برطانیہ نے ترکی کا ہاتھ تھام لیا

برطانیہ نے ترکی کا ہاتھ تھام لیا
برطانیہ نے ترکی کا ہاتھ تھام لیا

  

برطانوی وزیراعظم نے حال ہی میں ترکی کا ایک روزہ دورہ کیا ہے۔ جس کی سب سے اہم بات پانچویں نسل کے لڑاکا طیارہ کی مشترکہ تیاری کے معاہدہ پر دستخط کرناہیں۔ ایک ملین پاؤنڈ سٹرلنگ کے اس معاہدہ کے تحت ترکی اور برطانیہ جدید ترین لڑاکا طیارہ بنائیں گے۔ ٹی ایف ایکس نامی اس طیارہ کو مستقبل کے دفاعی ماحول میں بہت اہیت دی جا رہی ہے کیونکہ برطانیہ آئندہ چند سالوں میں ترکی کو دفاعی مضوعات فراہم کرنے والا نمبر ون ملک بن جائے گا۔ ترکی یورپی یونین کا جس ممبر نہیں ہے۔ جبکہ برطانیہ نے بھی یورپی یونین سے علیحدگی اختیار کرلی ہے۔ دونوں ممالک نیٹو کے ممبران ہیں۔ ترکی افرادی لحاظ سے نیٹو میں امریکہ کے بعد سب سے بڑا ملک ہے۔

ترکی جغرافیائی لحاظ سے یورپ کے دروازے پر موجود ہے اور تاریخی لحاظ سے یورپ میں بہت طاقتور رہا ہے۔ روسی طیارہ کو مار گرائے جانے کے بعد روس اور ترکی کے معاملات بھی بہت سختی کا شکار ہو گئے تھے۔ اگرچہ طیب اردگان نے شدید سیاسی بحران اور بغاوت کے باوجود روس سے تعلقات کو بہت حد تک نارمل کیا۔ لیکن روسی سفارت کار کے قتل نے پھر سے ایک نئی مصیبت کھڑی کردی ہے۔ ان تمام تر حالات کے باوجود ترکی سیاسی اور خارجی طور پر بہت متحرک انداز میں کردار ادا کر رہا ہے۔

ترکی اور برطانیہ کی قربت کی کئی وجوہات ہیں۔ برطانیہ یورپ میں اپنی حیثیت کو جدا گانہ ثابت کرنا چاہتا ہے۔ تا کہ اُس کی معیشت پر جو اثرات یورپی یونین کو چھوڑنے سے پڑے ہیں اُن سے نکلا جا سکے۔ برطانوی معیشت کو اس وقت شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرپ یورپی یونین پر شدید تنقید کر چکے ہیں اور مستقبل میں یورپ اور امریکہ کی راہیں جدا ہوتی نظر آ رہی ہیں۔ نیٹو کا مستقبل بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ اور یہاں سب سے بڑے خطرہ کی گھنٹی روسی دباؤ بھی ہے جو اُس نے یورپ کے کئی علاقوں پر برقرار رکھا ہوا ہے۔ روسی طیارے ناروے، آئس لینڈ، پولینڈ، ہنگری، اور برطانیہ کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کر چکے ہیں ایسے میں یورپ میں حالات کچھ آسان نظر نہیں آتے۔ امریکہ کی بدلتی ہوئی پالیسیاں خود امریکی مستقبل کیلئے خطرہ نظر آ رہا ہے۔ ایسے میں برطانیہ کا میدان میں نکل کر اپنے حلیف بنانا وقت کی ضرورت نظر آتا ہے۔

ترکی فوجی لحاظ سے بہت مضبوط ملک ہے۔ اس کی بحریہ، فضائیہ اور زمینی فوج کی کل تعداد دس لاکھ کے قریب ہے جبکہ اتنے ہی ریزرو بھی موجود ہیں۔ اس وقت ترکی کی دفاعی صنعت زبردست کامیابی حاصل کر چکی ہے۔ 2003ء تک ترکی افواج کے ہتھیاروں کیلئے ملکی طور پر صرف 25 فیصد پرزے تیار ہوتے تھے جو اب 60 فیصد تک ہو چکے ہیں۔ ترکی کی طیارہ سازی کی صنعت سالانہ 15 سے 2 ارب ڈالر زرمبادلہ کما رہی ہے۔ ترکی اپنے ملک کیلئے تقریباً سبھی ہتھیار بنا رہا ہے۔ اور صرف دس فیصد بیرونی ممالک سے منگوائے جا رہے ہیں۔ ترکی ملکی طور پر ایف 16 سی لائس کے تحت تیار کر رہا ہے۔ ملک میں ایف 35جیسے جدید طیارے بھی جلد تیار ہونے لگیں گے۔ ہیلی کاپٹر، آرٹلری، ٹرانسپورٹ طیارے، بحری جنگی جہاز اور میزائل سبھی ملکی طور پر تیار کئے جا رہے ہیں۔ جن میں ملکی ڈیزائن اور لائسنس سبھی شامل ہیں۔

یورپ آئندہ سالوں میں نئی تبدیلیوں کا شکار ہوتا نظر آ رہا ہے۔ایسے میں ترکی اور برطانیہ کی قربت ضرورت اور مستقبل کی تیاری سمجھی جا سکتی ہے کیونکہ اب امریکی اثرورسوخ کے علاوہ یورپ اپنے مستقبل کیلئے خود فکر مند ظر آ رہا ہے۔ مسلم دنیا میں جس تیزی سے حالات خراب کئے گئے تھے اس کا شدید اثر اب یورپ اور امریکہ میں بھی محسوس ہو رہا ہے۔ اسی لیے اب ماضی کے کئی دشمن دوست بنتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -