اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔قسط نمبر18

اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔قسط نمبر18
اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔قسط نمبر18

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

شہناز نے اپنا ڈرائنگ روم دکھایا۔ اس میں صرف چہرے کی آرائش کا سامان ہی ہزار دو ہزار روپیہ کی مالیت کا تھا ، ممتاز بولی ’’ یہ سب کنچن باوروں‘‘ کے پھندے ہیں۔ 

جو عورتیں پیشہ کماتی ہیں اُن کے بچے نک سک ہیں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں ، اسی موضوع پر ایک دن باتیں ہو رہی تھیں۔ نو کر بازار سے چائے لایا۔ پیالیاں ایک دوسرے سے مختلف تھیں۔ شمشاد نے دوکاندار کو لتاڑا، ممتاز نے برحستہ فقرہ سے محفل کو زعفران زار بنا دیا۔ 

’’ آپ بلاوجہ بگڑتی ہیں ، یہ بھی تو اپنے ہی بچے بچیاں ہیں۔ ‘‘ 

بعض دفعہ اس کے چھوٹے چھوٹے فقرے بڑے جاندار ہوتے ہیں اور وہ بے تکلف کہہ جاتی ہے مثلاً وہ چکلہ کی ٹکیوں کو رات کا دیپک ، طوائف کو رات کی رانی ، میراثی کو شرافت کی ہچکی ، نائکہ کو معذورت کا بول ، عشق کو تندرستی کی اُبکائی ، حُسن کو مرد کی میراث ، مناکحت کو قید با مشقت ، برات کو جنازے کی تمہید ، اولاد کو گناہ کی دستاویز ، مرد کو عیاشی کا مرقع اور عورت کو انفعالیت کی تصویر سمجھتی ہے۔ 

اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔قسط نمبر17 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

وہ مذاقاً کہا کرتی ہے اُس کا پیشہ ایک انقلابی مشن ہے اس کی ابتدا کیسے ہی ہوئی ہو لیکن طوائف نے ہر دور کی رجعتی قوتوں کو ڈبویا ہے اُس نے ہر دولت مند سے مزدور کی محنت کا انتقام لیا ہے ، جو کچھ جاگیردا رمزار عوں سے لوٹتے رہے ہیں طوائف اس معیشی استحصال کا جنسی بدلہ لیتی ہے ۔ اس نے جاگیرداری نظام کو موت کے قریب لانے میں برابر کا حصہ لیا ہے ، وہ ایک نسل کا انتقام دوسری نسل سے لیتی ہے ۔وہ جانتی ہے کہ ایک محنت کش سرمایہ دار کے لئے زائد قدر پیدا کرتا ہے اور وہ اس زائد قدر کو جنسی شبخون مار کر ہتھیالیتی ہے ۔اسی کی بدولت سرمایہ دار کی دولت گردش میں رہتی ہے ۔ 

’’ معلوم ہوتا ہے تم نے اقتصادیات بھی پڑھی ہیں‘‘ ۔۔۔ میں نے ممتاز سے دریافت کیا۔ 

’’جی نہیں ، میں نے کوئی کتاب نہیں پڑھی ، میں نے صرف انسان پڑھے ہیں رنگارنگ کے انسان ۔۔۔ مثلاً ان گھروں میں کون نہیں آتا ، سبھی آتے ہیں ، رات کی تاریکی میں آتے اور پوپھٹنے سے پہلے نکل جاتے ہیں وہ لوگ جو دن کو آنکھ ملاتے ہوئے ڈرتے ہیں ، رات کو پیشانیاں گھستے ہیں ، ہر شخص دن کے اُجالے میں طوائف کو گندی موری کہتا ہے لیکن جب رات اپنے بازو پھیلا دیتی ہے تو اس گندی موری ہی سے ان کے بھائی بند پیاس بجھانے چلے آتے ہیں۔ 

ہر رات دس بجے بعد قلعہ کی سیڑھیوں ، شاہی مسجد کی پیٹھ اور علامہ اقبالؒ کی قبر کے پاس جو پیکارڈ کاریں کھڑی ہوتی ہیں وہ ہمارے ہی شبینہ مہمانوں کی ہوتی ہیں۔ یہ وہی ہیں جن کے قبضہ قدرت میں بالواسطہ یا بلاواسطہ عنان اقتدار ہے۔ یہ جو ہمارے خلاف شور برپا ہے محض نمائشی ہے مذہب ان لوگوں میں ہوتا ہے جن کے پاس دولت نہیں ہوتی اور گناہ سے وہی لوگ ڈرتے ہیں جن کا ہاتھ نہیں پہنچتا۔ گناہ نام ہے صرف ہمارے اپنے احساسات کے نشیب و فرالز کا ، کیا دنیا میں سب سے بڑا گناہ صرف عورت کا عصمت بیچنا ہے یا اس کے علاوہ بھی ، کوئی قول یا فعل گناہ کی زد میں آتا ہے ؟ انسان انسان کا خون چوسے تو وہ سیاست ہے ۔ عوام خواص کو لوٹ لیں تو وہ دنگا ہے ، خواص عوام کو بھڑا دیں تو وہ جنگ ہے ، ملا ضمیر بیچے تووہ مصلحت ہے ، صوفی مداسنت کام لے تو وہ ریاضت ہے ، لیڈر قومی سرمایہ ہڑپ کر لیں تو وہ خدمت ہے ، لیکن عورت بالا خانے پر آبیٹھے تو سوختنی اور کشتی ہے ، گنہگار ہے ، فاحشہ ہے ، چھنال ہے ، چھلاوا ہے ، الغرض گناہ کا ایک ایسا پیکر ہے جس کی انسانیت مر چکی ہے۔!

میں یہ نہیں کہتی کہ عصمت فروشی جائز ہے ؟ عورت کی عصمت واقعی بڑی شے ہے ، اتنی بڑی شے کہ دنیا میں کوئی بھی اس کی ہم مرتبہ نہیں لیکن مردوں نے ہمیشہ دھات اور کاغذ کی فوقیت کا اس کے مقابلہ میں چرچا کیا ہے۔ ابھی تھوڑے دن ہوئے ہیں۔کوئی صاحب کہہ رے تھے ۔گنج قاروں بھی ہوتو کنجروں کے ہاں کو ڑی کوڑی لٹ جاتی ہے۔ کنچن دھن کے بغیر کسی کے نہیں، فلاں شخص کروڑ پتی یا لکھ پتی تھا، ان کے ہاں برباد ہوگیا، فلاں دوست ان کے مکانوں میں ہزارہا روپیہ خراب کر چکا ہے ، کنگال ہوگیا ہے ، طوائفیں نہیں جو نکیں ہیں ۔۔۔ میں پوچھتی ہوں ، ممتاز نے سگریٹ کا ایک لمبا کش کھینچتے ہوئے کہا۔ عورت کی عصمت زیادہ قیمتی ہے یا دھات کا سکہ اور اب تو وہ بھی انہیں رہا کا غذی نوٹ ہوگیا ہے۔ 

آپ ایک عورت سے اس کے حقوق تسلیم کئے بغیر کھیلتے ہیں ، اس کا کوئی قانونی مستولیت آپ پر عائد نہیں ہوتی۔ لیکن آپ کو شکایت ہے کہ وہ آپ کی جیب سے معاوضہ کیوں لیتی ہے ؟ کبھی کسی مرد نے سوچا کہ وہ کیا دیتا اور کیا لیتا ہے ؟ ہر طوائف کئی کئی خاندانوں کی ’’امانت دار ‘‘ ہے۔ اس کی گود میں جوبچہ یا بچے ہوتے ہیں وہ کسی نہ کسی معزز باپ ہی کی اولاد ہوتے ہیں، ان کی مائیں ان کے باپوں کو خوب جانتی ہیں اور ان کے باپ بھی انہیں جانتے ہیں لیکن سرکار کے ہاں ولدیت کے خانہ میں ماں ہی کا نام لکھا جاتا ہے۔ 

یہاں کوئی شخص اپنی جائز کمائی نہیں لٹاتا ، اور حلال کی کمائی کبھی سینکڑوں سے آگے بڑھ نہیں پاتی ، جو لوگ یہاں آتے ہیں ان کے روپیہ پر ان کی مہر ملکیت ضرور ہوتی ہے ، لیکن ان کا روپیہ ، ان کا روپیہ نہیں ہوتا وہ یا لوٹ کا ہوتا ہے یا چور بازاری کا ، یا غریب سے کمایا ہوا اور یا کسی نہ کسی واسطہ سے ہتھیایا ہوا ۔۔۔ لٹنا ،لُٹانا ، ہارنا ، گنوانا ، اس قسم کے جتنے لفظی مغالطے ہیں وہ سب مردوں کی ذہنی قسطائیت کا نتیجہ ہے۔ کوئی چیز حرام ہے تو وہ لوٹ کا روپیہ ہے نہ کہ عورت کی عصمت مرد کیا دیتا ہے سکہ؟ اور عورت کیا دیتی ہے عصمت ؟ عجیب بات ہے کہ عصمت پر حرام کی مہر لگ جاتی ہے اور سکہ حلال کہلاتا ہے۔ ‘‘

میں نے کہا’’ ممتاز! تم ایک پڑھی لکھی اور تجربہ کار لڑکی ہو، اس لئے تمہاری زبان فرفر چلتی ہے لیکن کیا تمہاری ہی منطق سے یہ ثابت نہیں ہوتا تاکہ عصمت کا جو ہر بیچنے کی چیز نہیں اور تمہارے ہاں لوگوں کی جیبیں کُترلی جاتی ہیں‘‘ 

ممتاز بولی ’’ بس مجھے اس آخری فقرے پر اعتراض ہے یہ کرنا ٹھیک نہیں ، یوں کہیے خالی ہوجاتی ہیں اگر آپ اپنے نفس کو تسلی دینا چاہتے ہیں تو یہ کہہ لیجئے‘‘ 

اتنے میں اس کی بعض سہیلیاں آگئیں اور وہ اپنے مخصوص فقروں سے کھیلنے لگیں اس پر چوٹ ، اُس پر چوٹ ، کسی پر پھبتی ، کسی پر طعن ، کسی کو گالی ، کسی پر طنز اور کسی سے شوخی۔ جب یہ اکٹھی ہوتی ہیں تو اُن کا مذاق مردوں کی سطح پر آجاتا ہے۔

صفیہ نے کہا’’ ممتاز، رات دیوالی ہے کہو کیا ارادہ ہے ؟ تاشین منگوالی ہیں ، کوئی پنچھی نہ آیا ، تو پھر روپیہ پوائنٹ‘‘ 

ممتاز نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا’’ خال خال رنڈیاں ہی پس انداز کرتی ہیں ورنہ اُن کی کمائی جس رستے سے آتی ہے اس راستے میں نکل جاتی ہے ، کچھ لگے بندھے لے جاتی ہیں کچھ نشوں کی نذر ہوجاتا ہے ، کچھ اسراف کے چولہے میں پھک جاتا ہے ، کچھ جوئے میں ہر جاتا ہے اور جو تھوڑا بہت جمع ہوجاتا ہے وہ رسموں کے پیٹ میں اترجاتا یا بیاہ شادیوں مین تباہی مچتی ہے، کنچنوں کے ہاں خوشی کی رسمیں بڑے ٹھاٹھ سے منائی جاتی ہیں‘‘ 

اس نے بتایا’’ ابھی حال ہی میں الٰہی جان نے اپنے بیٹے کی مونڈن کرائی اور ہفتہ بھر مجرا ہوتا رہا، ایک خوشی میں ساری برادری کو شریک ہونا پڑتا ہے ، سب ناچتی اور گاتی ہیں ، ان کے ’’ ملاقاتی‘‘ انہیں ’’ سلامیاں‘‘ دیتے ہیں اور اس طرح ہزار ہا روپیہ فراہم ہوجاتا ہے ۔جس گھر میں خوشی ہو، وہاں کئی دن تک مختلف قسم کے کھانے پکتے اور ایک ایک وقت میں سینکڑوں آدمی شکم سیر ہوتے ہیں۔ 

ہجرووالیوں کی شادی میں دس دن تک ناچ گانے کا بازار گرم رہا، ہر روز طرح طرح کے کھانے پکتے رہے، مختلف رسمیں منائی گئیں ، دورسمیں بڑی ہی عجیب ہوتی ہیں ، ایک تو سندیسہ کی رسم۔ جب برادری کی عورتیں جلوس کی شکل میں مختلف گھروں کو بلاوا دینے جاتی ہیں اور ہر گھر فواکہات و مشروبات سے تواضع کرتا ہے۔ دوسری گھڑا گھڑولی کی رسم ، جب برادری کی رنڈیاں ایک دوسرے یر رنگ پھینکتے ہوئے قریبی کنویں تک جاتیں اور وہاں پانی کے ڈول نکالتی ہیں۔ ہر شب مجرا ہوتا اورگئی رات تک رہتا ہے ، ہر روز مختلف اللوں، کھانے تیار ہوتے ہیں۔ پلاؤ اور پھر اُن کی قسمیں ، موتی پلاؤ، کو کو پلاؤ ، چنبیلی پلاؤ ، نور پلاؤ ، گلزار پلاؤ ، انار دانہ پلاؤ ، نورتن پلاؤ وغیرہ، اس کے علاوہ متنجن ، سفیدہ، شیر برنج ، شیر مال ، قورمہ ، شامی کباب ، مرغ ، مرغا ، مرغابیاں ، بٹیر ، مربے ، اچار ، چٹنیاں ، گوشت اور ان کی مختلف قسمیں بالخصوص پالک گوشت۔جب شادی ہوچکتی ہے تو دلہا والے برادری کی عورتوں کو ارمغانی جوڑے دیتے ہیں ، ہجرووالیوں نے تو اب کے فی گھر ایک ریشمی جوڑا ایک ایک سونے کی انگوٹھی اور ایک ایک چاندی کی پلیٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے‘‘ 

’’ یہ سب دولت کہاں سے آتی ہے ؟‘‘

’’ کہہ چکی ہوں کہ پنچھیوں کی جیب سے ، جو لوگ نو گرفتار ہوتے ہیں ہم لوگ انہیں پنچھی کہتے ہیں جو رسم وراء میں پختہ ہوجاتے ہیں انہیں طائر آ ہوتی۔ ‘‘ 

’’ یہ آ ہوتی کیا ہے ؟‘‘ 

’’ لاہوتی کا معکوس اور میرے ذہن کی ایجاد ہے جو محض حاشیہ نشین ہوتے ہیں صرف نظر باز ، ان کو کنجروں کی اصطلاح میں چامک کہتے ہیں۔ ‘‘ 

’’ اور یہ شادیاں کہاں ہوتی ہیں ؟‘‘ 

’’اکثر شادیاں باہر ، غربا کے گھرانوں میں ہوتی ہیں ۔کچھ آپس میں بھی کر لیتے ہیں۔‘‘ 

’’ آپس میں ؟ ‘‘ 

’’ جی ہاں ! ۔۔۔ خاندانی چوباروں میں دو طرح کی عورتیں بیٹھتی ہیں۔ ایک وہ جو بہو کی بیٹیاں ہوتی ہیں۔ مثلاً بھائی یا باپ کی بیٹیاں لیکن ان کی ماں جو بہو کہلاتی ہے سخت پردے میں رہتی ہے ۔ اور ہمارے ہاں بہو کی بڑی عزت کی جاتی ہے ۔ بہو بوڑھی ہوکر بھی پرائے مرد کے سامنے نہیں جاتی ۔۔۔ دوسری وہ لڑکیاں جو طوائف کے بطن میں ہوتی ہیں، اور ان میں شاذونادر ہی کوئی لڑکی بیاہی جاتی ہے۔ ‘‘ 

’’ یہ بازاریاں ، جو خدا جانے کہاں کہاں سے آمری ہیں ، برادری کا ان سے کوئی تعلق نہیں، ہم انہیں اچھوت ہی سمجھتے ہیں انہوں نے ہمارے پیشہ کی ’’لاج ‘‘ گنوادی ہے ۔‘‘ 

’’ تم نے کہا تھا کہ تمہارے دولت مسرفانہ طور پر ضائع ہوجاتی ہے ، یہ اسراف کون کرتا ہے ؟ ‘‘ 

’’ کچھ تو رنڈیاں عیبی ہوجاتی ہیں ، مثلاً نصف فیصد کے تو شراب منہ لگی ہوتی ہے ۔ تقریباً نوے فیصد سگریٹ پھونکتی ہیں ان کی مائیں جو جواب نائکہ ہوچکی ہیں انہیں جوئے کا لپکا ہے ۔ایک ایک نشست میں سینکڑوں ہاردیتی ہیں پھر جب ہر جاتی ہیں تو شراب پینے لگتی ہیں، اور اس پر خاندان کے مرد ہیں جو پانچوں عیب شرعی ہوتے ہیں ، اس سے قطع نظریہ صاحبزادیاں خود بھی جوا اور ریس کھیلتی ہیں، ان کے نزدیک پیسہ اور سگریٹ کا دھواں یکساں قیمت رکھتے ہیں۔‘‘ 

’’یہ صاحبزادیاں ‘‘؟ قاضی نے تعریضاً کہا۔ 

’’ جی ہاں صاحبزادیاں ! ایک طوائف ہر دولت مند کے ہاتھ عصمت تو بیچ سکتی ہے لیکن گود نہیں ، ان کی گود میں جوبچے ہوتے ہیں آپ ان کے ناک نقشہ پر غور کریں تو ان سے بڑے بڑوں کی غمازی ہوتی ہے ۔ یہ تمام بازار شرفاہی کی کیاریوں سے بھرا پڑا ہے ۔ ‘‘

افسوس بے شمار سخن ہائے گفتنی 

خوفِ فسادِ خلق سے ناگفتہ رہ گئے ‘‘ 

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں )

مزید : کتابیں /اس بازار میں