عظیم ایثار

عظیم ایثار

  

عظیم صاحب اپنی دکان کے اندر بنے ہوئے چھوٹے سے کمرے میں دکان کا حساب کتاب کررہے تھے کہ فہیم اندر داخل ہوا۔وہ ان کا بڑا بیٹا تھا۔اس کے چہرے سے ظاہر ہورہا تھا جیسے وہ کوئی اہم بات بتانے کے لیے بے چین ہے۔

عظیم صاحب کو کسی کی آمد کا احساس ہوا تو انھوں نے نظریں اْٹھائیں۔

”ابو!ابو!بابر نے دکان سے پیسے چرائے ہیں،میں نے اسے سوسوروپے کے کئی نوٹ جیب میں ڈالتے دیکھا ہے۔“فہیم نے آہستہ آواز میں کہا۔

”اوہ۔“عظیم صاحب کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔

فہیم نے کہا:”ابو!آپ کی ہدایت کے مطابق میں نے اسے رنگے ہاتھوں نہیں پکڑا اور نہ اس سے کچھ کہا ہے۔“

”اچھا،تم اپنا کام کرو اور اس واقعے کا ذکر ابھی کسی سے مت کرنا۔

میں بابر کو اچھی طرح سبق سکھاؤں گا۔“عظیم صاحب بولے۔

”ہاں ابو!اسے سبق سکھانا بہت ضروری ہے۔‘’فہیم نے ان کی ہاں میں ہاں ملائی۔فہیم چلا گیا تو عظیم صاحب اپنے کام میں مصروف ہو گئے۔

بابر نے چوری کیوں کی،میں نے تو اس پر اعتبار کرکے ملازم رکھا تھا۔کام کرتے ہوئے انھوں نے سوچا۔

کام نمٹانے کے بعد وہ دکان میں آئے۔چاروں ملازم اپنا کام کررہے تھے اور فہیم انھیں ہدایات دے رہا تھا۔وہ چلتے چلتے بابر کے پاس آئے،جو ایک گاہک کے سامان کا حساب لگا رہا تھا۔

”بابر!“انھوں نے زور دار آواز میں کہا۔وہ ان کی آواز سن کر چونک گیا۔

”جی بھائی!“اس نے فوراًہی جواب دیا۔عظیم صاحب کو تمام ملازمین بھائی کہتے تھے۔

”مجھے تم سے ایک کام تھا،میں کچھ دیر میں تمھیں بلواتاہوں۔“بابر نے ایک نظر عظیم صاحب کے چہرے پر ڈالی اور دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔

دکان کا وقت ختم ہوا تو اس نے پیسے گنے اور انھیں لے کر عظیم صاحب کے پاس آیا۔

”بھائی جی!کیا آپ کو مجھ سے کچھ کام تھا؟“اس نے عظیم صاحب کو پیسے دیتے ہوئے کہا۔

وہ بولے:”نہیں تم کام کے دوران اونگھ رہے تھے،اس لیے تمھیں آواز دی تھی۔اپنی نیند پوری کر لیا کرو۔“

”اچھا بھائی!آئندہ آپ کو شکایت کا موقع نہیں دوں گا۔“اس نے جواب دیا اور باہر کی طرف قدم بڑھائے۔

عظیم صاحب کی دکان بہت بڑی تھی۔ضرورت کی ہر چیز یہاں میسر تھی۔اس وجہ سے دکان پر گاہکوں کا بے پناہ رش ہوتا تھا۔دکان میں چار ملازم کام کرتے تھے۔فہیم بھی ملازموں کا ہاتھ بٹانے کے لیے دوپہر میں آجاتا تھا۔بابر کو ان کے پاس ملازمت کرتے ہوئے تیسرا مہینہ تھا۔

عظیم صاحب اپنے ملازمین کا بھر پور خیال رکھتے تھے،ملازم بھی ان سے بہت خوش تھے،مگر عظیم صاحب یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ بابر نے ایسا کیوں کیا۔اگر فہیم نے اسے چوری کرتے نہ دیکھا ہوتا تو وہ کسی کی بات کا اعتبار نہ کرتے۔

عظیم صاحب کچھ دیر بابر کے متعلق سوچتے رہے،پھر انھوں نے دکان میں سے کچھ سامان ایک ٹوکری میں رکھا،ایک لفافے میں ہزار ہزار روپے کے کئی نوٹ ڈال کر لفافہ جیب میں رکھ لیا اور دکان سے باہرنکل آئے۔اب ان کا رْخ شہر کی کچی آبادی کی طرف تھا۔تقریباً آدھے گھنٹے بعد وہ ایک گھر کے سامنے کھڑے تھے۔ابھی وہ دستک دینے کا ارادہ ہی کررہے تھے کہ ایک عورت کی تیز آواز سنائی دی:”پرائے مال پر نظریں رکھنے سے بہتر تھاکہ آپ آصف سے مزید وقت لے لیتے۔“

”میں آصف کے پاس گیا تھا،مگر وہ تو کوئی بات سننے پر ہی آمادہ نہیں تھا۔اس نے مجھ سے یہی کہا کہ کل ہر حالت میں پیسے مل جانے چاہییں،اسی لیے مجبوراً چوری کرنی پڑی۔“عظیم صاحب نے بابر کی آواز سنی۔

بابر کی بیوی نے کہا:”چوری،چوری ہوتی ہے۔اگر آپ پکڑے جاتے تو آپ کی ملازمت بھی چلی جاتی۔“

”مجبوری کی وجہ سے میں نے زندگی میں پہلی بار چوری کی ہے،مگر یقین رکھو کہ میں یہ پیسے لوٹا دوں گا۔اللہ کو منہ دکھانا ہے۔“بابر کی آواز آئی۔

اب عظیم صاحب نے دروازے پر دستک دی۔دروازہ کھلاتو انھیں بابر کی صورت نظر آئی۔

”بھائی جی!“وہ انھیں اپنے گھر کے باہر دیکھ کر پریشان ہو گیا تھا۔اس کا دل دھک دھک کرنے لگا۔کیا انھیں میری چوری کی خبر ہو چکی ہے۔اس نے دل میں سوچا۔اب وہ خود پر ملامت کررہا تھا کہ اس نے چوری کیوں کی۔وہ دھڑکتے دل کے ساتھ انھیں گھر میں لے آیا۔عظیم صاحب گھر میں آئے تو اس کی حالت دیکھ کر سوچا،تو میرا فیصلہ ٹھیک ہی تھا۔

کچھ دیر اس سے باتیں کرنے کے بعد وہ بولے:”بابر!یہ سامان رکھ لو۔“ساتھ ہی اسے جیب سے لفافہ نکال کر پکڑایا۔بابر نے دیکھا،سامان میں روز مرہ کا سوداسلف تھا۔

”سیٹھ صاحب!یہ سب کیوں؟“بابر کچھ نہ سمجھ سکا۔

”بابر!تم دکان میں پریشان نظر آرہے تھے۔بہتر ہوتاکہ تم اپنی پریشانی کا ذکر مجھ سے کرتے،خیر میں نے سوچا،نئے ملازم ہونے کی وجہ سے کچھ کہنے سے گھبرارہے ہو،جب مجھے کچھ نہ سوجھا تو تمھارے جانے کے بعد کچھ سامان اس ٹوکری میں رکھا اور تمھارے پاس چلا آیا اور ہاں،اس لفافے میں کچھ رقم ہے،جوتمہارے کام آئے گی۔آئندہ اگرکبھی ضرورت ہو تو بلا جھجک مجھے کہہ دینا۔“عظیم صاحب بولتے چلے گئے۔بابر حیرانی سے انھیں دیکھ رہا تھا،انھوں نے اپنے نام کا حق ادا کر دیا تھا۔

عظیم صاحب رخصت ہوئے تو بابر نے رقم گنی وہ اس کی چوری کیے ہوئے پیسوں سے کہیں زیادہ تھی۔

اس کی نظریں شرمندگی سے جھک گئیں۔

اگلے دن بابر نے چوری کی ہوئی رقم عظیم صاحب کو دی،پہلے تو انھوں نے حیرت سے رقم کو دیکھا،پھر پوچھا:”یہ رقم مجھے کیوں لوٹا رہے ہو؟“

”سیٹھ صاحب!زندگی میں پہلی بار چوری کی تھی،مگر اللہ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے چور بننے سے بچا لیا۔اْمید ہے کہ آپ بھی مجھے معاف کردیں گے۔“اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

”کوئی بات نہیں،انسان غلطی کرکے ہی سیکھتا ہے۔“

فہیم حیرت سے ان دونوں کی باتیں سن رہا تھا،جسے اصل واقعے کا علم نہ تھا۔عظیم صاحب کے کردار نے بابر کو نہ صرف چور بننے سے بچا لیا تھا،بلکہ اب انھیں ایک وفا دار ملازم بھی مل گیا تھا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -