ڈوپنگ میں سب سے زیادہ منفی شہرت کینیڈا کے بین جانسن کو ملی

ڈوپنگ میں سب سے زیادہ منفی شہرت کینیڈا کے بین جانسن کو ملی

  

لندن (نیٹ نیوز) ڈوپنگ کے سلسلے میں سب سے زیادہ منفی شہرت جس کھلاڑی کو ملی وہ کینیڈا کے بین جانسن ہیں۔اولمپکس مقابلے صرف چمکتے تمغے حاصل کرنے والوں کی سنہری کارکردگی کی وجہ سے ہی یاد نہیں رکھے جاتے بلکہ یہ ان کھلاڑیوں کے تذکرے کے بغیر بھی ادھورے ہیں جنہوں نے جیت کے لیے ایسے راستے اختیار کیے جو انہیں شہرت کی بلندی کے بجائے تاریک راہوں میں دھکیل گئے۔کارکردگی میں غیرمعمولی اضافہ کرنے کے لیے ممنوعہ قوت بخش ادویات کا استعمال بین الاقوامی کھیلوں میں عام ہے اور اولمپکس بھی اس سے اپنا دامن نہیں بچا سکے ہیں۔1904 کے اولمپکس میں میراتھن کے فاتح تھامس ہکس کو ان کے کوچ نے کارکردگی میں بہتری لانے کے لیے قوت بخش ادویات فراہم کی تھیں۔1960 کے روم اولمپکس میں ڈنمارک کے سائیکلسٹ جینسن کی ریس کے دوران ہی موت واقع ہوگئی تھی ان کے بارے میں پتہ چلا کہ انہوں نے بھی کارکردگی میں اضافے کے لیے قوت بخش ادویات کا استعمال کیا تھا۔اس کے واقعے کے بعد انٹرنیشنل اسپورٹس میں ڈوپنگ کے قانون پر سختی سے عملدرآمد شروع ہوگیا اور اس کی زد میں آنے والے کھلاڑیوں پر پابندیاں عائد کی جانے لگیں۔سوئیڈن کے ہینس لجن وال پہلے اولمپیئن ہیں جن کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آیا اور انہیں 1968 کے اولمپکس میں جیتے گئے اپنے کانسی کے تمغے سے بھی محروم ہونا پڑا۔ستر کے عشرے میں مشرقی جرمنی کے تیراکوں کے بارے میں بھی پتہ چلا کہ وہ ممنوعہ قوت بخش ادویات کے سہارے کامیابیاں سمیٹتے رہے ہیں۔ہر اولمپکس میں متعدد کھلاڑی ڈوپ ٹیسٹ کے شکنجے میں کسے گئے جن میں اکثریت ویٹ لفٹرز کی رہی ہے اور جن کھلاڑیوں کو جیتے گئے گولڈ میڈلز سے محروم ہونا پڑا ہےان کی کل تعداد سترہ ہے۔ہر اولمپکس میں متعدد کھلاڑی ڈوپ ٹیسٹ کے شکنجے میں کسے گئے۔ ڈوپنگ کے سلسلے میں سب سے زیادہ منفی شہرت جس کھلاڑی کو ملی وہ کینیڈا کے بین جانسن ہیں۔1988 کے سیول اولمپکس کی سو میٹرز کے ریس کےدوران دیکھنے والوں کو ایسا لگا کہ جیسے جانسن دوڑ نہیں رہے بلکہ ہوا میں اڑتے جا رہے ہیں۔ نئے عالمی ریکارڈ کے ساتھ انہوں نے گولڈ میڈل جیتا لیکن مثبت ڈوپ ٹیسٹ نے ان سے سب کچھ چھین لیا۔امریکی خاتون ایتھلیٹ میرین جونز نے سڈنی اولمپکس میں پانچ تمغے جیتے لیکن جانتے بوجھتے کہ جو کچھ وہ کررہی ہیں اس کے نتائج خوفناک ہونگے اپنا کیریئر داو¿ پر لگا دیا۔جونز میڈیا کے سامنے آئیں تو رو پڑیں اور انہوں نے اپنے کیے کی معافی بھی مانگی لیکن یہ معافی انہیں چھ ماہ کی جیل کاٹنے سے نہ بچاسکی۔بین الاقوامی کھیلوں میں طاقت ور دواو¿ں کے استعمال کا انجام سب کو پتہ ہے لیکن پھر بھی ایسا کرنے والوں کے ذہنوں میں کہیں یہ بات تو نہیں کہ بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -