک کے شہہ سوار ہیں۔وسیم اکرم نے سٹریٹ فائٹر کی حیثیت میں لاہور کی ایک گلی سے کرکٹ کا آغاز کیا تو یہ ان کی غربت کا زمانہ تھا ۔انہوں نے اپنے جنون کی طاقت سے کرکٹ میں اپنا لوہا منوایااور اپنے ماضی کو کہیں بہت دور چھوڑ آئے۔انہوں نے کرکٹ میں عزت بھی کمائی اور بدنامی بھی لیکن دنیائے کرکٹ میں انکی تابناکی کا ستارہ تاحال جلوہ گر ہے۔روزنامہ پاکستان اس فسوں کار کرکٹر کی ابتدائی اور مشقت آمیز زندگی کی ان کہی داستان کو یہاں پیش کررہا ہے۔